نصابی کتب اور سیاسی شعور


ہمارے سماج میں اگر کوئی انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، سیاسی حقوق کی بات کرتا ہے، بنیادپرستی اور انتہاپسندی کے خلاف بات کرتا ہے، کلچر کے ظالمانہ پہلوؤں کی مخالفت کرتا ہے، تو وہ سماجی طور پر بھی اور ریاستی طور پر بھی قابل عتاب و سرزنش گردانا جاتا ہے، اس کو بیرونی قوتوں کا ایجنٹ سمجھا جاتا ہے، اس کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس کو سماجی و ریاستی دباؤ کے ذریعے اپنے پرامن موقف پر بھی معذرت خواہانہ رویہ رکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے، حالانکہ یہی لوگ ایک پرامن اور خوشحال معاشرے بنانے کے لئے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

ریاست اپنے اداروں اور ریاستی مشینری کے ذریعے عوام کو کنٹرول کرنے کے لئے مختلف اقدامات کرتی ہے جس میں تعلیم کے ذریعے ذہن سازی سے لے کر سیکیورٹی اداروں کے اقدامات تک سب کچھ شامل ہے۔ ریاست تعلیم اور میڈیا کے ذریعے ایسے رضاکار پیدا کرتی ہے جو ریاستی بیانیئے سے مطابقت نہ رکھنے والوں کے لئے زندگی اجیرن بنانے کے لئے ہر وقت تیار نظر آتے ہیں۔

جس ریاست کی بنیاد تعصب اور نفرت پر ر کھی گئی ہو، جہاں پر تعصب اور نفرت کو بنیادیں فراہم کرنے کے لئے نصابی کتابوں میں تاریخ کو مسخ کیا گیا ہو، جہاں پر آزادی کے لئے لڑنے والے ہیرو غدار قرار پائے ہوں، جہاں پر بیرونی قوتوں کی ایما پر بنیاد پرستی اور شدت پسندی کو فروغ دینے یا اقتدار تک پہنچنے کے لئے انتہا پسندوں کے دباؤ میں آ کر یا اپنی نالائقی کو چھپانے کے لئے نصاب ترتیب دیا جاتا ہو وہاں پر تعلیمی نصاب کے ذریعے سیاسی شعور کی جگہ سیاسی بدتمیزی ہی پروان چڑھ سکتی ہے، جو سماج کو آگے کی طرف لے جانے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیلنے میں کردار ادا کرتی ہے، ایسی صورت میں ڈگری ہولڈر جاہل پیدا ہوتے ہیں جو ہر نئی سوچ و فکر کی مخالفت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، یہ لوگ عقیدے، نظریے اور رنگ ونسل کو لئے اپنی تنگ نظری اور جہالت کی بنیاد پر جنسی ہراسانی، کسی پر تشدد کرنے بلکہ کسی انسان کی جان لینے پر بھی فخر کرتے ہوئےنظر آتے ہیں۔

ہر تعلیمی ادارے سے اس قسم کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں جس میں طلباء تعلیم یافتہ ہو کر بھی اپنی جہالت کا فخریہ اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ ان واقعات میں امتیازی سلوک، جنسی ہراسانی، ریپ، فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات، انفرادی یا اجتماعی طور پر انتہاپسندانہ تشدد کے واقعات وغیرہ شامل ہیں۔

یہ لوگ نہ صرف تعلیمی اداروں کے اندر بلکہ سماج میں ہر جگہ اپنا منفی کردار روشن خیالی اور ترقی پسند سوچ کی مخالفت کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں۔ جب کہیں پر اس قسم کی ذہنیت کا اظہار انفرادی یا اجتماعی طور پر کسی تشددپسندانہ عمل سے ہوتا ہے تو ریاستی میڈیا اسے کسی فرد یا گروہ کا عمل قرار دے کر ریاستی کردار چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔

ریاست اور اس میں بسنے والے اقوام کا تعلق مشروط طور پر ہوتا ہے کچھ ذمہ داریاں ریاست کی ہوتی ہیں اور کچھ ذمہ داریاں اس میں بسنے والوں کی، ریاست طبقات اور اقوام کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیگا، ایک خوشحال اور پرامن معاشرہ تشکیل دینے کے لئے نصاب ترتیب دے گا تب ریاست کا کردار ماں جیسا ہوگا۔

Facebook Comments HS