ڈرائیو اِن سینما: ایک متبادل تفریحی اور کاروباری ذریعہ
گزشتہ دنوں ایک یورپی ملک میں ڈرائیو ان سینما اور وہاں فلم کی نمائش کے بارے میں مضمون پڑھا تو خیال آیا کہ پاکستان میں بھی کرونا کی وجہ سے موجودہ صورت حال میں جبکہ نارمل اور روایتی سینما ز بند پڑ ے ہیں، تو ڈرائیو ان سینما تفریح اور کاروبار کا ایک متبادل اور موثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اس وقت کئی بڑے فلم سازوں اور تقسیم کاروں نے نہ صرف فلموں کے شوٹس بلکہ ان کی ریلیز بھی مؤخر کر رکھی ہے۔ یہ صورت حال تقریباً تمام دنیا میں جاری ہے حتیٰ کہ ہالی وڈ کی کئی بڑے بجٹ اور بڑے سٹوڈیوز کی فلموں کی ریلیز اگلے سال تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک حالات زندگی معمول پر نہ آ جائیں، لوگ روایتی سینما ز میں جا کر فلم دیکھنے کا رسک نہیں لیں گے کیونکہ سب کو اپنی اور خاندان کی زندگی عزیز ہے۔ موجودہ حالات میں سماجی فاصلہ اور وبا سے حفاظت کے پیش نظر سینماز، پارکس، اور دیگر تفریحی مقاما ت کی بند ہیں جس سے سینما کی صنعت بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ اس وقت تفریح کا بڑا ذریعہ ٹی وی اور انٹرنیٹ ہے۔ نیٹ فلیکس کی ویورشپ میں گزشتہ چند ماہ میں اضافہ اسی وجہ سے دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی ممالک میں سینماز بند ہیں۔
تفریح اور کاروبار، یہ دونوں معاملات زندگی کا لازمی جز ہیں۔ فلم اور سینما کے کاروبار سے وابستہ افراد بے روزگاری سے پریشان ہیں جبکہ لوگ بھی گھروں میں بیزار ہو گئے ہیں۔ عید الفطر 2020 ء اسی وجہ سے پھیکی اور بے رونق تھی کہ سینماز کی بندش کی وجہ سے کوئی فلم ریلیز نہ ہوئی۔ فلموں کے ٹی وی چینلز مثلاً ایچ بی او اور سٹار موویز وغیرہ اگرچہ معمول کے مطابق مواد پیش کر رہے ہیں لیکن نئی فلموں کی ریلیز نہ ہونے سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لئے بیرون ملک تو متبادل انتظامات کیے جا ر ہے ہیں لیکن پاکستان میں تاحال کوئی خاص سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
اس مسئلے کا ایک حل ڈرائیو ان سینما ہے۔ اس سے نہ صرف تفریح کے متلاشی لوگوں کی ضرورت پوری ہو گی بلکہ سینما مالکان اور فلم سازوں کو بھی کاروبار کا ایک نیا موقع میسر آ جائے گا۔ اگرچہ ڈرائیو ان سینما کے قیام کے لئے انتظامات کرنے میں کچھ مشکلات بھی ضرور درپیش ہوں گی لیکن جہاں مقصد کا حصول پیش نظر ہو، وہاں مشکلات پر قابو کسی نہ کسی طور کر ہی لیا جاتا ہے۔ اور پھر یہاں تو معاملہ بزنس اور روزگار کا ہے، تو متبادل مواقع سے استفادہ کرنے میں دیر کیسی؟ کم از کم اس کا آغاز تو کیا جائے، باقی معاملات بھی بعد میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
دس سال قبل SZABIST کے طلبہ نے ایک پروجیکٹ کے طور پر کراچی میں ڈرائیو ا ن سینما قائم کر کے ایک فلم کی نمائش کی تھی۔ اس فلم کا ٹکٹ 350 روپے رکھا گیا تھا۔ اس فلم کو دیکھنے کے لئے لوگ بہت بڑی تعداد میں آئے تھے۔
ڈرائیو ا ن سینما کا بنیادی تصور تو یہ ہے کہ لوگ کسی کھلی جگہ پر اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر فلم دیکھیں لیکن اس کے علاوہ صوفے اور بینچ بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں بڑے شاپنگ مالز اور پلازوں، او ر قذافی یا فورٹریس سٹیڈیم میں یہ انتظام ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے یا تو بڑ ے پیمانے پر ساؤنڈ سسٹم لگا دیا جائے یا گاڑیوں میں بیٹھے افراد کو وہیں پر سپیکرز فراہم کر دیے جائیں۔ اس مقصد کے لئے ان لوگوں سے کام لیا جا سکتا ہے جو ڈرائیو ا ن سینما کے قیام و انتظام کا تجربہ رکھتے ہوں۔
کچھ عرصہ قبل ایک ٹویٹر صارف نے ڈرائیو ا ن سینما کے لاہور میں آغاز کی تجویز دی تھی جس پر لوگوں نے متضاد آرا کا اظہار کرتے ہوئے اسے مثبت بھی قرار دیا اور متروک بھی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حالات میں روایتی تفریحی مقامات کے غیرمحفوظ ہونے کی وجہ سے یہ آئیڈیا کا فی حد تک قابل عمل بھی ہے اور قابل قبول بھی۔ یہ دور سینما مالکان اور فلم سازوں کے لئے بہت سخت اور صبرآزما ہے۔ خدا جانے کرونا کی وبا کب ختم ہو گی اور کب حالات زندگی معمول پر آئیں گے؟ ایسے میں کب تک ایک غیریقینی کیفیت کے ساتھ رہا جائے؟ کیوں نہ ہمارے سینما مالکا ن اور فلم ساز باہمی اشتراک و تعاون کے ذریعے اس نئے امکان اور موقع کو اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے لئے استعمال کریں؟
اگر ضروری ایس او پیز کے ساتھ یہ کامیاب ہو جائے تو عوام اور تفریحی صنعت دونوں کا بھلا ہو گا۔ کاروبار اور صنعت کا پہیہ کسی نہ کسی صورت چلانا ہو گا تو کیوں نہ ڈرائیو ا ن سینما کے قیام کی تجویز پر غور کیا جائے۔ اس طرح ریلیز کی منتظر فلمیں بھی عوام النا س تک پہنچ سکیں گی اور سینما و فلم انڈسٹری ایک نئے انداز سے دوبارہ کھل سکے گی۔



