14 جون: خون عطیہ کرنے والوں کا عالمی دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

14 جون کا دن خون کا عطیہ دینے والوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی تو خون بہانے کے علاوہ پریمی کو ”اصیل عاشق“ ہی نہیں مانتے۔ وہ خون، جو زندگی کی علامت ہے۔ ۔ ۔ جو جب تک رگوں میں دوڑتا ہے، ان کو رباب بنائے رکھتا ہے، تو زندگی بولتی ہے۔ ۔ ۔ گاتی ہے۔ ۔ ۔ رنگ بکھیرتی ہے اور ایسی ہلچل مچائے رکھتی ہے، کہ عرش والے بھی حیرت سے تکتے ہیں۔

بقول اقبال کے :
ہے گرمیٔ آدم سے ہنگامۂ عالم گرم
سورج بھی تماشائی، تارے بھی تماشائی

اور وہی اقبال اسی لہو کو گرم رکھنے کا بہانہ ”پلٹ کے جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا“ بھی بتاتا ہے۔ شاہ بھٹائی نے بھی اپنے کلام میں کئی ایک مقامات پر خون کا (کہیں براہ راست معنوں میں، تو کہیں استعارے کے طور پر) ذکر کیا ہے اور خون کو جواں مردی، بہادری، حرکت اور ہلچل کے ساتھ ساتھ جنگ و جدل کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ زندگی بھی سانسوں کے ساتھ ایک جنگ ہی کا نام ہے۔ زیست خود ایک بہت بڑا معرکہ ہے، جو جنگ انسان اپنے آخری سانس تک بغیر کسی وقفے کے لڑتا رہتا ہے۔ انسان، زندگی میں ہر لمحے ”دستیابی“ کے حوالے سے کبھی بھی خود کفیل نہیں رہ پاتا اور اسے کبھی بھی، کسی سے بھی، کسی بھی چیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ۔ ۔ خون کی بھی۔ ۔ ۔ اور اگر اسے خون صحتمند نہ ملے، تو وہ صرف اس ایک وجہ سے بھی موت سے ملاقات کر سکتا ہے۔

بنیادی طور پر تمام انسانوں میں چار اقسام کا خون ہوتا ہے۔ ایک: ”اے“ ، دوسرا: ”بی“ ، تیسرا: ”اے بی“ اور چوتھا: ”او“ ۔ ان میں سے ہر حرف سے مراد، خون کے لال اجزاء کی سطح پر موجود ”اینٹیجن“ یا پروٹین کی قسم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، خون کا ہر گروپ اپنے اپنے ”آر ایچ فیکٹر“ (رہیسس فیکٹر) کے ”مثبت“ (پازیٹو) یا ”منفی“ (نیگیٹو) ہونے کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے، یعنی آپ کا خون ”اے“ ، ”بی“ ، ”اے بی“ یا ”او“ کے اینٹیجن میں سے ”نیگیٹو“ بھی ہو سکتا ہے اور ”پازیٹو“ بھی!

خون کی تازہ ترین شماریاتی ریسرچ کے مطابق امریکا کے 85 فیصد باشندوں اور چین کے 99 فیصد سے زاید باشندوں کا خون ”پازیٹو“ (آر ایچ) گروپس سے متعلق ہے۔ خون کے تمام گروپس میں سے ”اؤ۔ پازیٹو“ خون کو ”یونیورسل ڈونر گروپ“ قرار دیا گیا ہے، جس خون کا مالک شخص، ہر پازیٹو آر ایچ خون رکھنے والے شخص (مرد خواہ خاتون) کو خون عطیہ کر سکتا ہے۔ ”مثبت“ کے مقابلے میں خون کے ”منفی“ گروپس زیادہ کمیاب ہوتے ہیں اور کم لوگوں میں ملتے ہیں۔

سب سے زیادہ کم دستیاب خون کا گروپ ”اے بی نیگیٹو“ ہے۔ حال ہی میں دریافت شدہ ”بمبئی گروپ“ اور بھی کمیاب ہے، بلکہ دنیا میں کمیاب ترین ہے۔ اس حد تک کہ آپ میں سے بہت سوں نے تو اس گروپ کا نام تک نہیں سنا ہوگا۔ اس گروپ کو ”ایچ ایچ“ گروپ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ”ایچ“ اینٹیجن پر مشتمل ہوتا ہے۔ خون کے ان مختلف گروپس کے حوالے سے توہم پرستوں نے تو خصائل سے بھی وابستہ کر رکھے ہیں، کہ فلاں گروپ سے متعلق شخص میں فلاں خوبیاں ہوں گی اور فلاں گروپ سے متعلق میں فلاں۔ ۔ ۔ مگر ان باتوں کا جینیاتی سائنس کے حوالے سے حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بتایا جاتا اور یہ باتیں فقط ”دل کو بہلانے کے خیال“ کی حد تک سنی اور سنائی جا سکتی ہیں۔

ہمیں بیسویں صدی کے آغاز سے قبل معلوم ہی نہیں تھا کہ خون کے بھی کوئی الگ الگ گروپس ہوتے ہیں۔ حالانکہ خون کی انسانی جسم میں منتقلی (ٹرانسفیوژن) ہم نے 17 ویں صدی ہی میں کرنا شروع کر دی تھی اور 15 جون 1667 ء کو خون کی ایک جانور کے جسم سے انسانی جسم میں منتقلی کا کامیاب تجربہ ہو چکا تھا، جب ایک 15 سالہ زخمی بچے کو بھیڑ کا خون لگایا گیا اور اتفاق سے اس نونہال کی زندگی بچ بھی گئی تھی، مگر خون کے گروپس کی تفریق اور ان کے الگ الگ خصائل کے بارے میں ہمیں پہلی مرتبہ، 1901 ء میں آسٹریا کے مشہور طبیب، حیاتیات اور انسانی نظام مدافعت (امیون سسٹم) کے ماہر، ”کارل لینڈاسٹینر“ (پیدائش: 14 جون 1868 ء۔

وفات: 26 جون 1943 ء) نے بتایا کہ خون کے کون کون سے اور کتنے الگ الگ گروپس ہوتے ہیں۔ ان کے اس عظیم و منفرد کارنامے کی وجہ سے انہیں 1930 ء میں نوبل پرائز بھی ملا۔ 14 جون اسی ”کارل لینڈاسٹینر“ کی سالگرہ کا دن ہے، جس دن کو اقوام متحدہ کی جانب سے ”خون عطیہ کرنے والوں کے عالمی دن“ کے طور پر منانے کے حوالے سے موزون ترین قرار دیتے ہوئے، 16 برس قبل 2004 ء سے اس دن کو منائے جانے کا آغاز ہوا۔

دنیا کا اولین بلڈ بنک، 1937 ء میں امریکی شہر ”شکاگو“ کے ”کک کاؤنٹی ہسپتال“ میں ”برنارڈ فینٹس“ نامی طبی ماہر نے قائم کیا۔ دنیا کے اکثر ممالک میں انسانی خون کی خرید و فروخت قانونی طور پر جرم ہے۔ آپ بحالت ضرورت، دستیاب خون کے بدلے مطلوبہ خون ”ایکسچینج“ کی بنیاد پر لے سکتے ہیں، مگر یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ خون کی فروخت کا مکروہ کاروبار دنیا کا ایک بہت بڑا ”غیرقانونی دھندھا“ بنا ہوا ہے۔ خود امریکا میں عطیہ شدہ خون بیچنا ایک بھر بڑا کاروبار ہے۔

انسان کو اس کے خون کا گروپ بھی وراثت میں ملتا ہے، مگر یہ ہمیشہ لازم نہیں ہے کہ جو والدین کے خون کے گروپ ہوں، اولاد کے خون کا گروپ بھی انہی میں سے کوئی ہو۔ ہر انسان کے خون کا گروپ پیدائش تا مرگ ایک ہی رہتا ہے، اس لیے ہم میں سے ہر کسی کو اپنے اپنے خون کا گروپ معلوم ہونا چاہیے، تاکہ جب بھی ہمارے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے، تو اس صورت میں وقت بچایا جا سکے اور فوری طور پر مطلوبہ خون کا عطیہ دیا یا لیا جا سکے۔ اب تو ”نادرا“ کی جانب سے ہر پاکستانی کی ذاتی تفصیلات کے اندراج کے وقت خون کا گروپ بھی درج کیا جاتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر شہری کو جاری کیے جانے والے قومی شناختی کارڈ پر بھی اس کے بلڈ گروپ کا اندراج لازما کروایا جائے، تاکہ کسی ایمرجنسی صورتحال میں ایسا اندراج طبی عملے کے لیے مددگار ثابت ہو سکے۔

پاکستان میں خون کا عطیہ دینے کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے، 29 برس سے کم عمر نوجوانوں کی 70 فیصد آبادی ہونے کے باوجود بھی ہمارے یہاں رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے والوں کی شرح صرف 10 فیصد ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اعداد و شمار کے مطابق، پوری دنیا میں ہر سال 11 کروڑ 25 لاکھ خون کے عطیات اکٹھے کیے جاتے ہیں، جن میں سے تقریباً آدھے عطیات، دنیا کے (اقتصادی حوالے سے ) امیر ممالک کے باشندوں کی جانب سے دیے جاتے ہیں۔

دنیا کے 57 ممالک ایسے ہیں، جن کے پاس 100 فیصد دیا جانے والہ عطیۂ خون، خالصتاً رضاکارانہ طور پر انسانذات کی مدد کے لیے دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندر سال بھر جو خون عطیہ کیا جاتا ہے، اس کا 90 فیصد، رشتہ داروں کی جانب سے اپنے ہی اقارب کو بحالت ضرورت عطیہ کیا جاتا ہے، جبکہ جذبۂ انسانی کے تحت، ہمارے یہاں فقط 8 سے 10 فیصد خون عطیہ کیا جاتا ہے۔ خون کی ایک بوتل میں 525 ملی لٹر خون کی مقدار ہوتی ہے اور ایک صحتمند بالغ انسان کے جسم میں 8 تا 12 بوتلوں جتنا ( 2.4 لٹر سے 3.6 لٹرز تک) خون گردش کرتا ہے۔

اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں کے مختلف ہسپتالوں میں داخل مریضوں کے لیے سالانہ مطلوبہ خون، اوسطاً 15 لاکھ بوتلیں ( 7 لاکھ 87 ہزار 500 لٹر) ہے، جس میں سے 40 فیصد سرکاری بلڈ بنکوں سے فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ اگر پاکستان کی آبادی کا صرف ایک فیصد (سو میں سے صرف اور صرف ایک آدمی) بھی اپنا خون عطیہ کرے، تو ملک بھر کی موجودہ خون کی ضروریات کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت 150 سرکاری اور 450 نجی بلڈ بینکس موجود ہیں، جن میں سے اکثر بلڈ بینکس ہسپتالوں کے اندر قائم ہیں۔

نجی بلڈ بینکس میں سے اکثر بلڈ بینکس رجسٹرڈ اور ریگیولرائیزڈ نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے غیر معیاری اور غیر اسکرین شدہ خون کی منتقلی ہمارے یہاں عام مشق بنی ہوئی ہے، جس کے سبب واقع ہونے والی اموات کی شرح کا ہمارے یہاں کوئی بھی مستند رکارڈ ترتیب نہیں دیا جاتا۔ خون کی ہر منتقلی سے قبل ہر عطیہ شدہ سیمپل کا ایچ آئی وی، ہیپاٹائیٹس، سائفلس، ویسٹ نائل وائرس اور دیگر محلق بیماریوں کا ٹیسٹ کر کے یہ تسلی کر لینا ہر بلڈ بینک کے لیے لازم ہے کہ وہ خون ان تمام بیماریوں سے پاک ہے یا نہیں!

فقط ان بیماریوں کے ٹیسٹس سے اسکرین شدہ خون ہی ضرورت والے جسم میں ٹرانسفیوژ کیا جا سکتا ہے، جبکہ پاکستان میں کسی بھی بلڈ بنک پر ایسی مانیٹرنگ، سرے سے ہے ہی نہیں کہ وہ کسی بھی مریض کو لگنے والے خون کی جامع اسکریننگ کر بھی رہے ہیں یا نہیں! خون کے بنکوں کی رجسٹریشن اور ریگیولرائیزیشن میں کوتاہی ہر گزشتہ حکومت کی غفلت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے، کیونکہ خون کی منتقلی ایک ایسا نازک معاملہ و مرحلہ ہے، جس سے براہ راست مریض کی زندگی و موت وابستہ ہے۔

17 سال سے بڑا ہر صحتمند شخص ہر 8 ہفتوں ( 56 دنوں ) میں خون کی ایک بوتل عطیہ نہ صرف کر سکتا ہے، بلکہ اسے اپنے جسم میں نئی خون سازی کے لیے اپنا خون ضرور عطیہ کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ خون دینے کی زیادہ سے زیادہ کوئی عمر نہیں ہے۔ آپ جب تک صحتمند ہیں اور آپ کو کوئی بیماری لاحق نہیں ہے، آپ کسی بھی عمر تک خون عطیہ کر سکتے ہیں۔ کیا ہم بھی اپنا خون اجنبی ضرورتمندوں کو عطیہ کر کے ان کے ساتھ زندگی نہیں بانٹ سکتے؟ کیا پتہ، کل ہم خود ضرورتمند ہوں اور ایسے ہی کسی اجنبی کا خون ہماری زندگی بچانے کا سبب بن جائے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply