تعلیم کا حصول اور قوموں کی ترقی
ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم صرف ذریعہ معاش کے لئے ہی نہیں بلکہ معاشرتی ترقی کے لئے بھی ایک اہم اور بنیادی جزو کی سی حیثیت رکھتی ہے۔
Covid 19 سے جہاں دنیا بھر کی دیگر سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں وہاں تعلیم کے شعبے کو بھی بے انتہا چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر طبقہ طالب علم ہیں، جنہیں اس عالمی وبا کی وجہ سے بے انتہا مشکلات درپیش ہیں۔ ۔ ۔
دنیا میں تمام طلبا و طالبات کو جس سب سے بڑی مشکل کا سامنا ہے، وہ ہے آن لائن ذریعہ تعلیم۔ ۔ ۔ ترقی پذیر ممالک کی کیا بات کرنا، ترقی یافتہ ممالک کے طلباء آن لائن ذریعہ تعلیم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اکیلے امریکہ میں طالب علموں نے 25 یونیورسٹیوں کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو فیس حصول تعلیم کی مد میں جمع کروائی تھی وہ آن کیمپس۔ ان کلاس ذریعہ تعلیم کے لئے تھی، اب جبکہ وہ گھروں سے ہی بذریعہ انٹرنیٹ یہ تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کردیئے گئے ہیں تو پھر وہ اتنی بھاری بھر کم فیسیں کیوں ادا کریں، اور وہ بھی اس تعلیم کے لئے کہ جس کا معیار کسی بھی صورت آن کیمپس۔ ان کلاس کے برابر تو کیا، اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ ۔ ۔ نہ ہی اساتذہ آن لائن ٹیچنگ کے لئے ”ٹرینڈ“ ہیں اور نہ ہی یونیورسٹیوں کا موجودہ نظام اتنی اہلیت رکھتا ہے کہ ایک عمدہ اور معیاری تعلیم مہیا کی جا سکے۔ امید ہے کہ امریکی جمہوری معاشرہ اور اس کی آزاد عدلیہ طالب علموں کی داد رسی ضرور کریں گی۔
اب کچھ بات کرتے ہیں پاکستان کی، جہاں چند روز پہلے طلباء و طالبات کے نمائندوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا اعلان کیا کہ وہ آن لائن تعلیم کے مروجہ طریقہ کار سے بالکل بھی مطمئن نہیں۔ ۔ ۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ اس طریقہ تعلیم میں مہارت تو کجا ابتدائی بنیادی لوازمات تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ ستم یہ کہ ان کے والدین کی حق حلال کی کمائی بھاری بھر کم فیسوں کی صورت میں سمیسٹر کے شروع میں ہی یونیورسٹیوں نے حاصل کرلی تھی۔ یہ فیس Spring سیمسٹر کے لئے لی گئی تھی، باوجود اس کے کہ یونیورسٹیوں کو اس بات کا پہلے سے ادراک تھا کہ طالب علموں کو زیادہ تر تعلیم (کم از اس سیمسٹر میں ) اپنے گھروں پر ہی رہ کر اپنے تئیں حاصل کرنا ہوگی۔
اسی پریس کانفرنس میں طلباء نمائندوں نے HEC سے اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ وہ یونیورسٹیوں کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ طلباء کی اداشدہ فیسیں انہیں واپس کریں، وگرنہ تمام پاکستان کے طلباء و طالبات اپنے حق کے لئے سڑکوں پر آ جائیں گے۔ ۔ ۔
اب آپ ملاحظہ فرمائیں چیئرمین HEC کا بیان جو کہ انہوں نے طلباء کی پریس کانفرنس کے جواب میں دیا۔ ۔ ۔ موصوف حضرت ڈاکٹر طارق بنوری صاحب کہتے ہیں کہ ”اگر طالب علم آن لائن تعلیم جو کہ اس وقت یونیورسٹیوں سے مہیا کی جارہی ہے، اس سے مطمئن نہیں تو وہ اپنے سیمسٹر کو“ فریز ”کروادیں“ ۔ ۔ ۔ حساب لگائیں یعنی کہ اگر آپ کو روٹی نہیں مل رہی تو آسان حل یہ ہے کہ آپ بھوکے رہ لیں، بجائے اس کے کہ آپ کے لئے روٹی کا بندوبست کیا جائے۔ ماشاءاللہ کیا کہنے ہیں!
اب آپ خود ہی انصاف کیجئے کہ جب کسی ادارے کا سربراہ جو کہ ذمہ دار ہو پورے ملک کے اعلی نظام تعلیم کا، اس طرح کا بیان دے گا تو آپ اس کی اس بات سے اس کی نظر میں تعلیم کے لئے قدر و قیمت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ۔ ۔
چیئرمین HEC کی قابلیت اور خدمات کا تزکرہ پھر کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں، کیونکہ جو حال اعلی نظام تعلیم کا وہ کر رہے ہیں، اسے ٹھیک کرنے کے لئے آنے والے وقت میں کسی طلسماتی جادو کی ضرورت ہوگی۔ ۔ ۔
فالحال تو اس بات کا حل چاہیے کہ اگر مستقبل قریب میں Covid 19 کی وجہ سے سلسلہ تعلیم کو اسی طرح جاری و ساری رکھنا پڑا تو کیا پاکستانی نظام تعلیم اپنے اندر اتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ کہ وہ ایک منظم اور مربوط نظام کی عدم موجودگی میں اعلیٰ پائے کی تعلیم ان علم کے پیاسوں کو میسر کر سکے گا یا نہیں؟ جس کے بغیر کسی بھی قوم کی ترقی اور کامیابی ممکن ہی نہیں۔ ۔ ۔
اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں ابھی انتظار کرنا ہوگا کہ جناب چیئرمین HEC اس وقت نیند میں ہیں۔ ۔ ۔ نیند میں تو وہ خیر سے مستقل اس وقت سے ہیں جب سے چیئرمین بنے ہیں، اب دیکھئے کہ کب کوئی شہزادہ آتا ہے انہیں ان کی نیند سے بیدار کرنے کو؟
لہذا اس قوم کے معماروں کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ جو کچھ سیکھنا ہے خود ہی سیکھ لیں، نہ تو آپ کا نظام تعلیم اس قابل ہے اور نہ ہی اس کے چلانے والے کہ وہ آپ کی پیاس علم کو بجھا سکیں۔ ۔ ۔


