طارق عزیز کی نوجوانی کی جدوجہد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طارق عزیز اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو گیا اور میرا اور اس کا ستر سال کا ساتھ ختم ہو گیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ کل رات میری ٹیلی فون پر اس سے بات ہوئی تھی۔ میرے ایک پرانے، سوشل زندگی میں بہت active شاگرد جو پنجاب کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز رہ چکے ہیں، طارق عزیز سے منیر نیازی کے بارے میں بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ میں نے طارق کو ٹیلی فون کیا تو اس نے کہا کہ اس کو بخار ہے، ایک ہفتے بعد رابطہ ہو سکے گا۔۔

طارق اور میں سکول کے زمانے کے ساتھی تھے۔ طارق سے دوستی کے بعد تعلق فیملی لیول تک ہو گیا تھا۔ وہ اکثر گرمیوں کی دوپہر کو ملنے آتا تھا تو میرے والد نے اسے گل دوپہر ی کا خطاب دے دیا تھا۔

طارق سکول کے زمانے سے مقرر بہت اچھا تھا، جس کی وجہ سے جب بھی کوئی موقع ہوتا تھا وہ تقریر کرنے کو تیار رہتا تھا۔ طارق عزیز دو بھائی اور تین بہنیں تھے۔ ایک بہن ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بیاہی گئی۔ ایک امریکہ میں آباد ہے جب کہ سب سے چھوٹی بہن پاکستان ائر فورس کے افسر سے بیاہی گئی تھی۔ بڑا بھائی خالد عزیز کسٹم کے محکمہ میں ملازم تھا اور بہت پہلے جوانی میں انتقال کر گیا تھا۔۔

طارق کو اداکاری کا شوق کالج کے زمانے سے تھا۔ لیکن تعلیم کے میدان میں انگریزی اس کی کمزوری تھی، جس کی وجہ سے وہ کالج کی روایتی تعلیم پوری نہیں کر سکا تھا۔ میں ساہیوال کے کالج میں ڈرامے کا انچارج ہوا تو کئی بار طارق کو ڈراموں میں کاسٹ کیا۔

طارق کے والد جب  ٹرمنل بیمار ہوئے تو ڈاکٹر کی ہدایت پر انہیں ایبٹ آباد شفٹ کیا گیا جہاں وہ ایک ماہ سے زائد مقیم رہے۔اس دور میں طارق نے مجھے بہت سے خط لکھے جو میرے پاس محفوظ ہیں۔

طارق نے اپنی انگریزی کی کمی کو اردو ادب خاص طور پر شاعری سے پورا کیا اور اردو کی کلاسیکل  لینگویج کے امتحان بھی پاس کئے۔

1960-61  میں طارق ریڈیو پر اناوُنسر ہو گیا۔ میں 1962 میں بی اے کرنے کے بعد لاہور آکر نیوز ایجنسی پی پی آئی میں ملازم ہوکر ایم اے جرنلزم کے لئے یونیورسٹی میں داخل ہو گیا۔ اس دور میں یونیورسٹی کا کوئی ہاسٹل نہیں ہوتا تھا اس لئے ہم دو تین دوست مختلف مقامات پر یونیورسٹی کے قریب کمرے کرائے پر لے کر رہتے تھے۔ میں نے طارق کے ساتھہ کربلا گا مے شاہ کے قریب ایک کمرہ اور موہنی روڈ پر ایک کمرہ شیئر کیا ہے۔ میری تنخواہ 165 روپے جب کہ طارق کی 150 روپے ہوتی تھی اس لئے کمرے کا کرایہ میرے ذمہ ہوتا تھا۔ ۔

مال روڈ پر زیلن کافی ہاوُس کا مینیجر نیشنل عوامی پارٹی کا کارکن ملک محترم ہمارا دوست تھا اس لئے وہاں ہمارا ادھار چلتا تھا۔

ہم بھاٹی سے چار آنے کے چنے کھا کر چائے پینے کافی ہاوُس آ جاتے تھے۔ جب گرمی میں  اضافہ ہوا تو میں نے لا کالج کے پرنسپل سے چھٹیوں میں خالی ہاسٹل کے ایک کمرے میں رہنے کی اجازت  لے لی۔ ہمارے برابر کے کمرے میں ہاسٹل کے جمعداروں کے عزیز ٹھہرے تھے۔ وہاں طارق نے ایک لڑکی سے صاحب سلامت شروع کی تو میں نے طارق کو خبردار کیا کہ ابھی تو اس نے صابن مانگا ہے، کل یہ تولیہ بھی مانگ لے گی۔

ایک رات کو تین بجے میں دفتر سے آیا تو طارق میری چارپائی پر لیٹا جاگ رہا تھا اور ارد گرد بہت سی چار پائیوں پر لوگ سو رہے تھے۔ میں نے طارق سے پوچھا یہ کیا ہے۔ اس  نے بتایا کہ جمعداروں کی بارات آئی ہے اور انہوں نے ٹھرا پیا ہے اور ایک شخص میری چارپائی  پر بھی سو گیا ہے۔ اٹھانے  پر گالیاں دیتا ہے۔

اس  نے اعلان کیا کہ یہ ظلم اور تکلیف کی انتہا ہے۔ اب میرے دن بدل جائیں گے۔۔ اور اسے پی ٹی وی پر اناوُنسر کی نوکری مل گئئ۔

 میں نے شادی کے بعد اردو نگر، موڑ سمن آباد  میں گھر  کرائے پر لیا تو اس کے  دوسرے حصے میں طارق اپنی والدہ  کے ساتھ مقیم رہا۔ میں نے بیٹے کا نام  علی حسن رکھا۔ اگر علی روتا تھا تو طارق دیوار پر سے جھانک کر کہتا  تھا۔ یاعلی کیا ہوا؟ معاویہ پڑ گیا؟

عجب اتفاق ہے،میں نے کل رات اسے فون کیا اور ملنے کی بات کی اور آج صبح وہ بغیر ملے چلا گیا۔۔۔ اسے کہتے ہیں ۔۔۔Man proposes God disposes

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر مہدی حسن کی دیگر تحریریں

Leave a Reply