کعبے پر پڑی جب پہلی نظر (5)


حسب معمول تہجد سے کچھ دیر پہلے میری آنکھ کھل گئی۔ ابھی خیمے میں سبھی سو رہے تھے۔ میں بیڈ سے اٹھ کر خیمے سے باہر آیا۔ طہارت خانہ بالکل خالی تھا۔ آرام سے غسل کیا اور تہجد کی نماز ادا کی۔ خیمے میں اب کافی لوگ بیدار ہو گئے تھے۔ فجر کی نماز سب کے ساتھ باجماعت ادا کی پھرآکر بستر پر لیٹ گیا۔ دو تین گھنٹے کی نیند کے بعد بیدار ہوا۔ جبار صاخب مکتب سے سب کے لئے ناشتہ لے کر آئے تھے۔ سب نے ناشتہ کر لیا تھا اور میرے لئے انہوں نے علیحدہ رکھا ہوا تھا۔

میں نے ناشہ کیا جبار صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ آج ہم نے طواف زیارت کے لئے روانہ ہونا تھا۔ ہم نے پروگرام بنایا کہ ہم رمی سے فارغ ہو کر وہاں سے عزیزیہ اپنی بلڈنگ میں جائیں گے۔ نہا دھو کر نئے کپڑے پہن کر حرم شریف جائیں گے۔ اور پھر طواف زیارت کر کے حرم سے سیدھا منی واپس آ جائیں گے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا۔ شاہ جی آپ جو کچھ کریں گے ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے ساتھ اکٹھے چلیں گے۔

زوال سے ایک گھنٹہ پہلے آٹھ بندوں پر مشتمل ہمارا قافلہ جمرات کی طرف روانہ ہوا۔ مجید صاحب اور ان کی بیگم۔ ڈاکٹر صاحب اپنی والدہ اور بیگم کے ہمراہ ہمارے ساتھ تھے۔ ہم خیمے سے نکل کر مین سڑک پر پہنچے۔ ہمارے ساتھ دو وہیل چیئرز تھیں ایک پر میری خاتون خانہ اور دوسری پر ڈاکٹر ناصر علوی صاحب کی والدہ محترمہ بیٹھی تھیں۔ آ ج ہم اکٹھے چلنے کی پوری پلاننگ کر کے روانہ ہوئے تھے اس لئے سب ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ ہم چھتی ہوئی سڑک پر آہستہ آہستہ چلتے، رکتے زوال سے چند منٹ پہلے جمرات کمپلیکس کے پاس پہنچ گئے۔

پولیس والوں نے جمرات جانے والا راستہ بند کیا ہوا تھا جو زوال کا وقت ختم ہونے کے بعد کھلنا تھا۔ سعودی پولیس کے علاوہ ہزاروں فوجی اور شاہی فوج کے دستے حج کے دنوں میں ڈیوٹیاں دیتے ہیں۔ وہ سارے راستوں کو اس طرح کنٹرول کرتے ہیں کہ کسی جگہ پربھیڑ اکٹھی نہ ہو۔ زوال کے بعد پولیس نے جمرات جانے والے راستہ جیسے ہی کھولا سارہ ہجوم ایک دم چل پڑا۔ ہم تھوڑا پیچھے تھے اس لئے ہمارے پہنچنے تک لوگوں کا پہلا ریلہ گزر جانے کے بعد رش کم ہوگیا تھا۔ ہمارے لئے راستہ تھوڑا آسان ہو گیا تھا۔ ہم نے دونوں وہیل چیئرز شیطان کے بیس فٹ لمبے پلر کے بالکل نزدیک کھڑی کیں تا کہ خواتین خود آسانی سے اپنے حصے

کی کنکریاں شیطان کو مارسکیں۔ تینوں شیطانوں کر کنکریاں مارکر ہم کمپلیکس سے باہر نکلے۔ یہاں سے ایک راستہ بائیں مڑتا تھا جو ہماری رہائش گاہ عزیزیہ کی طرف جاتا تھا۔ لیکن ہم غلط فہمی میں دائیں طرف جانے والے رستے پر مڑگئے تاکہ وہاں سے عزیزیہ جانے کے لئے ہمیں کوئی گاڑی مل جائے۔ ہمیں دائیں جانب جانے والی سڑک پر کوئی ٹیکسی۔ کار یادوسری ٹرانسپورٹ نظر نہیں آئی۔ اب ہم سوچ میں پڑھ گئے کہ کیا کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم عزیزیہ اپنی بلڈنگ میں پہنچیں اور وہاں سے ہمیں حرم شریف کے لئے ٹرانسپورٹ نہ ملے تو بڑی پرابلم ہو جائے گی۔

حج کے دنوں میں ویسے بھی ٹیکسی ملنا بہت ہی مشکل ہوتی ہے اور پھر ان کے کرایے بھی آسمانوں سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ اب کیا کریں تو انہوں نے کہا جیسا آپ کریں گے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ سب نے مل کر یہی فیصلہ کیا کہ ابھی ہم سیدھا حرم شریف میں چلتے ہیں۔ اور یہ فاصلہ ہمیں آج پھر پیدل طے کرنا تھا۔ ایک بار بیٹی اور ڈاکٹر صاحب کی خاتون خانہ کا امتحان تھا۔ اور میں ان دونوں کی ہمت کی داد دیتا ہوں۔

انھوں نے کسی بھی لمحہ اپنی تھکن کا احساس نہیں ہونے دیا۔ ۔ اس فیصلے کے بعد ہم حرم شریف کو جانے والی سڑک پر ہو لئے۔ ہمارے سا تھ اس پیدل سفر میں ہزاروں دوسرے حاجی صاحبان بھی ہمارے ساتھ جانب حرم رواں تھے۔ تقریباً آدھا کلو میٹر دھوپ میں چلنے کے بعد پھر چھتی ہوئی سڑک آ گئی جو صرف پیدل چلنے والوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ سایے میں آ جانے سے کچھ راحت کا احساس ہوا۔ ہم نے سوئے حرم اپنا سفر جاری رکھا۔ کچھ کچھ دیر بعد ہم رک کر تھوڑا سا سستا لیتے اور پھر چل پڑتے۔

مجید صاحب شوگر کے مریض تھے وہ زیادہ تھک جاتے تھے ایک جگہ وہ تھک کر بیٹھ گئے تو حمیرا میری خاتون خانہ نے کہا کہ میں کچھ دیر پیدل چل لیتی ہوں آپ مجید صاحب کو وہیل چیئر پر بٹھا لیں۔ یوں ہم نے ان کو بٹھا کر ایک میل کا سفر طے کیا۔ چلتے چلتے اچانک ڈاکٹر صاحب کو والدہ محترمہ کی وہیل چیئر سے ٹھو کر لگی، ان کے پاؤں کے انگوٹھے کا ناخن ٹوٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ ہم سب رک گئے۔ ایک ٹشو سے انہوں نے خون صاف کیا۔

کچھ دیر رکنے کے بعدہم نے پھر سفر جاری کیا۔ چند سو فٹ کے فاصلے پر ہمیں ایک ایمبولینس نظر آئی۔ سعودی گورنمنٹ کی بہت ساری سرکاری ایمبولینس حج کے دوران مختلف مقامات پر ڈیوٹیاں دیتی ہیں جو حجاج اکرام کو ہر طرح کی طبی امداد بہم پہنچاتی ہیں۔ ایمبولینس کے پاس پہنچ کر ہم رکے۔ ایک پیرامیڈکس نے ڈاکٹر صاحب کے انگوٹھے کا جائزہ لیا اور اچھی طرح صاف کر کے پٹی کر دی۔ کچھ درد کم کرنے والی گولیاں دیں جو انھوں نے پاس رکھ لیں۔

اس دوران ہم لوگ سڑک کے کنارے بیٹھ گئے۔ یہاں پہلے ہی ایک حاجی صاحب ایک خاتون کے ساتھ براجمان تھے۔ بیٹی نے پانی کی بوتلیں ان کو دیں اور ان سے تعارف بھی کیا۔ بہت خوبصورت گوری چٹی خاتون تھیں اور ان کے میاں ساتھ تھے۔ انہی کی طرح خوبصورت۔ ان کی مہندی لگی خوبصورت داڑھی تھی۔ ان کی تعلق انڈین مقبوضہ کشمیر کے شہر راجوری سے تھا۔ ہمارا تعلق کشمیر سے سن کر ان کو بہت خوشی ہوئی۔ پھر تو وہ ہمارے ساتھ گھل مل گئے۔ بہت ساری باتیں کشمیر اور ان کے شہر راجوری کے بارے میں ہوئیں۔

1947 میں کافی لوگ راجوری سے ہجرت کر کے میرپور اور دوسرے شہروں میں آباد ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے کافی سارے رشتہ دار ہمارے شہرمیرپور میں بستے ہیں۔ انوں نے کچھ رشتہ داروں کے نام لئے ان کی میں جانتا بھی تھا۔ ان سے کشمیر اور ان کے شہر کے بارے میں اور بہت ساری باتیں کرنے کو جی چاہتا تھا لیکن ہم نے ابھی طواف زیارت بھی کرنا تھا اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی ان سے رخصت ہو ئے اور اپنا سفر پھر شروع کیا۔ ایک گھنٹہ مزید چلنے کے بعد ہم ایک سرنگ کے راستے حرم شریف کے نزدیک پہنچے۔

ہم باب عبداعزیز کے نزدیک سرنگ سے باہر نکلے۔ اس طرف ابھی توسیع کا کام جاری تھا۔ ایک راستے سے جوں ہی ہم اندر داخل ہوئے تو ساتھ ہی طہارت خانے نظر آئے۔ میں نے اور مجید صاحب نے یہاں وضو کر لیا۔ پھر ہم چکر کاٹ کر باب عبداعزیز کی طرف آئے جہاں خواتین کے لئے طہارت خانے بنے ہوئے تھے۔ خواتین چونکہ رہائش پر نہیں جا سکی تھیں اس لئے وہ سب طہارت کے لئے وہاں چلی گئیں اور ہم باب عبدالعزیز کے باہر بیٹھ کران کا انتظار کرنے لگے۔

بار بار شرطے آ کر ہمیں وہاں سے اٹھنے کا کہہ رہے تھے۔ ہم تھوڑی دیرادھر ادھر گھوم کر پھریہیں آ جاتے تھے۔ خواتین کے واپس آنے پر ہم باب عبداعزیز سے حرم میں داخل ہونے لگے تو ہمیں پولیس والوں نے روک دیا اور کہا کہ مطاف میں رش زیادہ ہے اس لئے وہیل چیئر والے پہلی منزل پرطواف کریں گے۔ ہم وہاں سے پہلی منزل پر گئے تو وہاں بھی رش تھا لیکن کافی تعداد میں وہیل چیئرز والے بھی موجود تھے۔ ہم آٹھوں لوگ ساتھ ساتھ طواف شروع کیا۔

طواف زیارت کے دنوں میں بیک وقت حرم میں پندرہ سے بیس لاکھ حاجی موجود ہوتے ہیں۔ ان دنوں میں مطاف۔ پہلی۔ دوسری منزل اور چھت حجاج سے پر ہوتی ہے۔ سب لوگ اپنے آپ میں مگن اللہ کے گھر کے طواف میں مصروف دعاؤں کا ورد کر رہے ہوتے ہیں۔ مطاف میں طواف کرنا نسبتاً آسان اور فاصلے میں کم ہوتا ہے۔ آپ کو خانہ خدا کو متعدد بار چھونے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ وہیل چیئر کے ساتھ باقی حاجی صاحبان کو تکلیف ہوتی ہے اس لئے ان کو پہلی منزل پر رکھا جاتا ہے۔ پہلی منزل پر فاصلہ نسبتاً زیادہ طے کرنا پڑتا ہے۔ (جاری ہے )