لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ ۔

کاکروچ مارتے ہو
یا اپنی گھڑی دیکھتے ہو
جب تم اپنی ٹائی درست کرتے ہو۔ ۔ ۔ لوگ مر رہے ہیں
یہاں مرنے کی مہلت بھی نہیں دی جاتی
۔ ۔ مگر لوگ مر رہے ہیں
لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ ۔ اس وقت جب تم تغافل اور ضبط نفس وغیرہ
کے نئے پیغمبروں کا انتخاب کر رہے ہو۔ ۔ ۔
لوگ مر رہے ہیں
لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ ۔
(جوزف براڈسکی A Tune for Bosnia )
مردہ لاشوں کے درمیان حیران، روتے بچے کو کس نے جواب دیا تھا، کہ یہاں انسان نہیں رہتے۔ بچے نے انسان کا مطلب بھی کب سمجھا ہوگا۔ کورونا میں مرنے والے زیادہ تر بیمار زدہ بزرگ ہیں۔ ان میں عورتیں بھی ہیں۔ بزرگ مرد بھی۔ دادی اماں، نانی اماں اس پر آشوب موسم کا شکار ہو کر الوداع کہہ رہی ہیں۔ اب ان بزرگ شاخوں سے الجھی ہوئی کہانیاں بھی رخصت ہوئیں۔ یہ دلی ہے، جس کے بارے میں اب خبر ملی ہے کہ ہر تیسرا چوتھا شخص وبا کا شکار ہے۔ لاک ڈاؤن ختم ہو چکا ہے۔ شام کے وقت دکانوں پر تماشا کرتی ہوئی بھیڑ کو پتہ ہی نہیں کہ اس تماشا کا انجام کیا ہوگا۔ گاڑیاں برق رفتاری سے دوڑ رہی ہیں۔ سڑکوں، دکانوں پر موجود چہروں میں کورونا کا خوف نہیں ہے۔ مگر یہ خوف گھر کے دروازے پر قدم رکھتے ہی زندہ ہو جاتا ہے۔
کیا ہم زندہ رہیں گے؟ موسم بہار اور موسم خزاں کا حساب دینے کے لئے؟ جب آفتابی کرنیں چنار کے سرخ پتوں سے ٹکڑا کر چاندنی کی محراب تعمیر کرتی ہیں، گرتے ہوئے آبشار جب روحانی آسودگی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ کیا ہم ہوں گے یہ سب دیکھنے کے لئے؟
موت پر مکالمہ کس قدر آسان ہو گیا ہے۔ کیونکہ ہر گھر سے اہ و فغاں کی آواز گونج رہی ہے۔ ہم چل رہے ہیں مگر موت تعاقب میں ہے۔ ۔ ۔اور سیاست جنگلوں سے نکل کر انسانوں کا شکار کر رہی ہے۔ میں یہ سب دیکھ رہا ہوں۔ کیونکہ ہندوستانی سیاست کے ایسے منظر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ میں کچھ آوازیں سن رہا ہوں۔
’ کیا اس دن فاختائیں ہوں گی؟‘
’ اس دن ہم ہوں گے اور نئی دنیا ہوگی۔‘
’۔ اور اس یقین کو سچ ہونے میں کتنے برس لگ جائیں گے۔ ؟‘
’ جتنے دن جنگلی بلیوں کے دانت نوکیلے ہونے میں لگتے ہیں۔‘
’ جنگلی بلیاں۔ کیا ان بلیوں کا رنگ زعفرانی ہوگا؟‘
’ ہاں۔ اور زمین کا رنگ بھی۔ اور ملک کے نقشے کا رنگ بھی۔ فصیلوں کا رنگ بھی۔ یہاں تک کہ ہمارے چہروں کا رنگ بھی۔‘
’ کیا ہمارے لیے زنداں کے دروازے بھی ہوں گے۔ ؟‘
’ ہاں ہوں گے۔ تب تک ہم اپنے گھوڑوں پر بہت آگے نکل چکے ہوں گے۔‘
’پرندے اڑ گئے۔ ۔ ۔ ملبہ میں حیرتیں دفن ہیں۔ ’
’آہ کورونا‘
’ ایک دن ہم سب حیرتوں میں دفن ہوجائیں گے ‘
ہندوستان سے پاکستان اور پوری دنیا میں اس وقت اگر اس وقت کوئی سرگوشی سنائی دے رہی ہے، تو وہ موت کی سر گوشی ہے۔ موت ہماری طرف بڑھ رہی ہے۔ پہلے ہم نے قہقہے لگائے۔ ووہان شہر اور چین کو لے کر لطائف گھڑے گئے۔ چین، کورونا سے آزاد ہوا، ہمارے لطائف گم ہو گئے۔
کورونا۔ ہم اس خوش فہمی میں تھے کہ زمانہ ہمارا کیا بگاڑے گا۔ جبکہ زمانہ الٹی چال چل چکا ہے۔ بے رحم ساعتوں نے ہمارا گھر دیکھ لیا ہے۔ ہر شخص نشانے پر ہے۔ ۔ ۔
میں نے مرگ انبوہ کے شروع کے صفحات میں لکھا۔
اگر ایک کمرے میں لاشیں سڑ رہی ہوں تو آپ دوسرے کمرے میں آرام سے کیسے رہ سکتے ہیں؟
کیرین تھومس کا ناول ہے، دی ڈریمیرس۔ طاعون نے ایک چھوٹے سے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے : ایک کالج ہے، شہر کے وسط میں۔ کالج کے طالب علم خوابوں کی حالت میں سو جاتے ہیں، لیکن۔ ۔ ۔ وہ نہیں اٹھتے ہیں۔ زندہ بچ جانے والے افراد کو کیمپس میں قرنطین کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ وبا کو وسیع تر آبادی میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔ موت کے درمیان خوابوں کا سلسلہ بند نہیں ہوتا۔
ولیم میکسویل کا ناول ہے۔ دے کیم لائک سوہلوز۔ عالمی وبا کی دہشت میں زندگی کیسی ہو سکتی ہے؟ ہم پہلے ہی دنیا بھر میں پھیلنے والی اور مہلک بیماریوں کا سامنا کرچکے ہیں۔ 1918 کے ہسپانوی فلو سے اس ناول کا خاکہ تیار کیا گیا۔ یہ ایک مختصر ناول ہے جو بیماری اور خوف کے پس منظر کے خلاف ترتیب دیا گیا ہے۔ کیا انسان جینا بھول جاتا ہے؟ جواب ہے نہیں۔ دلی سے لاہور تک لوگ مر بھی رہے ہیں، اور سڑکوں پر زندہ دل لوگوں کی قطار بھی ہے۔
کیا لاک ڈاؤن میں ہم ہنسنا بھول گئے؟ کورونا کے خوف سے کافکا کے میٹا مارفوسس میں تبدیل ہو گئے؟ یا کسی چوہے، چمگادڑ میں؟ اگر ہم ان حالات میں جی رہے ہیں تو ہم ہیمنگوے کے بوڑھے آدمی سے کم نہیں۔

