کووڈ-19 (COVID-19) سے کیا مراد ہے
میرے سمیت ہر عام شخص ہمیشہ اس کشمکش میں مبتلا رہتا ہے کہ مختلف وائرس اور بیماریوں کے مختلف نام کس بنیاد پر اور کیسے رکھے جاتے ہیں۔ آئیے اس پر کچھ حد تک روشنی ڈالنے اور سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ صرف بیماریوں کے نام جانتے ہیں جبکہ وائرس یا کسی اور جراثیم مسلاً بیکٹیریا وغیرہ کے نام سے واقف نہیں ہوتے۔
ان کے نام رکھنے کے پیچھے بہت سارے عوامل اور مقاصد کار فرما ہوتے ہیں۔ وائرس کا نام اس کے جینیٹک اسٹرکچر یعنی جینیاتی ڈھانچے کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی تشخیص کے لئے کیے جانے والے ٹیسٹ اور پھر اس وائرس کی پیدا کردہ بیماری کے علاج کے لئے ویکسین اور ادویات کی تیاری میں آسانی ہو۔ یہ کام وائرولوجسٹ کے ذمے سونپ دیا جاتا ہے، جو بین الاقوامی ادارے ”آئی سی ٹی وی“ کے زیر نگرانی اپنا کام سرانجام دیتے ہیں۔
بیماریوں کے نام اس کی پرہیز، پھیلاؤ، منتقلی، شدت اور علاج معالجے پر تعمیری بحث کرنے کی مقصد کے تحت رکھے جاتے ہیں۔ انسانی بیماریوں کے علاج کی تیاری اور ردعمل عالمی ادارہ صحت کے بنیادی کردار میں شامل ہے۔ لہٰذا بیماریوں کے نام عالمی ادارہ صحت کے زیر سایہ ”بیماریوں کے بین الاقوامی درجہ بندی“ کے ادارے میں رکھے جاتے ہیں۔
موجودہ کورونا وائرس اور اس کی وجہ سے پیدا شدہ بیماری کے نام بھی باقی بیماریوں کی طرح مندرجہ بالا بین الاقوامی اداروں نے رکھ دیے ہیں۔ 11 فروری 2020 میں اس نئے وائرس کو سارس کو وی۔ 2 ( SARS۔ CoV۔ 2 ) مطلب Severe Acute Respiratory Syndrome CoronaVirus۔ 2 کا نام دیا گیا۔ یہ نام اس کو اس لئے دیا گیا کیونکہ جینیاتی لحاظ سے یہ اس کورونا وائرس سے مماثلت رکھتا ہے جو اس سے پہلے 2003 میں SARS کے پھیلاؤ کا مؤجب گردانا گیا تھا۔
جبکہ اس وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ بیماری کو عالمی ادارہ صحت نے کووڈ۔ 19 ( COVID۔ 19 ) کا نام دیا۔ جس میں ”CO“ کا مطلب کورونا ”VI“ کا مطلب وائرس اور ”D“ کا مطلب Disease یعنی بیماری اور ”19“ کا مطلب 2019، کیونکہ یہ بیماری دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے پھیلی چکی ہے، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
آج کل اس وائرس کو بھی COVID۔ 19 Virus کے نام سے منسوب کیا گیا ہے، تا کہ عام آدمی بلاوجہ SARS جیسے دہشت ناک نام سے مزید گھبراہٹ کا شکار نہ ہو جائے۔


