جب ہم نے جہالت کو اہلیت سمجھنا شروع کیا
تجزیہ نگاروں نے کورونا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی کئی اندازے سائنسی انداز میں لگانے شروع کر دیے تھے۔ یہ اندازے بے شک 2 اور 2 جمع 4 یا 2 اور 2 ضرب 4 کی طرح اٹل اور قطعی تو نہیں تھے لیکن پھر بھی جہاں جہاں اب تک اس کا پھیلاؤ نظر آیا ہے قریب قریب ان کے اندازوں کے مطابق ہی سامنے آ رہا ہے۔ ان اندازوں میں ایک اندازہ کچھ یوں بھی تھا کہ ہر 10 سے 12 دن بعد مریضوں کی تعداد دوگنا ہوتی جائے گی۔ بعض ممالک میں ایک دو دن اوپر نیچے کے حساب سے صورت حال کچھ اسی طرح سامنے آئی اور خاص طور سے پاکستان کو جس صورت حال کا سامنا ہے وہ ان اندازوں سے بہت زیادہ مختلف نہیں۔
ہوتا یہی ہے کہ جب بھی کسی جسم، ماحول یا مشین میں خرابی کا آغاز ہوتا ہے، یہی خیال کر لیا جاتا ہے کہ خرابی معمولی ہی ہے اور سوچ لیا جاتا ہے کہ یا تو یہ از خود ختم ہو جائے گی یا پھر کسی بہت بڑی بلا کی صورت اختیار کرنے میں کافی وقت لے لے گی لیکن ہوتا یوں ہے کہ چند ہی دنوں بعد ہماری سوچوں سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ بیماری یا خرابی مریض کی جان لے لیتی ہے بلکہ مشینری اور ماحول، خرابی کی اس انتہا کو پہنچ جاتے ہیں جہاں اس کی درستگی کے سارے دروازے اور راستے بند ہو جاتے ہیں اور انجام تباہی و بربادی کے علاوہ کچھ بھی سامنے نہیں آتا۔
پاکستان میں ایوب خان کے آخری دور تک اس بات کا دور دور تک کوئی امکان موجود ہی نہیں تھا کہ حکومتی محکموں میں بھرتیوں کے سلسلے میں اہلیت کو کبھی نظر انداز بھی کیا جا سکے گا لیکن بد قسمتی سے ایوب خان کے دور اقتدار کے فوراً بعد اہلیت کی اہمیت جہالت سے بھی بد تر بنا دی گئی۔ سرکاری محکموں میں سیاسی بھرتیاں اصول بنا لیا گیا اور سفارش خواہ ”قائد اعظم“ کی صورت میں ہو یا سیاسی اور مقتدرہ کی شکل میں، جزو و لاینفک کا روپ دھار گئی۔
ایک جانب اہلیت کا قتل عام کیا گیا تو دوسری جانب صوبہ سندھ میں تعلیم تک کا قتل عام کر دیا گیا اور شہری و دیہی کی تفریق نے اعلیٰ (حقیقی) تعلیم یافتہ افراد کو اپنی قابلیت کے جوہر دکھانے کا موقع فراہم کر کے ملک و قوم کی خدمت کا موقع دینے کی بجائے جعلی ڈگری ہولڈروں کے ہاتھ میں پاکستان بھر کے سارے اہم ادارے پکڑا دیے گئے اور جواز یہ بنایا کہ کیونکہ شہر میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں جبکہ دیہات میں یہ سہولت نہیں ہوتی اس لئے دیہات میں رہنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ان کو اوپر لانے کے لئے ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔
یہ زمانہ میرے کالج کا زمانہ تھا اور اس لاجک کے جواب میں جب میں یہ کہتا تھا کہ کیونکہ شہریوں کے پاس زمینیں، کھیت اور کھلیان نہیں ہوتے تو کیا دیہاتوں کی زمینیں، کھیت و کھلیان میں ان کو کچھ حصے دار بنایا جائے گا تو سوائے منفی جملوں کے اور کچھ نہیں ہوتا تھا جو سننے کا ملا کرتا تھا۔
کوئی بھی بگاڑ یک دم ظہور پذیر نہیں ہو جایا کرتا اور نہ ہی اس کی تیز رفتاری کا اندازہ ہو پاتا ہے۔ 1973 اور 2020 کو سامنے رکھا جائے تو جس خرابی کا احساس آج سے 20 برس قبل تک بہت شدت کے ساتھ نہیں ہو پا رہا تھا اور جس شہری اور دیہی تفریق پر پورا پاکستان تالیاں بجایا کرتا تھا، آج پورے پاکستان کے سامنے اہلیت کا نظر انداز کیا جانا تباہی و بربادی کے جو مناظر پیش کر رہا ہے اس پر رویا تو جا سکتا ہے لیکن اس مرض کی اب کوئی دوا یا ویکسین ایجاد کی ہی نہیں جاسکتی۔
پاکستان اسٹیل ہو، پی آئی اے ہو، واپڈا ہو، کے ای ہو، محکمہ تعلیم ہو، ٹی اینڈ ٹی ہو، تعلیمی ادارے ہوں، وفاق، صوبوں یا بلدیات کے تحت چلنے والے محکمے ہوں، ان تمام کے حالات پورے پاکستان ہی نہیں، دنیا کے سامنے ہیں۔
جس پاکستان میں پاکستان ریلوے کا یہ عالم یہ ہو کہ چیف جسٹس گلزار یہ کہتے نظر آئیں کہ ”ریلوے سوچ سے بھی کہیں زیادہ کرپٹ ادارہ ہے“ ، اس پاکستان کے دیگر محکموں کی خرابی کا کیا عالم ہوگا۔
صورت حال یہ ہے جو کورونا ایک ایک دو دو کی تعداد سے بڑھتا ہوا اب دس دس اور گیارہ گیارہ ہزار کی رفتار سے بڑھاتا اور چڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے بالکل اسی انداز میں اب اہلیت اور قابلیت کا قتل عام کا انجام پاکستان میں اپنے رنگ ڈھنگ دکھاتا صاف دیکھا جا سکتا ہے۔
جس ملک میں قحط الرجال کا یہ عالم ہو کہ حکومت کرنے کے لئے پرائم منسٹر سے لے کر ہر قسم کے ماہرین باہر کے ملکوں سے درآمد کرنے پڑتے ہوں اورعالمی مالیاتی ادارے ہمارا بجٹ تجویز کرتے ہوں اس ملک کے مستقبل سے خوشگمانیاں دیوانے کے خواب سے زیادہ کیونکر ہو سکتی ہیں۔ اگر نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس ساری تباہی و بربادی کا تجزیہ کیا جائے تو اس کے پیچھے قابلیت کا خون خرابہ اور شہری دیہی تفریق جیسا امتیاذانہ رویہ نہایت صاف اور واضح دکھائی دے گالیکن اب مرض اس درجے میں داخل ہو چکا ہے جہاں کسی بھی قسم کی بڑی سے بڑی جراحی شاید ہی کام آ سکے۔
سب سے زیادہ کرب ناک بات یہ ہے کہ جو مرض پورے پاکستان کو تباہی کی جانب دھکیل کر لے جا رہا ہے، اس مرض کی جڑ (کوٹی سسٹم) کو اب بھی پورا پاکستان کاٹنے کے لئے تیار نہیں اور سارے المیوں سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ مستقبل قریب میں بھی اس جڑ کے کاٹ دیے جانے کے کوئی امکانات دکھائی نہیں دیتے۔


