ہاتھ اٹھاؤ (بادشاہ سلامت)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اماؤس کی رات تھی تینوں دوست نظر نہ آنے والے راستے پر اپنے چوتھے دوست کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں پہلے نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا کہ اب تک تو احمد شجاع کو آجا نا چاہئے تھا۔ جو کافی دیر سے دور اندھیرے میں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا بولا کہ آج اس نے اپنے اونٹوں کا سودا کرنا تھا جو پچھلے کئی دنوں سے ایک بند گلی میں باندھ رکھے تھے۔ دوسرا دوست بیڑی سلگائے خاموش بیٹھا تھا آہستگی سے بولا کہ چلو آ ہی جائے گا۔ احمد شجاع کو بھی اپنے ساتھیوں تک پہنچنے کی جلدی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو سرپٹ دوڑا رہا تھا۔ اس کا والد ایک لڑائی میں جان کی بازی ہار گیا تھا۔ اس کا اپنا گروہ تھا جو لوٹ مار کرتا تھا۔ ان کی لڑائی حصہ بانٹنے پر ہوئی پھر ایسی لڑائی ہوئی کہ لڑتے لڑ تے 33 افراد دنیا سے چلے گئے۔ جس لوٹے گئے خزانے پہ وہ لڑے تھے وہ نجانے کون لے گیا لیکن وہ لڑ لڑ کے مر گئے تھے۔ احمد شجاع کو لڑائی سے نفرت تھی۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ لڑنا نہیں جانتا تھا۔ وہ شطرنج کی چال کی طرح لڑائی کے رموز و اسرار سمجھتا تھا اسے معلوم تھا کہ دشمن کو کیسے دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔

 اس نے اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچتے ہی گھوڑے کو کھلا چھوڑ دیا۔ اور باری باری تینوں سے مصافحہ کیا وہ چاروں ایک پتھر کی اوٹ میں بیٹھ گئے۔ جو خدا جانے کتنی صدیوں سے اس علاقے میںموجود تھا۔ یہاں سے چند قدم دائیں جانب تین سے چار راستے نکلتے ہیں۔ دور سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اتنے میں انہیں ایک ہیولا اپنی جانب آتا دکھائی دیا تو احمد شجاع نے زہر لگے خنجر کو نیام سے باہرنکال لیا جو ہمہ وقت اس کے پاس رہتا تھا۔ یہ خنجر اسے باپ سے ورثے میں ملا تھا اتنے میں ایک شخص قریب آ گیا۔۔۔ بولا کہ میں راستہ بھول گیا ہوں۔۔۔ مجھے تھو ڑی دیر یہاں بیٹھنا ہو گا۔ اسی اثناء میں دوسرا دوست پوچھتا ہے کہ تم کیا کرتے ہو۔۔۔ تو قریب آنے ولا بولا کہ میں چھوٹا موٹا ہاتھ مار لیتا ہوں۔ مگر میں اکیلا کچھ زیادہ نہیں کر سکتا کیوں ناں آپ میرے ساتھ ہولیں تاکہ ہم کوئی لمبا ہاتھ مار سکیں یہ سن کے چاروں چوکنا ہو گئے اور اسے اپنے پاس بیٹھنے کا کہا۔۔۔ احمد شجاع بولا کہ ابھی ہم بات شروع کرتے ہیں اگر تم ہماری شرط پر پورا اترے تو پھر اکھٹے کوئی ہاتھ ماریں گے ورنہ تم ہمارے ہاتھوں ہی مارے جاؤ گے۔۔۔

اس نے کہا منظور ہے۔

اماؤس کی رات دھیرے دھیرے اپنا سفر کئے جا رہی تھی۔ اب چار کی بجائے وہ پانچوں ایک دوسرے سے ہٹ کے بیٹھ گئے تھے۔ جو ایک دوسرے کو ہیولے سے نظر آ رہے تھے۔

پہلا بولا۔ کہیں کتے بھونکتے ہیں تو میں اندازہ کر لیتا ہوں کہ گھر سرائے یا محل کی کیا صورت حال ہے کتوں کے بھونکنے سے مجھے اس چیز کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔

دوسرا بولا۔ اس دنیا میں جس قسم کا تالا بھی ہو میں کھول لیتا ہوں۔ میرے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اور مجھے چھپنے اور چھپانے کا فن بھی آتا ہے مجھے اس میں مہارت ہے۔

تیسرا بولا۔ میں ٹھیک اس کمرے میں جاتا ہوں جس کمرے میں سونا چاندی یا خزانہ پڑا ہوتا ہے۔ گھر ہو یا محل مجھے پتا چل جاتاہے کہ خزانہ کہاں ہے۔

چوتھا بولا۔  میں زندگی میں جو آواز ایک دفعہ سن لوں تمام عمر نہیں بھولتا چاہے کچھ بھی ہو میں آواز سے ہی پہچان لیتا ہوں۔

پانچواں بولا۔ جو ابھی تک چاروں کی گفتگو بڑے انہماک سے سن رہا تھاکہ اگر کسی کے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈال دیا جائے وہ موت کے بالکل قریب ہو تو میں اگر اپنا ہاتھ اٹھاؤں تو اسے پھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔ یہ بات سن کے چاروں بڑے حیران ہوئے اور یک زبان ہو کر بولے کہ ٹھیک ہے آ ج رات ہم مل کے ہاتھ ماریں گے۔ پانچوں نے لمبی بحث کے بعد طے کیا کہ آج بادشاہ کا محل لوٹا جائے یہ سن کے پانچواں خاموش ہی رہا تھا۔

 احمد شجاع نے آسمان کا بغور جائزہ لیا اور اٹھ کے چار قدم دائیں بائیں ہو کے دیکھا۔ قطبی ستارہ ابھی نمودار نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ بیٹھ گیا اور آج کے پروگرام کو حتمی شکل دینے کے بعد اپنی تیاری کے ساتھ بادشاہ کے محل کی جانب چل پڑے۔ وہ پانچوں محل کی جانب جانے والے راستے پر تھے۔ محل سے تھوڑ ے فاصلے پر انہوں نے اپنے سدھائے ہوئے گھوڑے باندھ دیے۔ ان کا پہلا ساتھی بولا کہ کتوں کے بھونکنے سے معلوم پڑتا ہے کہ بادشاہ اس وقت محل میں موجود نہیں ہے۔ وہ سب محل کے پچھلے دروازے کی اوٹ میں بیٹھ گئے۔ دوسرے نے بڑے اطمینان سے دروازے کا تالا کھول دیا اور ایسے کھولا کہ جیسے دروازہ بغیر تالے کے بند تھا۔ تیسرے نے انہیں ایک دوسرے کے پیچھے رہنے کا بولا اور سیدھا اس کمرے میں لے گیا جہاں خزانہ پڑا ہوا تھا۔ حالانکہ وہ ایک ہی طرز کے کئی کمرے سامنے دیکھ رہے تھے۔ لیکن وہ تیر کی سیدھ میں خزانے والے کمرے میں پہنچ گئے۔ انہوں نے خزانے کی بوریاں بھریں اور جیسے یہاں تک پہنچے تھے ویسے ہی وہاں پہنچ گئے جہاں انہوں نے اپنے گھوڑے باندھ رکھے تھے۔ کتے مسلسل بھونک رہے تھے پہلا ساتھی بولا کہ نجانے آج محل کا بادشاہ کہاں چلا گیا ہے تو جواب میں پانچویں ساتھی نے کہا کہ واقعی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں بادشاہ اس وقت اپنے محل میں نہیں ہے۔ ہمیں کیا لینا دینا بادشاہ سے، ہمارا جو کام تھا وہ خدا کے فضل سے ہم نے کر لیا ہے۔ اب ہمیں اپنا اگلا قدم اٹھانا ہو گا۔ وہ اپنے اپنے گھوڑے کے ہمراہ کچھ راستہ پیدل ہی چلتے گئے اور محل سے کافی دور جا کے انہوں نے یہ طے کیا کہ ہمیں یہ خزانہ کہیں چھپا دینا چاہئے اور اپنے اپنے ٹھکانوں کی راہ لینی چاہئے شام کے بعد پھر اکھٹے ہوں گے اور خزانہ آپس میں برابر کا بانٹ لیں گے۔ پانچوں نے مشورہ کر کے ایک دوسرے کو اپنے اپنے ٹھکانے سے آگاہ کیا اور خزانے کو ایک محفوظ جگہ چھپانے کے بعد رات دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے اپنے گھوڑوں کو سرپٹ دوڑاتے ایک دوسرے سے رخصت ہو گئے۔

٭٭٭   ٭٭٭

 پو پھٹنے میں ابھی وقت تھا۔ بادشاہ سلامت اپنے محل کے صحن میں بڑی بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ اس نے اپنے سب سے خاص وزیر کو بلا بھیجا وزیر بھاگم بھاگ بادشاہ کے رو برو کھڑا تھا۔ بادشاہ نے اسے کوئی خاص بات سمجھائی اور ساتھ میں تاکید کر دی کہ کسی قسم کی کمی یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ خزانہ لوٹنے والوں کو الگ الگ بند کیا جائے اور اس کی اطلاع جتنی جلدی ہو مجھے دی جائے کہ سارا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

بادشاہ دیوان خاص میں بیٹھا تھا۔ دربار میں مکمل خاموشی تھی۔ سب بادشاہ کی جانب دیکھ رہے تھے مگر بادشاہ باہر سے اندر آنے والے راستے کی جانب دیکھ رہا تھا۔ خاص وزیر اس کے روبرو پیش ہوا اور بولا کہ آپ کے حکم کے مطابق سارا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ بادشاہ کے چہرے پر جو صبح سے اب تک پریشانی تھی وہ درباریوں کو دور ہوتی دکھائی دی تو بادشاہ نے فرمان جاری کیا کہ ان کو باری باری میرے روبرو پیش کیا جائے۔

بادشاہ کے دربار میں زنجیروں میں جکڑے ایک چور کو پیش کیا گیا۔

 بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے رات بادشاہ کے محل سے خزانہ چرایا ہے تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری سزا کیا ہے۔

 چور بولا کہ نہیں عالی جاہ۔

 بادشاہ نے کہا کہ تمہاری سزا مقرر ہے اور و ہ ہے موت کی سزا۔

مگر تمہیں ایک رعایت دی جاتی ہے کہ تم اپنی آخری خواہش بتاؤ وہ پوری کی جائے گی۔

چور کچھ دیر تو سوچتا رہا پھر بولا۔

 بادشاہ سلامت میری آخری خواہش یہ ہے کہ میں اپنی بہو کو اپنی بھینس کا دودھ دھوتے دیکھوں۔

بادشاہ سلامت نے حکم صادر کیا کہ اس کی بہو کو حاضر کیا جائے اور ساتھ میں اس کی بھینس کو بھی لایا جائے جونہی اس کی بہو اس کے سامنے بھینس کا دودھ دھو لے اس کے بعد اسے پھانسی کی سزا دی جائے۔ کل اس پر عمل درآمد کیا جائے دربار برخاست

اگلے دن وزیر نے بادشاہ کو بتایا کہ بادشاہ سلامت محل سے خزانہ لوٹنے والے چور کی آخری خواہش بڑی عجیب سی ہے۔ اس کی تو ابھی شادی تک نہیں ہوئی بہو کہاں سے آئے گی۔ وزیر کی یہ بات سن کے بادشاہ بڑا حیران ہوا مگر وہ بھرے دربار میں طے کر چکا تھا کہ اس کی آخری خواہش پہ عمل درآمد ہو گا اس نے کہا کہ فی الحال اس کو بند رکھا جائے۔

دوسرے دن بادشاہ کے سامنے دوسرے چور کو پیش کیا گیا۔ اس سے بادشاہ نے پوچھا کہ فلاں رات تم نے بادشاہ کے محل سے خزانہ چرایا ہے تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری سزا کیا ہے۔

 چور بولا کہ نہیں عالی جاہ۔

 بادشاہ نے کہا کہ تمہاری سزا مقرر ہے اور وہ ہے موت کی سزا۔ مگر تمہیں ایک رعایت دی جاتی ہے کہ تم اپنی آخری خواہش بتاؤ، وہ پوری کی جائے گا۔

 بادشاہ کی ساری بات سننے کے بعد چور نے تمام دربار کا جائزہ لیا اور بولا کہ بادشاہ سلامت میں پھانسی پانے سے پہلے آم کھانا چاہتا ہوں یہی میری آخری خوہش ہے۔ بادشاہ سلامت نے کہا کل تک اسے جی بھر کے آم کھلائے جائیں اور اس کے بعد اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔

اگلے دن بادشاہ کیا دیکھتا ہے کہ اسے پھانسی پر لٹکانے کی بجائے دربار میں بادشاہ کے روبرو پیش کیا جا رہا ہے اور ساتھ میں وزیر بھی ہے۔ وزیر بادشاہ سے اجازت کے بعد بولا کہ جہاں پناہ کل سے اب تک پوری کوشش کی گئی ہے کہ آم مل جائیں مگر آموں کا موسم نہ ہونے کی وجہ سے کہیں سے آم نہیں مل سکے لہذا اب اس کے متعلق کیا حکم ہے اس کا کیا کیا جائے پھانسی پر لٹکا دیا جائے یا پھر آپکے حکم کی تعمیل کریں کہ پہلے اسے آم کھلائیں، دربار میں موجود تمام لوگ وزیر کی باتیں بڑے غور سے سن رہے تھے بادشاہ نے حکم دیا کہ آموں کے آنے تک اسے بند کر دیا جائے۔

اگلے دن بادشاہ کے محل سے خزانہ چور کرنے والے تیسرے چور کو پیش کیا گیا۔

 بادشاہ نے پوچھا کہ فلاں رات تم نے بادشاہ کے محل سے خزانہ چرایا ہے تمہیں معلوم ہے تمہاری سزا کیا ہے۔

 چور بولا کہ نہیں عالی جاہ۔

 تمہاری سزا مقرر ہے اور وہ ہے موت کی سزا

مگرتمہیں ایک رعایت دی جاتی ہے کہ تم اپنی آخری خواہش بتاؤ، اس کو پورا کیا جائے گا۔

خزانہ چوری کرنے والے چور نے کہا کہ خزانہ تو ہم نے چرایا ہے۔ مگر اس سے پہلے کہ خزانہ ہم تک پہنچتا ہمیں پکڑ کے آپ کے روبرو پیش کر دیا گیا ہے۔ اب میری سزا موت کی سزا ہے جو آپ نے تجویز کر دی ہے مگر آ پ ایک عادل بادشاہ نظر آتے ہیں جو میری آخری خواہش پوچھ رہے ہیں اور پھر دربار میں تمام لوگ سن رہے ہیں کہ میری آخری خواہش کو پورا کیا جائے گا تو بادشاہ سلامت میں پھانسی پانے سے پہلے حج اکبر کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ باد شاہ کچھ دیر خاموش رہا پھر اپنے وزیر سے بولا کہ اسے حج کروایا جائے اس کے بعد اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔

وزیر بولا کہ آپ کا اقبال بلند ہو مگر میں ایک عرض کرنا چاہتا ہوں۔ بادشاہ نے کہا کہ بتایا جائے تو وزیر بولا کہ بادشاہ سلامت ہمارا جو وفد اس سال حج اکبر کیلئے گیا ہے وہ ابھی تک وآپس نہیں آیا۔ کیونکہ چند دن پہلے حج اکبر کا مقدس دن گذرا ہے اب آئندہ سال ہی حج اکبر کا فریضہ ادا ہو سکے گا تب ہی اسے حج کروایا جا سکتا ہے تاکہ اس کی آخری خواہش پوری ہو سکے اور آپ کا حکم بھی یہی ہے کہ اسے اس کی آخری خواہش پوری کر نے کے بعد پھانسی پر لٹکا یا جائے۔

بادشاہ سلامت نے کہا کہ اسے میرے اگلے حکم تک بند کر دیا جائے۔

اگلے دن بادشاہ کے دربار میں تمام وزیر اور کمان دار حاضر تھے بادشاہ نے حکم دیاکہ خزانہ چوری کرنے والے آخری چور کو حاضر کیا جائے تاکہ اس کا فیصلہ بھی کیا جائے۔

بادشاہ کے حکم کے مطابق خزانہ چوری کرنے والے آخری چور کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔

 بادشاہ نے کہا کہ تم نے فلاں رات بادشاہ کے محل سے خزانہ چرایا ہے۔  تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری سزا کیا ہے اس نے کہا کہ نہیں عالی جاہ

 بادشاہ نے کہا کہ تمہاری سزا مقرر ہے اوروہ ہے موت کی سزا مگر تمہیں ایک رعایت دی جاتی ہے کہ تم اپنی آخری خواہش بتاؤ۔ اسے پورا کیا جائے گا۔۔۔

خواہش بتانے والے نے تمام دربار کا بغور جائزہ لیا اور بادشاہ کی جانب متوجہ ہوا اور باآواز بلند بولا کہ جلدی سے ہاتھ اوپر اٹھاو نہیں تو سارے مارے جائیں گے۔۔۔

یہ کہنا تھا آخری چور کا کہ تمام دربار چور کی جانب دیکھنا شروع ہو گیا جبکہ چور ٹکٹکی باندھے بادشاہ کی جانب دیکھ رہا تھا جو آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ اوپر اٹھا رہا تھا۔۔۔ اور چور کا چہرہ چمک اٹھا تھا۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply