کرونا وائرس: ہم اور ہماری بے حسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جی ہاں بالکل چائنا میں کورونا چمگادڑ کھانے کی وجہ سے آیا، امریکہ میں اس عذاب کی وجہ امریکہ کا مسلم ممالک پر کیے جانے والا ظلم تھا، انڈیا اس موذی مرض کا شکار کشمیریوں پر جاری بربریت کی وجہ سے ہوا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جناب ہم تو مسلمان ہیں الحمدللہ نہ ہم نے چمگادڑ کھائے نہ ہی پاکستان نے دوسرے ممالک پر ایٹمی ہتھیار چلائے، نہ ہی کشمیر یا کسی اور ملک پر مظالم ڈھائے۔ اڑھائی سو کیسز پر رات کو 10 بجے باقاعدگی سے گلی محلوں کی چھتوں پر اذانیں بھی دیں۔ پھر کیسے یہ وائرس اس قدر پھیل گیا، کیسے اس وبا نے تقریباً ہر گلی ہر محلے اور ہر شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا؟

کیونکہ الحمدللہ ہم نے کبھی یقین ہی نہیں کیا کہ کورونا نامی ایک وبا روئے زمین پر پھیل چکی ہے، جو اب تک 4 لاکھ سے زائد قیمتی جانیں نگل چکی ہے۔ اور نہ جانے مزید کتنے اس وائرس کی سفاکیت کا نشانہ بنیں گے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وائرس کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کا رنگ کیسا، آپ کی نسل کیا، آپ کس عہدے پر فائز ہیں، گورے ہیں یا کالے، امیر ہیں یا غریب، ایشیائی ہیں یا یورپی، حکومت کا حصہ ہیں یا آپ کے نام کے ساتھ اپوزیشن کی تختی لگتی ہے، یہ وائرس ہر اس انسان کا دشمن ہے جو بے احتیاط ہے جو لاپروا ہے، جو بے یقین ہے اس کے سفاکیت سے۔

بنیادی طور پر پیشے کے اعتبار سے میں ایک بینکر ہوں، اسی لئے صبح شام عوام الناس کی بے فکری اور بے حسی کی عینی شاہد بھی! ماسک پہننے کی ہدایت پر گارڈز کو صبح شام پڑنے والے دھکے دیکھیں ہیں۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ مرض ایک جگہ ٹکا نہیں رہتا، بلکہ یہاں سے وہاں تک اپنا دائرہ وسیع کر لیتا ہے اور پھر ایک نہ ختم ہونے والے وائرس کی منتقلی کے سلسلے کا آغاز ہو جاتا ہے، میں حیران ہوں کہ ہم کتنے بے حس لوگ ہیں، ہمیں اپنی موت سے ڈر نہیں لگتا چلو کوئی بات نہیں لیکن کیا ہم اس قدر بے فکر ہیں کہ ہمیں اپنوں کی موت سے ان کو کھو دینے سے بھی ڈر نہیں لگتا؟

حکومت کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر کی دن رات دھجییاں اڑاتی یہ قوم سمجھتی ہے کہ عمران خان کو خود آکر گھروں کو تالہ لگانا چاہیے تاکہ کوئی باہر نہ جا سکے تبھی اس کی ذمے داری پوری ہوگی۔ حکومت کی ذمے داری بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے تو جناب وفاقی حکومت نے وہ ذمے داری احسن طریقے سے انجام دی ہے، پہلے 2 ٹیسٹنگ فیسیلیٹی کا نمبر اب 107 ہے، کورونا سے پہلے ماہانہ کی بنیاد پر 500 ٹیسٹ کیے جا سکتے تھے جو کہ اب بڑھ کر 12 لاکھ ہوگئے ہیں، 2800 کی جگہ 4856 وینٹیلیٹرز موجود ہیں، ٹیسٹنگ کٹس جلد ہی پاکستان میں بننا شروع ہو جائیں گی، فیس ماسک، سینیٹائیزر، گلوز پاکستان میں وافر مقدار میں موجود ہیں، غریب عوام کی سہولت کے لئے حکومت کی جانب سے عوام میں 12 ہزار فی گھرانہ امداد تقسیم کی گئی ہے۔ اور یہ امداد صرف باتوں تک نہیں کی گئی بلکہ میں خود اس کی گواہ ہوں کہ لوگوں کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار امدادی رقم واقعی دی گئی ہے۔

اگر کچھ کمی رہ گئی تو بس یہ کہ اس مصیبت کے موقعے پر بھی ہم قوم نہ بن سکے۔ ہم بنیادی طور پر بے حس اور بے شرم قوم ہیں جو 2 سال میں عمران خان سے 70 سال پرانے نظام میں تبدیلی کے خواہشمند تو ہیں لیکن اپنے اندر چھپے بھیڑئیے مارنے کو تیار نہیں، ہمیں 12 سے 20 ہزار کا انجیکشن 3 لاکھ روپے میں فروخت کرتے ہوئے شرم نہیں آتی کیونکہ بھئی یہی تو وقت ہے پیسہ کما کر اپنے گھر میں تبدیلی لانے کا، علاج کے حوالے سے کسی بھی ممکنہ دوائی کا نام سنتے ہی اسے مارکیٹ سے غائب کرنے اور پھر 10 گنا قیمت بڑھا کر بیچنے پر بالکل شرمندگی محسوس نہیں کرتے، 2 روپے والا فیس ماسک 25 سے 50 روپے کا بیچتے ہوئے بھی ہم نے کبھی منہ چھپانے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ کورونا چمگادڑ کھانے سے آتا ہے حرام خوری سے نہیں۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اب تک اس بیماری کے لئے کوئی مخصوص دوا دریافت نہیں ہوئی اور اب تک کہ تجربے کے لحاظ سے سب سے کامیاب طریقہ علاج پلازمہ تھراپی ہی رہا ہے، ہم نے من حیث القوم یہاں بھی بے شرمی اور بے حسی دکھانے کا موقع ضائع نہیں کیا۔ کورونا کا صحتیاب مریض جو کہ اس موذی مرض کہ ایک ایک ممکنہ علامات سے گزرا، ایک ایک اذیت برداشت کی، ہر ایک تکلیف سے گزرنے کے بعد جب کسی اور کو اس تکلیف سے بچانے کی باری آئی تو بے حس ہوگیا، پلازمہ کی قیمت 50000 سے 6 لاکھ ہوگئی۔ کیا یہ شرم کا مقام نہیں؟ کیا یہ ظلم نہیں؟ کیا اللہ یہاں ہم سے ناراض نہیں ہوا ہوگا؟ کورونا صرف کشمیر فلسطین شام عراق میں ظلم کرنے نہیں آیا، نہ عمران خان کے لوک ڈاؤن کھولنے ہے آیا، یہ دراصل ہمارے ہوش میں نہ آنے سے آیا ہے اور احتیاط نہ کرنے سے پھیل رہا ہے۔

ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے ، ہر انسان کو خود اپنی اور اپنی فیملی کی ذمے داری لینی ہوگی ورنہ اللہ نہ کرے وہ وقت دور نہیں جب ہم میں سے ہر کوئی اپنا کوئی عزیز، کوئی جان سے پیارا کھو چکا ہوگا، بے حسی ہی تو ہے کہ حالیہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پینشن نہ بڑھنے پر احتجاج کرتے لوگ یہ سوچنا ہی گوارا نہیں کر رہے کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے اپنا ذریعہ معاش پوری طرح کھو دیا ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے کہ آپ کی نوکری برقرار ہے سرکاری ملازمین ”ہماری تنخواہ بڑھائی جائے“ کا راگ الاپ رہے ہیں۔

ابھی کیسز تقریباً ڈیڑھ لاکھ پر ہیں، اب بھی وقت ہے، زیادہ دیر نہیں ہوئی، ہمیں اس وبا کی سنجیدگی کو سمجھنا ہوگا، حکومتی احکامات کو مانتے ہوئے سوشل ڈسٹینسنگ کا خیال رکھنا ہوگا، فیس ماسک کو استعمال کر کے مرض کے خطرناک پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کرنی ہوگی، بے حد ضروری آنے جانے کے علاوہ نقل و حرکت کو محدود کرنا ہی ہوگا۔ اس مرض کی طرف اتنی بے حسی نہ دکھائیں کہ آخر میں صرف بے بسی بچ جائے۔ ورنہ عمران خان تو کیا ارطغرل یا ٹیپو سلطان بھی آ جائے تو اس قوم کا بھلا نہیں کر پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
لبینہ حق کی دیگر تحریریں

Leave a Reply