چین کا ثقافتی انقلاب اور اس کے تہوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہر حال ہم نے ثقافتی انقلاب کے بارے میں صرف پڑھا ہے، اس لئے آپ کو آنکھوں دیکھا حال سنانے سے رہے۔ لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ ہمارے سفارتکاروں تک کو صورتحال کا صحیح ادراک نہیں ہوتا تھا۔ وہ بیجنگ آ کر اسی طرح ماؤ کے قصیدے پڑھنے لگتے تھے جیسے ثقافتی انقلاب تک پوری چینی قوم پڑھتی تھی۔ ان کو اندازہ نہیں تھا کہ چینی دانشور اور دیگر پڑھے لکھے لوگ ثقافتی انقلاب کے دوران کس تکلیف سے گزرے تھے۔ دانشوروں اور فنکاروں پر کتنے ظلم ڈھائے گئے، ریڈ گارڈز نے ثقافتی انقلاب کے دوران دینگ سیاؤ پنگ کے بیٹے کو اٹھا کر ایک اونچی عمارت سے نیچے سڑک پر پھینک دیا تھا اور وہ عمر بھر کے لئے معذور ہو گیا تھا۔

چو این لائی۔ ۔ ۔ سوانحی تذکرہ کے مصنفین کے مطابق، ثقافتی انقلاب کا آغاز 1965 میں موسم سرما کے دوران اخبارات اور رسائل کے صفحات کے ذریعے ایک عام علمی بحث کے پس منظر میں ہوا، جس میں ایک بیجنگ اوپیرا، ہائے زوئی کو اس کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا، کی سیاسی اور ادبی قدر و قیمت کے بارے میں خیال آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ ہائے زوئی ( 1514۔ 1587 ) چین کے ایک عوامی ہیرو ہیں۔ وہ ایک راست باز افسر تھے۔ لوگ ان کی غیر معمولی دلیری اور صاف گوئی کی وجہ سے صدیوں سے ان کے مداح رہے ہیں کیونکہ انہوں نے بے خوفی کے ساتھ شہنشاہ کے منہ پر یہ کہہ دیا تھا کہ وہ غلطی پر تھا۔ ایک اطلاع کے مطابق چیانگ چھینگ نے ماؤ زے تنگ کی ترغیب پر بعض ادیبوں کو اوپیرا کے مصنف کے پیچھے لگا دیا تھا۔ ماؤزے تنگ نے پنڈورا کا صندوق کھول دیا تھا۔ اگر چہ نام کی حد تک ”ثقافتی انقلاب“ میں ضرر کا کوئی تاثر پنہاں نہیں تھا لیکن اس کی پیدا کردہ بعض برائیوں پر بہت عرصہ تک قابو نہیں پایا جا سکا۔

یہ ایک الم ناک حقیقت ہے کہ ماؤ ملکی صورتحال کا ادراک کرنے میں ناکام رہے۔ وہ اس مغالطے کا شکار ہو گئے کہ ترمیم پسندی کے اثرات ہر طرف پھیل رہے ہیں۔ یوں ایک ایسی بے لگام سیاسی تحریک نے جنم لیا جس کی آڑ میں لن پیاؤ، چیانگ چھینگ اور ان کے حلیفوں نے اقتدار پر قبضے کی سازش شروع کر دی۔ اس طرح انتشار اور افراتفری کی آگ بھڑک اٹھی جسے موقع پرست مسلسل ہوا دیتے رہے۔

سرکاری کلیرنگ ہاؤس، شین ہوا نیوز ایجنسی نے نومبر 1980 میں چیانگ چھینگ اور دوسرے ملزمان کے خلاف مقدمے کی رپورٹنگ کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ ”ثقافتی انقلاب“ کے دس سالہ دور میں 34800 افراد کو تشدد کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ بہر حال غیر ملکیوں کے سامنے چینی دانشور ماؤ کے خلاف ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالتے تھے اور اپنا سارا غم و غصہ اپنی تحریروں اور فلموں کے ذریعے چار کے ٹولے کے خلاف نکالتے تھے۔ جہاں تک چینی عوام کا تعلق ہے، انہیں اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی نظریاتی کشمکش کا علم نہیں تھا۔ انہیں اپنے ملک سے محبت تھی اور ان کے لئے سارے لیڈرز قابل احترام تھے۔

خیر ہم تو دینگ سیاؤ پنگ کے چین میں گئے تھے جو اپنے انداز میں مارکیٹ اکنامی کے اصولوں پر چین کو خوشحال بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہاں ثقافتی انقلاب کے حوالے سے آپ کو تا یانگ سے ضرور متعارف کروائیں گے۔ ’تا‘ چینی زبان میں بڑے کو کہتے ہیں۔ شاید غیرملکی زبانوں کے اشاعت گھر میں کوئی چھوٹے یانگ صاحب بھی رہے ہوں گے، اس لئے ان کو تا یانگ کہتے تھے۔ اردو شعبے میں کام کرنے والے تایانگ کو ثقافتی انقلاب کے دوران ایک گاؤں میں زرعی کمیون میں بھیج دیا گیا تھا۔

انہیں کمیون میں کام کرنے والے کسانوں کے لئے کھانا پکانے کی ذمہ داری سونپی گئی اور یوں اردو شعبے میں کام کرنے والا مترجم، تا یانگ ایک ماہر باورچی بن گیا۔ چین میں ہمارے قیام کے آٹھ سالوں میں ہمارے گھر میں جب بھی احفاظ کے دفتر والوں کی دعوت ہوتی تو چینی ڈشز بنانا تایانگ کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ وہ اتنے لذیذ چینی کھانے بناتے تھے کہ سب انگلیاں چاٹتے رہ جاتے۔ چینی لوگ کھانے کو جتنا انجوائے کرتے ہیں، شاید ہی کوئی کرتا ہو۔ کھانے کے ساتھ ساتھ ان کے پسندیدہ مشروبات کا دور اور ہنسی مذاق چلتا رہتا ہے۔

ایک ایک ڈش باری باری آتی رہتی ہے، ہماری طرح شروع میں ہی میز نہیں بھر دیا جاتا۔ آخر میں میٹھا رکھنے کا رواج بھی نہیں ہے بلکہ آخر میں سوپ پیش کیا جاتا ہے۔ تربوز ان کا پسندیدہ پھل ہے جو سرکاری ضیافتوں میں بھی رکھا جاتا ہے۔ آڑو کو تو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ اس کا ذکر ان کی ہر دیو مالائی داستان میں ملتا ہے۔ تہواروں کے موقع پر اکثر بے تکلف احباب کی دعوت میں کسی ایک دوست کو بکرا بنایا جاتا تھا۔ سب اپنے گلاسوں میں پانی اور اس کے گلاس میں اصل مشروب ڈالتے رہتے یہاں تک کہ وہ بیچارہ یا بیچاری انٹاغفیل ہو جائے یا واہی تباہی بولنے لگے۔ بیجنگ کی بیئر بھی بہت مشہور ہے اور جیسے روسی ووڈکا پر فخر کرتے ہیں، چینی موتھائی کو بہترین مانتے ہیں۔

ان کے قمری کیلنڈر میں سال بھی جانوروں کے نام پر ہوتے ہیں، بارہ مہینوں کی ترتیب کچھ یوں ہے : چوہے کا سال، بیل کا سال، چیتے کا سال، خرگوش کا سال، ڈریگن کا سال، سانپ کا سال، گھوڑے کا سال، بکری کا سال، بندر کا سال، مرغے کا سال، کتے کا سال اور سور کا سال۔ تہواروں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ موسم بہار اور نئے سال کی آمد کا تہوار بڑے زوروشور سے مناتے ہیں۔ چینی ایک بے حد مختلف قوم ہیں، نہ وہ مغربی ممالک کے لوگوں جیسے ہیں، نہ ہی وہ ہم مشرقی لوگوں کی طرح ہیں، وہ صحیح معنوں میں ایک مختلف اور بے مثال قوم ہیں۔

روایتی چینی تہوار ان کی تاریخ اور ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔ نئے چینی سال کا تہوار پہلے قمری مہینے کی یکم سے پندرہ تاریخ تک منایا جاتا ہے۔ لالٹینوں کا تہوار پہلے قمری مہینے کی پندرہ تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ چھینگ منگ تہوار چار یا پانچ اپریل کو منایا جاتا ہے۔ اس میں مزاروں کی صفائی کرتے ہیں۔ موسم بہار کا لطف اٹھانے کے لئے گھومنے پھرنے جاتے ہیں۔ ڈریگن بوٹ فیسٹیول بہت مشہور تہوار ہے، اس میں کشتیوں کی دوڑ کے علاوہ خصوصی پکوان، خوشبو دار تھیلیاں، ریشمی دھاگوں سے گرہیں باندھنا شامل ہے۔

ہم 1985 ء میں چین گئے لیکن دینگ سیاؤ پنگ کی کھلے دروازے کی پالیسی کا آغاز 1978 دسمبر میں ہو چکا تھا۔ ذرا سوچئے پہلے 1949 کا انقلاب پھر ثقافتی انقلاب اور پھر غیر ملکی کاروباری کمپنیوں کے لئے چین کے دروازے کھولنا۔ اب چین کی اقتصادی پالیسی کا مقصد غیر ملکی تجارت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ اب چین میں سوشلسٹ منڈی کی معیشت لائی جا رہی تھی۔ سوشلزم چینی خصوصیات کے ساتھ آ رہا تھا۔ اس سے پہلے ہر چیز سرکاری ملکیت میں تھی اور مرکزی منصوبہ بندی کے تحت ہوتی تھی، منصوبہ بندی تو اب بھی مرکز ہی کی تھی لیکن نجی کاروبار کی اجازت مل گئی تھی۔

کچھ لوگ امیر اور کچھ لوگ غریب ہونا شروع ہو گئے تھے۔ ریاست پیسا کمانے کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔ چین عالمی معیشت پر چھانا شروع ہو گیا تھا۔ دینگ سیاؤ پنگ کی کھلے دروازے کی پالیسی سے پہلے چین کے تجارتی تعلقات صرف سوویت یونین آف روس اور اس کے حواری ممالک سے تھے۔ دینگ کو احساس ہو گیا تھا کہ چین کو مغربی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انہوں نے چین کے دروازے غیر ملکی کاروباری افراد کے لئے کھول دیے۔

شروع میں جنوبی چین میں چار خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے گئے جہاں بین الاقوامی سرمائے اور کاروبار کو راغب کرنے کے لئے ٹیکس میں چھوٹ جیسی ترغیبات فراہم کی گئیں۔ سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہانگ کانگ اور تائیوان کے اوور سیز چینیوں نے کی۔ اس کے ساتھ ہی داخلی زرعی اصلاحات کی بدولت چین کی معیشت اوپر اٹھنا شروع ہو گئی۔ (بشکریہ بی بی سی) ۔ یعنی ہمارے قیام کے دوران چین نے دنیا کی تاریخ میں تیز ترین اقتصادی ترقی کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ (جاری ہے )

اس سیریز کے دیگر حصےچین میں آٹھ سال – تیسری قسطتھین آن من چوک پر چینی طلبا کا احتجاج
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply