تحریک انصاف کے نوجوان کارکنوں کی خوبیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بطور مثال لے لیجیے۔ ان کے ساتھ آپ کے ہزار اختلافات ہوسکتے ہیں آپ ان کی باتوں پر لعنت بھیج سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ علمی باتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور دلیل جس چیز کا نام ہے یہ لوگ ان کے قریب سے بھی نہیں گزرتے۔ آپ یقین کیجیئے یہ لوگ بحث کے دوران لڑنے پر اتر آتے ہیں اور کبھی کبھار تو لاتوں، گھونسوں اور مکوں سے بھی کام چلا لیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا ان کا سوشل میڈیا پر خاص طور پر مذاق بھی اڑایا جاتا ہے یہ اس مذاق کا جواب بھی دلیل کے بغیر دیتے ہیں۔

نوجوانوں کی شرح پاکستان میں پوری دنیا کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور یہاں کوئی کچھ بھی کہہ لیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ نوجوانوں کی بہت زیادہ تعداد ہے۔ ان کے پاس پچھلے کئی سالوں سے صرف ایک ہی بحث ہے اور وہ ہے سیاست۔ یہ سیاسی میدان میں خود کو ارسطو بھی سمجھتے ہیں اور کایا پلٹنے میں خود کو جدید دنیا کا نیلسن منڈیلا بھی۔ بات اخلاقی اقدار کی ہو، معیشت کی ہو، سماج کی ہو، کھیل کی ہو، فن کی ہو یا سیاست کی یہ ہر موضوع پر بغیر دلیل کے بات کرنے میں ملکہ رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ آپ جس بات پر بھی بحث کریں گے یہ اس بحث میں عمران خان کی شخصیت کو لازمی طور پر شامل کریں گے اور اس کے بعد یہ زمین و آسمان کے قلابے ملائیں گے اور آپ کے سامنے یہ ثابت کرکے ہی رہیں گے کہ عمران خان ہی وہ واحد انسان اور نجات دہندہ ہے جو ہماری حالت بدل سکتا ہے۔

لب لباب یہ ہے کہ آپ ان کے ساتھ ہر بات میں اختلاف رکھ سکتے ہیں، ان کی مذمت کر سکتے ہیں، ان کو ملک و قوم کے تمام نقصانات کا ذمہ دار ٹھہراسکتے ہیں لیکن آپ ان کے خلوص پر، ان کے جذبے پر اور ان کے اپنی قیادت پر اعتماد پر شک نہیں کر سکتے۔ آپ بے شک ان کو تاریخ کے کوڑا دان میں پھینک دیجئیے لیکن آپ کو ان کی چند بنیادی خوبیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔

ان لوگوں نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں ایک پوری اجتماعیت کو شامل کیا تھا۔ آپ مانے یا نہ مانے لیکن اس خواب کو دیکھتے وقت ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کبھی ایسے حالات بھی پیدا ہو جائیں گے جن کی وجہ سے ان کی اعلیٰ قیادت کو لوگ کوسیں گے۔

آپ کو یاد ہوگا ان کی قیادت نے جب بھی ان کو بلایا جہاں بھی بلایا یہ وہاں پہنچ گئے۔ ان لوگوں نے موسم کی سختیوں کا خیال کیا نہ ذاتی مسائل کا رونا رویا۔ ملک کی تمام شاہراہوں پر ان کے قدموں کے نشانات موجود ہیں ان ساری کوششوں کے پیچھے ان تمام ورکروں نے کوئی انفرادی فائدہ شامل نہیں کیا تھا۔ آپ یقین کیجیئے ان لوگوں نے ذاتی روزگار کے لئے ذاتی فائدوں کے لئے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ ان کے پیچھے بس ایک ہی موٹیویشن تھی جب آئے گا عمران سب کی جان بڑھے گی اس قوم کی شان بنے گا نیا پاکستان۔

ان کے قائد کی پکار تھی کہ میرے علاوہ سب چور ہیں انہوں نے سر تسلیم خم کیا۔ ان کے قائد نے جب کہا کہ میں وہ واحد انسان ہوں جسے اس قوم کے لئے آخری امید سمجھا جاسکتا ہے ان لوگوں نے سوال نہیں اٹھایا بلکہ سر جھکایا اور اسی کو حرف آخر سمجھنے لگے۔

میں اب بھی بے شمار پی ٹی آئی ورکروں کو دیکھتا ہوں جو بے روزگار ہیں، بھوکے ہیں، پیاسے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خان صاحب کے خلاف ایک لفظ تک برداشت نہیں کرتے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔ آپ کو پتا ہے انتہائی سخت حالات میں بھی یہ پر امید رہتے ہیں۔ ان کو جب کہا جاتا ہے کہ تبدیلی کہاں ہے۔ ادارے دم توڑ رہے ہیں عوام در بدر ہیں تو یہ سادہ انداز میں جواب دیتے ہیں۔ خان صاحب کو تھوڑا وقت چاہیے ان شاءاللہ ا ایک دن آئے گا جب پورا پاکستان جھوم اٹھے گا۔

ان ساری خوبیوں کے بعد میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ یہ لوگ بے شمار خامیوں کے باوجود نیت کے صاف ہیں۔ اس بڑی اجتماعیت کے پاس بس ایک ہی سوچ ہے کسی طرح پاکستان عالمی دنیا میں اپنا مقام پیدا کریں اور اسی وجہ سے یہ لوگ اپنے قائدین کی ہر بات کو سپورٹ کرتے رہتے ہیں لیکن میرے ذہن میں ایک کنفیوژن ہے اگر اس بڑی اجتماعیت کو مایوس کیا گیا تو نتیجہ کیا ہوگا۔

پہلے پہلے جب حکومت آئی تو ان لوگوں کا اعتماد آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کے اعتماد میں کمی آئی اور اب پٹرول کرائسز میں جب یہ لوگ خود قطاروں میں خوار ہو رہے ہیں تو ان کے اپنے ان کو کوس رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس یہی امید ہی واحد چیز ہوتی ہے جس کو لے کر یہ دوسروں کو یہی کہہ رہے ہوتے ہیں خان صاحب رفتہ رفتہ چیزوں کو ٹھیک کر لیں گے۔

قیادت پر اتنا شدید اعتماد پاکستان کے تاریخ میں شاید ہی کہیں ہو۔ خان صاحب ان لوگوں کے بل بوتے پر بڑے بڑے مافیاز کو للکارتے رہے۔ الیکشن کے دنوں میں یہ جنون شدت اختیار کر گیا اور خان صاحب اقتدار کے تخت پر براجمان ہو گئے۔

خان صاحب اگر صرف ان لوگوں کی محبت کی یاد تازہ کریں تو مجھے یقین ہے ان کے سامنے کوئی مافیا ٹھہر نہیں سکے گا۔ آپ کو یاد ہوگا خان صاحب ایک جلسے کے دوران سٹیج سے گر کر زخمی ہوئے تھے میں نے بے شمار ایسے ورکرز ان کے دیکھے تھے جو کئی دن روتے رہے۔ اس محبت کا تقاضا کیا ہے آسان سی بات ہے ان لوگوں کی امید کو زندہ رکھنا۔ آپ یقین کیجیئے ایسے مخلص لوگ جس بھی پارٹی کے پاس ہوں گے وہی کامیابی کی طرف جائے گی۔

ان کی ہزار خامیاں ایک طرف اور چند خوبیاں ایک طرف۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ان لوگوں کو مایوس ہونے سے بچایا جائے ورنہ کارکن اگر اسی طرح مایوس ہوتے رہے تو تباہی مقدر ہی بنے گی۔

خان صاحب اور اس کی حکومت کو جس دن پی ٹی آئی کے ورکروں کا جنون حقیقت میں نظر آ جائے گا آپ یقین کیجیئے اسی دن سے حقیقت میں یہ لوگ تبدیلی کی طرف اس ملک کو لے جاسکیں گے۔ ایسا اگر ہوا تو ٹھیک ورنہ یاد رکھئیے ایک بڑی اجتماعیت جن کے نیت کم سے کم صاف ہیں مایوسی کی طرف بڑھ رہی ہے اور خان صاحب اگر اس مایوسی کے آگے بند نہ باندھ سکے تو تاریخ کبھی بھی ان کو معاف نہیں کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply