ایک ادیب بیورو کریٹ کی کچھ باتیں اور یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ 1973 کے آس پاس کی بات ہے، ایف ایس سی کے امتحان کے بعد مجھے کافی فراغت تھی۔ انہی دنوں میں معروف ادبی رسالے ”نقوش“ کا کوئی شمارہ نظر سے گزرا۔ ورق گردانی کرتے ہوئے ایک مضمون پر نظر پڑی جس کا عنوان تو اب یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ وہ فارسی زبان میں تھا اور مضمون نگار کا نام منظور الہٰی تھا۔ میرے لئے وہ نام اجنبی تھا مگر ابتدائی چند جملوں نے ہی مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا اور میں مضمون پڑھتا چلا گیا اور پھر اس تحریر کے حسن اور سحر نے مجھے بری طرح جکڑ لیا۔ مضمون نگار نے وہ مضمون اپنے ایک دوست امان اللہ کی وفات کے حوالے سے تحریر کیا تھا۔ محبت بھرے جذبات سے گندھی ہوئی، خوب صورت الفاظ، مربوط جملوں، اردو اور فارسی اشعار اور مصرعوں سے مزین اس تحریر نے مضمون نگار کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے پر مجبور کیا مگر شہر سے دور گاؤں میں کچھ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون ہیں؟ مضمون کے اندر البتہ کچھ باتوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ موصوف کوئی بیوروکریٹ ہیں اور امان اللہ بھی ان کے ایک بیوروکریٹ دوست تھے جن کی یاد میں انہوں نے یہ خوب صورت مضمون قلم بند کیا تھا۔

کچھ عرصے بعد ملتان جانا ہوا تو کتابوں کی ایک دکان پر ”در دلکشا“ کے نام سے ایک کتاب پر نظر پڑی۔ مصنف کا نام منظور الٰہی تھا۔ کتاب کی ورق گردانی کی تو پتا چلا کہ یہ وہی منظور الٰہی ہیں۔ جس مضمون کا میں نے اوپر ذکر کیا وہ اس میں موجود تھا مگر ایک طویل مضمون کے ایک حصے کے طور پر ۔ مضمون کا عنوان تھا ”یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں“ ۔ اس میں اور کچھ لوگوں کی وفات پر لکھی گئی تحریریں بھی موجود تھیں۔ میں نے کتاب خرید لی اور ملتان سے گاؤں واپس جاتے ہوئے بس میں ہی اسے پڑھنا شروع کر دیا اور گھر تک پہنچتے پہنچتے اس کا بیشتر حصہ پڑھ ڈالا۔ کتاب کیا تھی، تخلیقی نثر کا ایک دل آویز مرقع تھی۔ موضوعات میں تنوع، الفاظ کا انتخاب عمدہ، جملے سے جملہ جڑا ہوا، اشعار اور مصرعے برمحل، دلچسپ واقعات اور انداز بیان بے مثال۔ مختصر یہ کہ کتاب نے بے حد متاثر کیا۔ ویسے تو سارے مضامین عمدہ لگے مگر خاص طور پر ”عذر گناہ“ اور ”یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں“ نے بہت متاثر کیا۔

ادھر ادھر سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ منظور الٰہی پاکستان کے ایک سینئر بیوروکریٹ ہیں اور پاکستان کے ابتدائی سالوں کی بیوروکریسی کی کھیپ کا حصہ ہیں۔ تاریخ میں ایم اے کے بعد کچھ عرصہ برٹش آرمی میں بھی شامل رہے مگر چند سال بعد ہی مقابلے کا امتحان پاس کر کے سول سروس میں آ گئے۔ کیمبل پور ( اب اٹک ) ، بہاول پور، ملتان، کراچی اور دیگر کئی شہروں میں اعلٰی انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ ون یونٹ کے زمانے میں مغربی پاکستان کے سیکریٹری تعلیم بھی رہے۔ حال ہی میں میں نے کہیں پڑھا کہ وہ پنجاب کے چیف سیکریٹری بھی رہے۔ وہ شیخ منظور الٰہی کے نام سے جانے جاتے رہے مگر خود وہ اپنے نام کے ساتھ شیخ کا اضافہ عام طور پر نہیں کرتے تھے۔ بیورو کریسی میں وہ ایک نیک نام افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ 1993 کے عام انتخابات کے موقع پر وہ پنجاب کے نگران وزیراعلٰی بھی رہے۔

یہ تو خیر ان کا مختصر تعارف تھا، ان کے شخصی اوصاف، شخصیت اور کتابوں کے بارے میں لکھنے کے لئے تو ایک الگ مضمون کی ضرورت ہے۔ ذکر ان کی کتاب ”در دلکشا“ کا ہو رہا تھا۔ طالب علمی کے زمانے میں مجھے ادیبوں اور شاعروں سے رابطہ رکھنے کا شوق تھا، میں نے سوچا منظور الٰہی صاحب کو خط لکھا جائے۔ چنانچہ کتاب کے پبلشر فیروز سنز سے ان کا ایڈریس معلوم کیا اور انہیں خط لکھ دیا۔ چند روز میں ان کی طرف سے جواب آ گیا۔ نیلے لیٹر پیڈ پر بال پوائنٹ سے خوب صورت لکھائی سے مزین خط تھا اور یوں ان سے میرا رابطہ استوار ہوا جو 2008 میں ان کی وفات تک قائم رہا۔

1982 میں میں پی ایچ ڈی کے لئے انگلینڈ چلا گیا مگر ہمارے درمیان مسلسل رابطہ قائم رہا۔ اسی دوران مین انہوں نے ”خو شبو کی ہجرت“ کے عنوان سے اپنی والدہ مرحومہ کی یاد میں کسی رسالے میں مطبوعہ مضمون کی فوٹو کاپی مجھے بھیجی اور ساتھ ایک خط میں یہ بھی لکھا کہ اس مضمون کا عنوان انہوں نے میرے ممدوح شاعر ناصر کاظمی کی ایک تحریر سے مستعار لیا ہے ( انہیں یہ معلوم تھا کہ میں نے ایم اے میں ناصر کاظمی پر تحقیقی مقالہ لکھا تھا ) ۔ وہ مضمون ان کی دوسری کتاب ”سلسلۂ روز و شب“ میں شامل ہے۔ اسی کتاب میں ناصر کاظمی سے منسوب دو مخصوص الفاظ ”مانوس اجنبی“ ( عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ۔ ناصر کاظمی ) کے عنوان سے بھی ان کا ایک خوب صورت مضمون موجود ہے۔

میرے انگلستان کے قیام کے دوران میں ہی انہوں نے ایک خط میں لکھا کہ وہ مسلم سپین کے حوالے سے ایک کتاب تحریر کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں عنقریب سپین جانے والے ہیں۔ میں چونکہ خود بھی سپین جا چکا تھا اور مسجد قرطبہ اور غرناطہ میں الحمرا کے محلات اور مسلم سپین کے دیگر آثار کو دیکھ چکا تھا، میں نے ان کے ارادے کی تحسین کی۔ انہوں نے بعد میں ”نیرنگ اندلس“ کے کتاب تحریر کی جو مسلم سپین کی تاریخ کی ایک تخلیقی انداز میں ایک تصویر پیش کرتی ہے۔ میں اس دوران میں پاکستان واپس آ چکا تھا۔ انہوں نے وہ کتاب اپنے دستخط اور ان الفاظ کے ساتھ مجھے بھی بھیجی:

” حیف بر جان سخن گر بسخنداں نرسد“ /بتقدیم احمد فاروق مشہدی۔
میرے لئے یہ الفاظ ان کی خاص شفقت کے آئینہ دار ہیں۔

ایک روز میں یونیورسٹی میں کلاس میں لیکچر میں مصروف تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی، باہر نکل کر دیکھا تو ایک آدمی کھڑا تھا اس نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ سوشل ویلفیئر ملتان کے آفس کا ایک اہل کار ہے اور آپ کی لئے شیخ منظور الٰہی امین بیت المال پنجاب کا پیغام ہے کہ وہ ملتان میں ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں (ان دنوں یہ ذمہ داری ان کے پاس تھی) ۔ ان کا یہ پیغام بھی ہے کہ لنچ انہی کے ساتھ سرکٹ ہاؤس میں کریں۔ یہ ان سے میری پہلی ملاقات کا موقع تھا۔ چنانچہ میں سرکٹ ہاؤس گیا، وہ بہت محبت اور شفقت سے پیش آئے، لنچ کے بعد میں شام کے ساتھ ان کے ساتھ رہا۔ بہت سی باتیں ہوئیں جن کی تفصیل اس کالم کی تنگ دامنی کے باعث نہیں دی جا سکتیں۔

سنہ 2001 میں میں نے ناصر کاظمی پر اپنے ایم اے کے تحقیقی مقالے کو بہت سے اضافوں کی ساتھ ”اجنبی مسافر، اداس شاعر“ کے نام سے شائع کروایا تو کتاب منظور الٰہی صاحب کو بھی بھیجی، انہوں نے کتاب کو پسند کیا، مجھے حوصلہ افزائی کا خط لکھا اور بتایا کہ کتاب میں نے مکمل پڑھی ہے اب ان کا بیٹا پڑھ رہا ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کئی رفاہی اور فلاحی اداروں کے ساتھ وابستہ رہے جن میں معروف بینک کار آغا حسن عابدی مرحوم کا ادارہ ”انفاق“ بھی شامل تھا جو ملک بھر میں ضرورت مندوں کو مالی امداد فراہم کرتا تھا۔ وہ مجھے مختلف موقعوں پر ملتان اور گردونواح کے ایسے لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے لکھتے رہے جو ”انفاق“ سے امداد لے رہے تھے یا جن کی درخواستیں زیرغور ہوتی تھیں اور میں ذاتی طور پر ضروری معلومات حاصل کر کے ان کو بھیجتا رہا۔ اس دوران میں کچھ ایسے ضرورت مندوں کے ذاتی حالات کے مشاہدے کا بھی موقع ملا جوان گنت مسائل اور تکالیف سے دوچار تھے۔ وہ ایک الگ داستان ہے جس کے بیان کا یہ موقع نہیں۔

کچھ عرصہ پہلے پتا چلا کہ منظور الٰہی صاحب کی وفات کے بعد ان کی ایک اور کتاب ”ہم کہاں کے دانا تھے“ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ وہ مجھے کہیں سے دستیاب نہیں ہو رہی تھی تو میں نے ان کی اہلیہ محترمہ کو خط لکھا کہ متعلقہ پبلشر کا بتا دیں تاکہ میں خرید سکوں۔ انہوں نے جواب میں ازراہ نوازش کتاب مجھے بھجوا دی اور ساتھ ایک خط بھی لکھا کہ اس کتاب کے ساتھ میرے پاس مرحوم کی کتابوں کا سیٹ مکمل ہو جائے گا۔ یہ کتاب ان کی سوانح حیات ہے مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شاید یہ نامکمل داستان حیات ہے۔ شاید اپنی علالت اور وفات کے باعث وہ اسے مکمل نہ کر سکے تاہم یہ بھی ان کی گزشتہ کتابوں کی طرح دل چسپ اور ان کے مخصوص انداز بیان اور اسلوب کی عکاس ہے۔ ان کی اور بھی بہت سی یادیں اور باتیں ہیں مگر کالم کی محدود گنجائش کی وجہ سے ان کا بیان اس وقت ممکن نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply