اے آر وائے کا مذاق اڑانے پر وسیم بادامی کو ڈانٹ پڑنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے فائنل پروگرام سے پہلے سن گن مل گئی تھی کہ ظہیر عباس کو آخری پروگرام کے بعد چینل کی طرف سے جو چیک دیا جانا ہے، اس کی ادائی کا کوئی امکان نہیں۔ بل کہ چینل کے کچھ بڑے ٹھٹھا اڑا رہے تھے کہ ظہیر عباس یونھی لوٹائے جائیں گے تو کیا دیکھنے لائق منظر ہو گا۔ اب ہونا یہ تھا کہ آخری شو رات گئے ختم ہوتا۔ ظہیر عباس پروڈیوسر (مجھ سے چیک کا پوچھتے۔ پروڈیوسر) میں جواب دیتا، اکاؤنٹ تو شام پانچ بجے کلوز ہو جاتا ہے، کل صبح کال کیجیے گا۔ یہاں میں اس کا نام نہیں لوں گا، جس نے مجھے کہا، ظہیر عباس کو کال کر کے یقین دلا دو کہ آخری روز چیک ضرور مل جائے گا۔ آصف اقبال، کہ جن کے سامنے جاوید میاں داد جیسے لیجنڈ بھی دبتے ہوں، ظہیر عباس انھیں فقط آصف کہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ اور کئی بار آصف سے نہایت بے تکلفی سے گزشتہ ’سانجھی وارداتوں‘ کا ذکر کر جاتے۔ ”تمھیں وہ دن یاد ہے، جب وہ“ ؟ ۔ ۔ وہ بھول جاتے کہ ہم وہاں موجود ہیں۔ جب آصف اقبال کے چہرے پر چھائی سنجیدگی میں ذرا تبدیلی نہ آتی، تو ظہیر سمجھ جاتے یہ تخلیے کی بات ہے، بچوں کے سامنے کرنا مناسب نہیں۔

اب میرے پاس دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ باس کے کہنے پر ’یا جھوٹ تیرا آسرا‘ ۔ دوسرا یہ کہ آصف اقبال کو کال کر کے بتاتا، آپ کے دوست کے ساتھ یہ تماشا ہونے جا رہا ہے۔ میں نے تیسرے راستے کا انتخاب کیا۔ ظہیر عباس کو کال کر کے کہا، یا آپ آصف اقبال سے بات کر لیں یا یہ اصرار کریں کہ میری فیس کی کل رقم کا چیک فائنل پروگرام سے پہلے ادا کر دیں، ورنہ آخری شو کرنے نہیں آؤں گا۔ ظہیر عباس نے دوست کو زحمت نہ دی، دوسری تجویز مان لی۔ بات بڑوں تک پہنچی، منٹوں سیکنڈوں میں چیک تیار ہوا اور وہی جو مجھے کہ رہی تھی، ظہیر عباس سے جھوٹ بولنا ہے، وہ چیک دینے دوڑی دوڑی ظہیر عباس کے گھر جا پہنچی کہ آپ کا چیک نکلوانے میں میرا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ ان کا نام بھی ظہیر عباس ہے۔ عمران خان سے ملنے کے لیے آنے والی پرستار کے آنسو پونچھ سکتے ہیں تو کس کے ’درد کا درماں‘ کرنا نہ جانتے ہوں گے کیا!

ظہیر نے اگلے روز مجھے کال کر کے خصوصی شکریہ ادا کیا کہ تم نہ بتاتے تو یہ سیٹھ میری فیس ہڑپ کر جاتے اور میں آصف سے اس رقم کے لیے کبھی نہ کہ پاتا۔ کیسے وضع دار لوگ ہیں۔

ہم اسٹوڈیو میں تھے، کہ جونھی آخری گیند پھینکی جائے، شو کا آغاز کر دیں۔ ان دنوں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تھے۔ انھوں نے قوم کو خوش خبری دی تھی کہ ورلڈ کپ فائنل کے روز ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔ میں نے بادامی کو شو سے پہلے سمجھا رکھا تھا، وہ ابتدائی کلمات میں یہ کہ دے، ”یوں تو بجلی کی پیداواری قلت ہے، کہا یہ جاتا ہے کہ ہمارے اتنے وسائل نہیں، ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کر سکیں، لیکن کرکٹ فائنل کے روز ہم کن وسائل کو استعمال کرتے بجلی پوری کر لیتے ہیں“ ؟ ظاہر ہے ٹی وی کے کرکٹ شو میں ایسی سیاسی بات کرنے کا مقصد ہماری ”شرارت“ ہی تھی۔

یونس خان کی قیادت میں ٹی 20 ورلڈ کپ 2009 ء کا فائنل پاکستان نے جیت لیا۔ کاونٹ ڈاؤن شروع ہوا۔ ہم فوراً لائیو چلے گئے۔ وسیم بادامی نے ابتدائی کلمات میں قوم کو مبارک باد دیتے، ویسا ہی کہا، جیسے ہم نے منصوبہ بندی کی تھی۔ ایسے میں ایم سی آر سے کنٹرول پینل پر کال آ گئی۔ ہدایت ملی کہ بریکنگ نیوز ہے، اینکر سے کہا جائے، وہ بریکنگ نیوز پر جانے کا اعلان کرے، شو کٹ کر کے نیوز اسٹوڈیو جانا ہے۔ ان دنوں پاکستان کے بازاروں، مسجدوں میں دھماکے ہونا اک معمول تھا، اب تو وہ دن کوئی ڈراونا خواب لگتے ہیں۔ دل بہت میلا ہوا کہ یہاں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا ہے، وہاں کوئی بری خبر آ گئی۔

ہماری نظریں ٹی وی اسکرین پر تھیں، کہ دیکھیں کیا خبر ہے۔ نیوز اینکر نے خوشی کا اظہار کرتے بتایا کہ پاکستان نے ورلڈ کپ جیت لیا ہے۔ مجھی کو کیا سبھی کو بہت کوفت ہوئی کہ یہ کیا حماقت ہے۔ یہی کچھ تو ہم پروگرام میں بتا رہے ہیں۔ تو نیوز روم سے اعلان کرنا کیوں ضروری ٹھیرا! میں نے بادامی سے کہا کہ جونہی ہم دوبارہ آن ائر ہوں گے، یہ کہ دینا، ”دیکھا! ہم نے کیسی زبر دست بریکنگ نیوز دی ہے“ !

وسیم نے حرف بہ حرف یہ کہ دیا۔ شو ختم ہوا تو بادامی کے سیل فون پر کال آ گئی۔ اویس توحید جنھیں میڈیا میں ’او ٹی‘ کے نام سے جاننا جاتا ہے، ہیڈ آف نیوز تھے۔ انھوں نے بادامی سے نہ جانے کیا کہا، کیا نہیں کہا۔ کال ختم ہوئی تو بادامی نے جھینپتے ہوئے بتایا، ”او ٹی ناراض ہو رہے تھے کہ اپنے ہی چینل پر بیٹھے اپنے چینل کا مذاق اڑا رہے ہو“ ؟

ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ اور ہمارا شو ”اسپورٹس روم لائیو“ نہایت خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے۔

بچوں کو اسکول سے گرمیوں کی چھٹیاں تھیں، میں نے ان کے ہم راہ پنڈی جانے کا پروگرام بنایا۔ پندرہ دن کی چھٹی کی درخواست دی اور سفر پہ روانہ ہو گیا۔ احمد کامران میرا دوست بھی ہے اور بہت اچھا ہدایت کار بھی۔ پنڈی سے واپس آیا تو اس کی فون کال آئی، کہ اس سے ملاقات کروں، کوئی ضروری کام ہے۔ ملاقات پر اس نے بتایا کہ وہ مجھ سے ایک ٹی وی سیریل لکھوانا چاہتا ہے، لیکن شرط یہ ہے، میں ملازمت نہیں چھوڑوں گا۔ میرے ارادوں سے میرے دوست واقف ہی تھے کہ میں نوکری چھوڑنا چاہتا ہوں۔ احمد نے ٹی وی سیریل کی کہانی سنائی۔ اس کہانی کے ’کردار‘ مجھے اچھے لگے، مگر پلاٹ پسند نہیں آیا۔ پھر میرے نظریات بھی اس سیریل کے ’مرکزی خیال‘ سے متصادم تھے۔ احمد سے کہا کہ مجھے سوچنے کا وقت دو۔

اگلے روز میں نے پلاٹ تبدیل کرنے کی تجویز دی کہ اگر ایسا ممکن ہو، تو پھر لکھتا ہوں۔ اور دوسری شرط یہ کہ میں پیری فقیری کو پرموٹ نہیں کروں گا۔ یہ بات اس لیے بھی کہنا ضروری ہوئی کہ سیریل کا بنیادی خیال اس کے قریب تھا۔ احمد کامران نے میری دونوں تجاویز مان لیں۔

’آغاز‘ شو میں اس وقت تک کرتا رہا، جب تک کہ مجھے ’اسپورٹس روم ٹی 20 لائیو‘ ورلڈ کپ 2009 ء کی کوریج کی ذمہ داریاں نہیں سونپی گئیں۔ انیق احمد نے مجھے ’آغاز‘ سے ہٹانے پر احتجاج کیا تھا۔ جب ٹی 20 ورلڈ کپ کا ایونٹ اختتام پذیر ہوا تو میں پندرہ دن کی چھٹی پر پنڈی چلا گیا۔ وا پسی ہوئی تو ماہ رمضان کی آمد آمد تھی، مجھے افطار ٹائم کا ایک شو تھما دیا گیا۔ ’آغاز ”مذہبی موضوعات کا پروگرام تھا، اور رمضان میں ہر روز اس کا خصوصی شو ہوتا تھا۔ انیق احمد نے احتجاج کیا کہ میرے پروڈیوسر کو میرے شو سے ہٹا کر دوسرا پروگرام کیوں دیا جا رہا ہے، لیکن بات بنی نہیں۔

اگلے مہینے جولائی میں مجھے جون کی تن خواہ تین دن کی کٹوتی کر کے ملی۔ ایچ آر سے استفسار کیا، تو انھوں نے میری ہیڈ کا نام لیا کہ ان کے کہنے پر یہ کٹوتی کی گئی ہے۔ جب کہ مایا خان مجھے پہلے کہ چکی تھی، اسے نہیں معلوم سیلری سے کٹوتی کیوں کی گئی ہے۔ میں سیدھا مایا کے پاس گیا اور پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے پہلے بات ادھر ادھر گھمائی، پھر یہ کہا کہ آپ کب وقت پہ دفتر آتے ہیں، آفس ٹائم صبح نو بجے کا ہے۔ میں نے بھڑک کے کہا:

”ٹھیک ہے میں صبح نو بجے آفس آ جایا کروں گا، لیکن شام پانچ بجے دفتر سے باہر ہوں گا۔“

میرے تمام شو پانچ بجے کے بعد شروع ہوتے تھے۔ ان میں ’آغاز‘ لائیو شو رات گیارہ سے بارہ کے بیچ میں ہوتا تھا۔ مایا تلملائی کہ یہ کیسے ممکن ہے، شو کون کرے گا؟ میں نے کہا:

”کیا میں سیٹھ کا غلام ہوں، جو صبح نو بجے آئے اور رات ایک ایک دو دو بجے دفتر سے جائے اور پھر اگلے روز صبح نو بجے دفتر میں ہو؟“

وہ حیرت کی تصویر بنی، مجھے دیکھتی رہ گئی۔ میں نے مزید یہ کہا، مہینے میں تین سو چھپن گھنٹے پورے کرنا ہوتے ہیں، جب کہ ایچ آر کی رپورٹ کے مطابق، میں مہینے میں چار ساڑھے چار سو گھنٹے آفس میں ہوتا ہوں۔ کیا مجھے اے آر وائے اوور ٹائم دیتا ہے؟ مایا نے کہا، اوور ٹائم دینا ادارے کی پالیسی نہیں۔ میں نے ترنت جواب دیا، تو ادارہ صرف ہماری تن خواہ کاٹنے کے لیے ہے؟ کمرے سے جاتے جاتے میں نے کہا، اگلے مہینے کی سیلری کے ساتھ، میری یہ تین دن کی تن خواہ نہ دی گئی، تو میں استعفا دے دوں گا۔

ماۂ رمضان کی آمد آمد تھی۔ پاکستان کے شہر شہر جا کے افطاری کے پروگرام رکارڈ کرنا تھے۔ میں نے پہلا پروگرام رکارڈ کیا تو وہ ڈیڈ لائن آ گئی، جس میں میری تین دن کی تن خواہ آنی چاہیے تھے، جو پچھلے مہینے کی سیلری سے کاٹی گئی تھی۔ اسے نہ آنا تھا نہ آئی۔ میں نے شام میں آفیشل ڈیسک ٹاپ پر استعفا ٹائپ کیا، تمام کولیگز کو ای میل کر کے ممنونیت کا اظہار کیا اور باری باری ان کے پاس جا جا کر سب کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے ساتھ دن خوب گزرے۔ ہر کسی نے کہا، یہ حماقت مت کرو۔ لیکن میں سوچ رہا تھا کہ جہاں میں نے اپنی زبان سے نکلے حرف کو پورا کرنے کے لیے کئی نقصان اٹھائے ہیں، ایک اور سہی۔

رات گئے افطار شو کی اڈٹنگ مکمل کر کے ٹیپ متعلق شعبے تک پہنچائی۔ آفیشل ای میل سے اپنا استعفا مایا کو فارورڈ کر دیا، اور سب بڑوں کو سی سی میں رکھا۔ دوستوں کا اندیشہ درست نکلا کہ مجھے جونہی کوئی دوسرا آسرا ہوا، میں نوکری پہ چار حرف بھیج دوں گا۔ اگلے روز دیر تلک بے فکری کی نیند سوتا رہا۔ میں آزاد پنچھی تھا، اب مجھے اسکرپٹ رائٹنگ کی طرف توجہ دینا تھی۔

استعفا دینے کے بعد میں دیر تک سویا رہا۔ دپہر میں میرے سیل فون کی بیل بجی۔ انیق احمد کی کال تھی۔ حیرت انگیز طور پہ یہ دوسری بار ہوا تھا کہ جب میں استعفا دے کر آیا تو اگلے روز انیق احمد کی کال آ گئی اور انھوں نے ایک ہی طرح کی بات کی، ”میں نے سلمان اقبال سے بات کر لی ہے، اب ’آغاز‘ تمھی کرو گے“ ۔ میں چند ثانیے خاموش رہا۔ پہلی دفعہ کی طرح پھر بتانا پڑا، ”انیق بھائی میں استعفا دے آیا ہوں“ ۔

اس بار بھی میرا استعفا قبول نہیں کیا گیا۔ جون 2009 سے ’اے آر وائے ون ورلڈ‘ ، ’اے آر وائے نیوز‘ کہلانے لگا تھا۔ عارف حسین سے اینفو ٹین منٹ کی ذمے داریاں لے کے انھیں مارکیٹنگ اینڈ سیلز تک محدود کر دیا گیا تھا۔ جرجیس سیجا عرف جے جے جو اے آر وائے ڈیجیٹل کے ’سی ای او‘ تھے، آج بھی ہیں، اے آر وائے نیوز اینفوٹینمٹ بھی انھی کے انڈر آ گیا۔ استعفے کے دوسرے تیسرے روز ’ایچ آر ہیڈ‘ کی کال آئی کہ آفس تشریف لائیے۔

میں اگلے دن ’ایچ آر ڈیپارٹ منٹ‘ میں تھا۔ میں نے بتا دیا کہ ہوا کیا تھا اور کیوں میری تین دن کی سیلری کٹی۔ میرا مطالبہ تھا یہ غلط ہوا تو مجھے تین دن کی تن خواہ دی جائے۔ ’ایچ آر ہیڈ‘ نے پوری تسلی سے مجھے اپنی بات کہنے دی۔ پھر کہا کہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ سیلری بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میں نے ترنت جواب دیا، میری سیلری سے دس ہزار کم کر دیں، مجھے پروا نہیں، لیکن تیس دن میں سے ایک دن کی تن خواہ بھی بے وجہ کاٹیں گے، تو میں یہاں نہیں رکوں گا۔ ’ایچ آر ہیڈ‘ مسکرایا۔

”آپ پہلے ہیں جو ایسا کہ رہے ہیں کہ اس کی سیلری کم کر دیں، یہاں تو لوگ تن خواہ بڑھوانے آتے ہیں“ ۔

میں ’ایچ آر ہیڈ‘ سے میٹنگ کر کے گھر لوٹ آیا۔ اگلے روز مجھے کال آئی کہ آپ کی شکایات جے جے (جرجیس) تک پہنچا دی گئی ہیں، انھوں نے کہا ہے کہ آپ آفس جوائن کریں۔ اب آپ مایا کو نہیں براہ راست جے جے کو جواب دہ ہوں گے۔

یہ انھی راتوں میں سے ایک رات جب میں بالکل نہیں سو پاتا۔ اس دن میرا روزہ نہیں تھا۔ میں صبح دس بجے آفس پہنچ گیا۔ میری غیر موجودی میں افطار شو کسی اور کو دے دیا گیا تھا۔ ’آغاز‘ رمضان اسپیشل بھی جاری تھا۔ رمضان کے مہینے میں میری کوئی مصروفیت تھی نہیں۔ میں اپنی نشست پر بیٹھا وقت گزاری کر رہا تھا کہ ایک اسسٹنٹ آیا۔ ”ظفر بھائی آپ وا پس آ گئے ہیں؟ مبارک ہو“ ۔ پتا نہیں مجھے اس کی یہ بات کیوں بری لگی۔ میں سگرٹ پینے کے لیے اٹھ کے باہر نکلا، اسموکنگ ایریا میں کھڑے ہو کے ایک سگرٹ پھونکا۔ کچھ اور ہم کار دفتر آ رہے تھے۔ مسکراہٹوں، سلام دعا کا تبادلہ ہوا۔ سگرٹ بجھا کے میں اپنی سیٹ پر آنے کے بہ جائے آؤٹ گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ اس دن کے بعد میں کبھی ڈی 20 سائٹ ایریا کراچی، ’اے آر وائے‘ کے دفتر نہیں گیا۔

اس سیریز کے دیگر حصےعمران خان پر مرنے والی لڑکیوں کے قصے اور ظہیر عباس کی جنت
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 310 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

Leave a Reply