منیر نیازی: کچھ باتیں کچھ یادیں

اردو زبان کے منفرد شاعر منیر نیازی کی شخصیت اور شاعری پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس کے کتنے ہی اشعار ہیں جو مختلف مواقع کی مناسبت سے پڑھے، سنے اور سنائے جاتے ہیں اور ان کی شخصیت کے حوالے سے بھی بہت سے دلچسپ واقعات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں جن کو لوگوں نے اپنے اپنے انداز سے بیان کیا ہے۔ کچھ باتیں اور یادیں میرے پاس بھی ہیں، شاید ان میں بھی کچھ لوگوں کی

Read more

ایک تھے مصطفیٰ زیدی

مصطفیٰ زیدی کے حوالے سے کچھ لکھنا آسان بھی ہے اور دشوار بھی۔ آسانی کی بات کریں تو ان کی جمال پرستی، رومانوی زندگی اور شاعری پر اظہار خیال کرکے کہانی مکمل کی جا سکتی ہے اور اگر دشواری کو دیکھیں تو ان کی شخصیت کی جذباتی پیچیدگیوں، نفسیاتی الجھنوں اور ان کی زندگی کے حالات و واقعات کا منظر نامہ سامنے رکھ کر کچھ لکھنا پڑتا ہے جو ایک مشکل کام ہے۔ ان پر کافی لوگوں نے لکھا، ان

Read more

ممتاز مفتی، علی پور کا ایلی اور شہزاد

ممتاز مفتی کا نام ادبی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ میں ان سے ان کی کتاب ”لبیک“ کے ذریعے متعارف ہوا جو ان کے سفر حج کی روداد ہے۔ وہ سکول اور کالج کا زمانہ تھا جب اس کتاب کے کچھ حصے ماہ نامہ ”سیارہ ڈائجسٹ“ میں شائع ہوئے۔ موضوع، ان کے اسلوب بیان اور انداز فکر نے مجھے ہی نہیں، بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔ جب کتاب چھپی تو تفصیل سے پڑھنے کا موقع ملا۔ بطور

Read more

سید نظر زیدی کی یاد میں

جن ادیبوں اور شاعروں نے بچوں کے لئے ادب تخلیق کیا، ان میں سید نظر زیدی کا نام خاصا نمایاں ہے، تاہم ایک زمانے سے ان کا ذکر نہیں ہوا، جس کے سبب ان کا نام اور کام عام لوگوں اور آج کے نئے لکھنے پڑھنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ سید نظر زیدی ایک ادیب، صحافی، شاعر اور ایک درجن سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ وہ اپریل 1917 میں بجنور ( بھارت ) میں پیدا

Read more

ملکہ نورجہاں کا مزار: اردو کی ایک دل گداز نظم

ملکہ نور جہاں کی شخصیت میں تاریخ اور رومان اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ تاریخ کے ساتھ ساتھ شعر و ادب میں بھی وہ ایک اہم موضوع سخن کے طور پر زندہ ہے۔ وہ خود بھی سخن فہم، معاملہ فہم، امور مملکت سے با خبر اور شاعرہ تھی۔ وہ مرزا غیاث الدین بیگ کی بیٹی تھی جو صفوی عہد میں اپنے والد کے ایر ا ن سے ہندوستان تک کے سفر کے دوران میں قندھار کے مقام پر

Read more

کچھ ذکر قدرت اللہ شہاب کا

پاکستان کے ادیب بیورو کریٹس میں قدرت اللہ شہاب کا نام بہت معروف اور نمایاں ہے، تاہم بعض لوگ ادب سے زیادہ بیو رو کریسی میں ان کے کلیدی کردار کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس تناظر میں بعض تنازعات بھی ان کی ذات اور شخصیت کے ساتھ منسوب رہے، مثال کے طور پر ایوب خان کے دور میں پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈی نینس، پریس ٹرسٹ بنا کر کچھ آزاد اخبارات کو قومی تحویل میں لینا، رائٹرز گلڈ کا قیام،

Read more

مختار مسعود سے وابستہ کچھ یادیں

ادبی حلقوں میں اور پاکستان کی سینئر بیوروکریسی میں مختار مسعود کا نام جانا پہچانا ہے۔ وہ پاکستان کی سول سروس کے اولین گروپ کا حصہ تھے۔ سکول کی تعلیم انہوں نے علی گڑھ کے اپنے سکول سے حاصل کی اور پھر اسی یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس کی تعلیم مکمل کی۔ گویا ان کی تعلیم و تربیت کا ایک طویل عرصہ علی گڑھ یونیورسٹی میں ہی گزرا، جس کی چھاپ ان کی شخصیت، خیالات اور تحریر پر نمایاں نظر

Read more

شیخ منظور الٰہی کی نثر نگاری پر ایک نظر

” یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں“ میں وہ اس جہان رنگ و بو سے رخصت ہونے والے احباب اور اعزہ کی یاد میں اشک فشاں نظر آتے ہیں۔ چھوٹے بڑے واقعات سے بھری ہوئی یہ تحریریں ان کے جذبات کی تصویر کشی کرتی ہیں اور رشتہ و پیوند کے اس جہان کی وضاحت کرتی ہیں جس میں محبت ہے، یگانگت ہے، آنسو ہیں اور صبر و قرار کے تجربوں کا بیان بھی۔ ان واقعات کے بیان میں تسلسل

Read more

شیخ منظور الٰہی کی نثر نگاری پر ایک نظر

چند ہفتے پہلے میں نے ”ایک ادیب بیوروکریٹ کی کچھ باتیں اور یادیں“ کے عنوان سے شیخ منظور الٰہی کے حوالے سے ایک مختصر مضمون قلم بند کیا تھا جو ”ہم سب“ میں شائع ہوا تھا۔ کچھ احباب نے رائے دی کہ اس حوالے سے کچھ مزید لکھا جائے چنانچہ یہ تحریر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاہم یہ صرف ان کی نثر نگاری کا احاطہ کرتی ہے جو دنیائے ادب میں ان کا بنیادی حوالہ ہے۔

نثر نگاری اور انشا پردازی میں منظور الٰہی کو مضامین کی صنف ہی مرغوب ہے۔ انہوں نے متنوع موضوعات پر مضامین تحریر کیے جن میں، تاریخ، تحریک پاکستان، ذاتی زندگی کے شب و روز، سفری احوال، شخصیات، ملازمت کے نشیب و فراز۔ بیوروکریسی کی اندرونی کہانیاں، سیاسی مدوجزر، غرض یہ کہ موضوعات میں بہت تنوع ہے تاہم شخصیت نگاری ان کا مرغوب اور محبوب موضوع ہے۔

Read more

ایک ادیب بیورو کریٹ کی کچھ باتیں اور یادیں

یہ 1973 کے آس پاس کی بات ہے، ایف ایس سی کے امتحان کے بعد مجھے کافی فراغت تھی۔ انہی دنوں میں معروف ادبی رسالے ”نقوش“ کا کوئی شمارہ نظر سے گزرا۔ ورق گردانی کرتے ہوئے ایک مضمون پر نظر پڑی جس کا عنوان تو اب یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ وہ فارسی زبان میں تھا اور مضمون نگار کا نام منظور الہٰی تھا۔ میرے لئے وہ نام اجنبی تھا مگر ابتدائی چند جملوں نے ہی مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا اور میں مضمون پڑھتا چلا گیا اور پھر اس تحریر کے حسن اور سحر نے مجھے بری طرح جکڑ لیا۔ مضمون نگار نے وہ مضمون اپنے ایک دوست امان اللہ کی وفات کے حوالے سے تحریر کیا تھا۔ محبت بھرے جذبات سے گندھی ہوئی، خوب صورت الفاظ، مربوط جملوں، اردو اور فارسی اشعار اور مصرعوں سے مزین اس تحریر نے مضمون نگار کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے پر مجبور کیا مگر شہر سے دور گاؤں میں کچھ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون ہیں؟ مضمون کے اندر البتہ کچھ باتوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ موصوف کوئی بیوروکریٹ ہیں اور امان اللہ بھی ان کے ایک بیوروکریٹ دوست تھے جن کی یاد میں انہوں نے یہ خوب صورت مضمون قلم بند کیا تھا۔

Read more

منیر احمد شیخ کی یاد میں

پچھلے دنوں مئی کے ایک ماہ نامے میں منیر احمد شیخ کا افسانہ ”فسانہ کہیں جسے“ پڑھنے کا موقع ملا تو منیر احمد شیخ کے حوالے سے کئی باتیں یاد آ گئیں۔ اردو ادب میں ان کا نام قدرے کم معروف ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ اگرچہ ان کی اٹھان ایک ادیب کے طور پر ہی تھی مگر ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ بیوروکریسی کی دنیا کی نذر ہو گیا اور بیوروکریسی کا بھی وہ شعبہ جس کا کام حکومت کی کارگزاریوں کی اشاعت و تشہیر ہوتا ہے یعنی وزارت اطلاعات، اور شاید وہ اسی وجہ سے اپنے میلان طبع کی مطابق لکھنے پڑھنے کا زیادہ کام نہ کر سکے۔

Read more

احمد فراز کی یاد میں

پچھلے دنوں معروف صحافی اور کالم نگار جناب مسعود اشعر نے اپنے کالم میں معروف شاعر احمد فراز کے صاحب زادے شبلی فراز کے وزیر اطلاعات کا منصب سنبھالنے پر احمد فراز کی سیاسی وابستگیوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ فراز تو خان عبدالولی خان کی سیاسی جماعت اے این پی میں شامل رہے مگر ان کے صاحب زادے نے ان کے نظریات کے برعکس تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ اس کا جواب ایک اور معروف صحافی اور

Read more