عالمی مالیاتی ادارے ترقی پذیر معیشتوں کو تباہ کر رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنگ عظیم دوئم کے ساتھ یورپ اور کسی حد تک امریکہ کی معیشتیں بھی زمیں بوس ہو گئیں۔ یہ طویل جنگ کیونکہ یورپ میں لڑی گئی تھی اس لئے معاشی اور اقتصادی نقصانات بھی یورپی ممالک کے زیادہ ہوئے۔ ان تباہ کن معاشی نقصانات اور آیندہ آنے والی بے روزگاری کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ جنگ ختم ہونے سے ایک سال پہلے ہی۔ یعنی جولائی 1944 میں دنیا کی 44 اقوام نے جو براہ راست اس جنگ میں ملوث نہیں تھیں۔ چند انتہائی اہم مالی اور معاشی اقدامات کا فیصلہ کیا۔ دو افراد جان کینز جو برٹش ٹریژری کا چیف تھا اور ہیری وایٹ جو امریکی خزانے کا انچارج۔ دونوں نے جنگ عظیم ختم ہونے سے پہلے ہی یہ بھانپ لیا تھا کہ جنگ سے متاثرہ ممالک کی معیشتوں کو کیا صورتحال پیش آئے گی۔

چنانچہ امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے تفریحی مقام بریٹن ووڈ میں پہلی جولائی 1944 سے 22 جولائی تک ایک مالی اور معاشی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں 44 ممالک کے 730 مندوبین شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد جنگ کے خاتمے پر عالمی معاشی اور اقتصادی نظام کو ریگولیٹ کرنا تھا۔ چنانچہ ممبر ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے کہ قانون سازی کے بعد ایک عالمی بنک آئیبی آر ڈی یعنی ( انٹرنیشنل بنک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ ) جو بعد میں ورلڈ بنک کے نام سے مشہور ہوا۔ اور ایک فنڈ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی ( آئی ایم ایف ) کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

بریٹن وڈ کانفرنس کے تین بڑے اہداف تھے۔ پہلا آئی ایم ایف کا قیام۔ جس کا بنیادی کام ایکسچینج ریٹ پالیسی اور مالیاتی ہہاؤ کو فروغ دینا اور اس کو مضبوط بنانا تھا۔ بعد میں آئی ایم ایف کے فرایض میں یہ بھرشامل ہوگیا کہ وہ ممبر ممالک جو ادائیگیوں کے توازن میں مشکلات کا شکار ہیں ان کی بھی مدد کی جائے۔

دوسرا بڑا ایگریمنٹ ورلڈ بینک کو قائم کرنا تھا جس کا بنیادی مقصد جنگ سے ہونے والی معاشی تباہ کاریوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا اور زمین بوس انفراسٹرکچر کو بحال کرنا تھا۔ لیکن کانفرنس کے مندوبین کے نزدیک عالمی معیشت کی بحالی کے لئے آئی ایم ایف کا قیام زیادہ اہم تھا۔ لیکن یہی مانیٹری فنڈ جو جنگ زدہ معیشتوں اور عالمی مالیاتی نظام کو درست کرنے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ آنے والی دہائیوں میں پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کے لئے بگاڑ کا باعث بن گیا۔

ہم اس مضمون میں آئی ایم ایف کی کارکردگی پر ہی فوکس کریں گے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ جو ملک قرضوں کے حصول کے لئے مالیاتی اداروں کے چنگل میں پھنس گیا۔ وہ پھر کبھی ان اداروں کا آہنی جال توڑ کر باہر نہیں آ سکتا۔ بیشتر غریب اور پس ماندہ ممالک کی معیشتیں آئی ایم ایف کی غلط اور ناقص پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔

قرضوں کے حصول کے لئے آئی ایم ایف کی شرائط نہایت سخت اور کڑی ہوتی ہیں۔ جن کا پورا کرنا غریب اور ترقی پذیر ممالک کے لئے ناممکن یا دشوار ترین ہوتا ہے۔ یہ ممالک اپنی تباہ حال معیشتوں کو بچانے کے لئے ان کڑی شرائط کو بھی منظور کر لیتے ہیں۔ لیکن قرض کی واپسی مع سود ناممکن ہو جاتی ہے۔ آئی ایم ایف کی سب سے کڑی اور تباہ کن شرط اس ملک کی کرنسی کی گراوٹ یا ڈی ویلیوایشن ہوتی ہے۔ پاکستان دنیا میں اس کی سب سے بدترین مثال ہے۔ جس کے روپے کی قیمت آئی ایم ایف کے دباؤ پر یک دم 30 فی صد سے زائد گرا دی گئی

دوسری بڑی شرط قرض دار ملک کے ریونیو کے حصول میں اضافے کی ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ جس ترقی پذیر ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح دس فی صد یا اس سے کم ہو۔ اس ملک میں ٹیکس کی چوری ہوتی ہو۔ یا جس ملک کی ٹیکس اکٹھا کرنے والی مشینری یا ادارے خود نا اہل، بدعنوان، اور نالائق ہوں۔ وہاں ریونیو میں اضافہ کروانا ایک نہایت مشکل امر ہوتا ہے۔ تیسری کڑی شرط جس سے قرض دار ملک کی غریب اور مفلوک الحال عوام مزید غربت کی دلدل میں دھنس جاتی ہے۔ وہ بالواسطہ یا ان ڈائرکٹ ٹیکسز ہیں۔ یعنی وہ اشیا اور سہولیات جو عوام کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں۔ مثلاً بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے پر اصرار کیا جاتا ہے، انتہائی ضروری غذائی اشیاء پر دی جانے والی سبسڈی ختم کروانے کے لئے زور دیا جاتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کروایا جاتا ہے۔

عوام کی بچتوں پر منافع کی شرح کو کم سے کم رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ یعنی ہر وہ ہتھکنڈا استعمال کیا جاتا ہے۔ جس سے قرض دار ملک کی معیشت درست سمت اختیار کرنے کے بجائے مزید بگڑ جاتی ہے۔ جب قرض کی اقساط مع سود کی واپسی ناممکن ہو جاتی ہے تو پہلے سے قرضوں میں جکڑے ممالک کو مزید قرض دے کر گزشتہ اقساط ایڈجسٹ کر لی جاتی ہیں۔ اور قرض کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

سال 2001 سے سب سہارا افریقن ریجن کے 38 ممالک مختلف مالیاتی اداروں کے قرضوں کے بوجھ تلے کراہ رہے ہیں۔ ان میں سے کئی ممالک نے 1990 کی دہائی میں اپنے آپ کو دیوالیہ قرار دے دیا تھا۔ لیکن اب کووڈ۔ 19 کی وجہ سے معاشی معاملات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کا یارانہ بہت پرانا ہے۔ پاکستان 11 جولائی 1950 کو آئی ایم ایف کا ممبر بنا۔ دسمبر 1958 کو پہلی مرتبہ ایک بیل آؤٹ پیکج کے لئے آئی ایم ایف کے دروازے پر جا پہنچا۔ ممبر بننے سے لے کر 2019 تک مالیاتی ادارے نے 22 مرتبہ پاکستان کو قرضہ فراہم کیا ہے۔ ان میں سے 13 مرتبہ بیل آؤٹ پیکیج کی درخواست کی گئی۔

2019 میں سب سے بڑا بیل آؤٹ پیکیج جو 6 بلین ڈالرز کا تھا عمران خان کی حکومت کو دیا گیا۔ جس کی شرائط اتنی کڑی تھیں کہ معیشت میں سدھار آنے کے بجائے وہ تباہی کی طرف گامزن ہو گئی۔

2008 میں پاکستان کا بیرونی قرضہ 42.8 ارب ڈالرز تھا۔ جو 2013 تک بڑھ کر 52.4 بلین ڈالر ہو گیا۔ یہ 22 فی صد کا اضافہ تھا۔ اس وقت یہ بیرونی قرضہ ملکی جی ڈی پی کا 23.4 فی صد تھا۔ 2013 سے 2018 تک پانچ سال کے دوران بیرونی قرضہ جات 52.4 فی صد سے بڑھ کر 76.4 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ جو قرضوں میں 46 فی صد اضافہ تھا۔ جس کی وجہ چین پاکستان اکنامک کوری ڈور تھا۔ دستیاب اعداد وشمار کے مطابق مارچ 2019 تک پاکستان کے بیرونی قرضہ جات 105 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے۔

جس میں آئی ایم ایف کے 5.765 ارب ڈالر، پیرس کلب کے 11.3 بلین ڈالرز، مختلف ڈونرز ایجنسیوں کے 27 بلین ڈالرز، اور چین کے 19 ارب ڈالرز تھے۔ 19 بلین ڈالرز کا یہ وہ قرضہ تھا۔ جس کی اقساط کی واپسی کے لئے چین پاکستان پر دباؤ ڈال رہا تھا۔ جو بعد میں دوستی کا واسطہ دے کر موخر کروائی گیں۔

آخری مرتبہ جولائی 2019 میں آئی ایم ایف کے ایگزیگٹو بورڈ نے 39 مہینوں کے لئے ای ایف ایف فیسیلٹی کے تحت پاکستان کو 4268 ملین ایس ڈی آر یعنی 6 ارب ڈالرز قرضے کی منظوری دی۔ تاکہ پاکستان کی تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کو کچھ سہارا مل سکے۔ ابھی تک اس قرض کی پہلی قسط ایک بلین ڈالر پاکستان کو ملی ہے۔ بقیہ اقساط مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط کو پورا کرنے کے بعد ہی ملیں گی۔

عمران خان کی تبدیلی سرکار کے بعد ملکی معیشت اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ اس کی وجہ نا اہل، ناتجربہ کار، اور نالائق، وزرا، مشیروں اور پارٹی عہدیداروں کی فوج ظفر موج، ہر سال بڑھتے ہوئے دفاعی اور غیر پیداواری اخراجات، ریونیو میں ہونے والی روز بہ روز کمی، معاشی مینیجرز ان ہی مالیاتی اداروں سے ادھار مانگے ہوئے جو گزشتہ ادوار میں بھی آزمائے جا چکے ہیں۔ اور ملکی معیشت کو درست کرنے میں ناکام رہے، زرعی پیداوار میں کمی، ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ، ہر شعبہ میں مافیاؤں کی لوٹ مار اور کرپشن، بالواسطہ ٹیکسوں کی بھر مار، معیشت میں سدھار آئے تو کیسے۔

آئی ایم ایف کے ڈیٹا میپ کے مطابق آیندہ سال پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 1.5 اور افراط زر کی شرح 11.1 فی صد رہنے کا امکان ہے۔ معیشت کے ان دگرگوں حالات کو دیکھتے ہوئے اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کو کسی وقت بھی ایک ناکام ریاست کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply