غریب کَش بجٹ
ان دنوں میڈیا و سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے سالانہ بجٹ پر تبصرے ہو رہے ہیں۔ کوئی پیش کردہ بجٹ کو حکومت کی کفایت شعاری سے تعبیر کرتا ہے تو کسی کے نزدیک یہ بجٹ عوام کش بجٹ ہے۔ سرکاری ملازمین بھی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے پر برانگیختہ ہیں اور سرکاری ملازمین کی اکثریت حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا رہی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے سپورٹرز بنا سمجھے بجٹ کو قبول ہی نہیں کرتے بلکہ حکومتی ناکامیوں اور نچلے طبقے کے استحصال پر سوال اٹھانے والوں کو مطعون بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ عوام الناس کو بجٹ کے بنیادی عناصر اور وہ اصول و قوانین معلوم ہوں جن کی بنیاد پر ہر سال بجٹ پیش کر کے منظور کروایا جاتا ہے اور پھر پورا سال ملکی معیشت اسی بجٹ پر انحصار کرتی ہے۔
بجٹ اس مالی منصوبہ کو کہا جاتا ہے جسے حکومت ٹیکس کی مد میں حاصل رقوم (آمدن) اور حکومتی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے سال کے آخر میں مرتب کرتی ہے۔ عام طور پر بجٹ تین طرح کے ہوتے ہیں۔
1۔ یونین بجٹ: ایسا بجٹ جسے مرکزی حکومت مرتب کرے، وہ ممالک جہاں یونین بجٹ مرتب کیا جاتا ہے۔ وہاں صوبائی یا ریاستی بجٹ عام طور پر مرتب نہیں ہوتے۔
2۔ ریاستی، صوبائی بجٹ: ایسے ممالک جو مختلف ریاستوں پر مشتمل ہوں، وہاں ریاستیں اپنا الگ بجٹ مرتب کرنے، پیش کرنے اور منظور کروانے کا حق رکھتی ہیں
3۔ ضمنی بجٹ: وہ بجٹ جو کسی خاص پراجیکٹ کے لئے مرتب ہوتا ہے اور اس میں اندرونی سے زیادہ بیرونی ذرائع آمدن کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں (پاکستان میں ) ہر سال مرکزی حکومت سالانہ بجٹ پیش کرتی ہے۔ جسے منظور یا نامنظور کرنے میں چاروں صوبوں کے نمائندوں کا کردار ہوتا ہے۔ جبکہ ہر صوبہ بھی ہر سال صوبائی بجٹ مرتب کر کے صوبائی اسمبلی سے منظور کرواتا ہے۔ ہمارے صوبائی بجٹ قدرے متوازن ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہر سال مرکزی بجٹ خسارے کا بجٹ ہوتا ہے۔ خسارے کے بجٹ سے مراد یہ ہے کہ حکومت سالانہ تمام تر محصولات اور دیگر ذرائع آمدنی سے جتنا سرمایہ اکٹھا کرتی ہے، اس کے حجم سے حکومتی اخراجات زیادہ ہیں۔
ایسی صورتحال میں حکومت کے پاس تین آپشن ہوتے ہیں۔ پہلا: عوام پر مزید ٹیکس لگائے جائیں اور اخراجات کو پورا کیا جائے۔ دوسرا: آمدن کے اعتبار سے حکومتی اخراجات کو کنٹرول کیا جائے۔ تیسرا: دوسرے ممالک یا بیرونی اداروں، مثلاً: ورلڈ بینک، آئی ایم ایف وغیرہ سے سود پہ قرض لے کر اخراجات کو پورا کیا جائے۔
اصولاً حکومت کو چاہیے کہ ہر ممکن حد تک حکومتی اخراجات کو کنٹرول کرے۔ وزیروں، مشیروں کی مراعات اور تنخواہوں میں کمی لائے کرے، بیوروکریٹس اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز لوگوں کی تنخواہوں کو منجمد کرے اور ان کی مراعات میں بھی کمی لائے۔ دفاع، تعلیم اور صحت کے لئے بھی مناسب رقوم مختص کرے اور غیر ضروری منصوبہ جات کو روک دے۔ اس کے باوجود اگر آمدن انتہائی ضروری اخراجات سے کم ہو تو عوام پر ٹیکس لگا کر آمدن اور اخراجات کے درمیان توازن کو برقرار رکھے۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں (پاکستان میں ) ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری مرکزی حکومتیں ہر سال خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہیں۔ حکومتی اخراجات کو کنٹرول نہیں کیا جاتا جبکہ عوام پر ٹیکس بھی لگائے جاتے اور سود در سود پر ہر سال قرض بھی لیا جاتا ہے۔
گزشتہ کی طرح اس سال بھی 34 کھرب سے زیادہ خسارے کا بجٹ مرکزی حکومت نے مرتب کر کے پیش کیا ہے۔ جس میں ایف بی آر کو ٹوٹل 49 کھرب 63 ارب روپے کے ریونیو کا ٹارگٹ دیا گیا ہے جبکہ غیر ٹیکس شدہ ریونیو (یعنی دیگر ذرائع آمدن) سے 14 کھرب 10 ارب ریونیو حاصل کرنے کا ٹارگٹ سیٹ کیا ہے۔ گویا عوام پر مزید ٹیکسز کی بھرمار تو ہو گی ہی ہوگی، جس کے نتیجے میں مہنگائی آسمان چھوئے گی، جبکہ ایف بی آر کے سوفیصد ٹیکس وصول نہ کر سکنے اور غیر ٹیکس شدہ ریونیو میں کمی کی صورت میں سود در سود پر مزید قرض لے کر اخراجات کو پورا کیا جائے گا۔ جس کی قسطیں ادا کرنے کے لئے عوام پر مزید ٹیکس لگایا جائے گا۔ البتہ جیسے تیسے، جس بھی نقطہ نظر اور جس بھی زاویہ سے اس خسارے کے بجٹ کو دیکھا جائے بوجھ متوسط اور ملازمت پیشہ طبقہ کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔

