معیشت اور بجٹ 2021 ایک بے ضرر تجزیہ
ہمارے ہاں ہر شخص ہر بات کا ماہر ہی نہیں بلکہ ماہروں کا بھی استاد ہے اور معیشت کو بھی اس سے استثنا حاصل نہیں۔ ہر کس و ناکس معیشت پر اور ہر سال بجٹ پر ایسے محکم یقین کے ساتھ تقریریں کرتا ہے کہ ہم جیسے جو اپنی پڑھائی اور نوکری کی وجہ سے معیشت اور بجٹ کو کچھ کچھ سمجھتے ہیں چپ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ کچھ عرصے سے لوگ جی ڈی پی اور افراط زر کا گراف لگا کر حکومت کو کوسنے دیے جا رہے ہیں۔ جی ڈی پی اور افراط زر معیشت کے ان اہم مضامین میں سے ہیں جن پر ہزار ہا قسم کی تھیوریز ہیں اور باقی مضامین کی طرح یہ بھی ایک موضوعی باتیں ہیں جو کہ ہر بندے کی سمجھ کے حساب سے مختلف معنی رکھتی ہیں۔
جگت بازی کی حد تک تو اس طرح گراف لگا کر بھد اڑا دینا سمجھ آتا ہے مگر اس گراف کی تفصیل میں جا کر وجہ ڈھونڈنا اور پھر اس کی تطبیق ریجنل ڈیٹا سے کرنا ذرا مشکل کام ہے اس لئے اس کی طرف کم لوگ ہی دھیان دیتے ہیں۔ میری کوشش ہو گی کہ میں اپنی بساط کے مطابق آسان اور کم سے کم الفاظ میں معیشت اور بجٹ جیسے مشکل اور تفصیل طلب موضوعات پر اپنی رائے آپ سب کے سامنے رکھوں۔
ہم مالی سال اختتام جون 2018 سے ہی شروع کرتے ہیں جب الیکشن ہوئے تھے اور نئی حکومت نے دو مہینوں بعد حلف اٹھایا تھا۔ مالی سال اختتام جون 2018 میں شرح نمو 5.5 فیصد تھی، جو کہ بعد میں کم ہونا شروع ہوئی اور سارا نزلہ نئی حکومت کی پالیسیز پر ڈال دیا گیا بغیر یہ دیکھے کہ پچھلی حکومت کون کون سا مسلسل عذاب نئی حکومت کے لئے چھوڑ کر جا رہی۔ سب سے پہلے تجارتی خسارے کو دیکھتے ہیں۔ مالی سال اختتام جون 2018 میں برآمدات 23.2 ارب ڈالر تھیں، جبکہ اس سے چار سال پہلے مالی سال اختتام جون 2014 میں 25.1 ارب ڈالر تھیں، یہ چار سالوں میں 7.6 فیصد کی کمی ہے۔
اس کا مطلب یہ کہ برآمدات بڑھانے کے لئے اقدامات کرنے کی بجائے الٹا حکومت کی معاشی پالیسیوں کا رجحان کھپت کی طرف تھا کیونکہ وہ شرح نمو میں اضافے کا ایک آسان راستہ تھا لہذا نون لیگ کی حکومت کی برآمدات سے لاپروائی آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔ اسی طرح مالی سال اختتام جون 2018 میں درآمدات 60.8 ارب ڈالر تھیں، جو کہ اس سے چار سال پہلے جون 2014 کے اختتام پر 45.1 ارب ڈالر تھیں، چار سال کے عرصے میں یہ 34.8 فیصد بڑھوتی ہے۔
اب ذرا درآمدات میں سے برآمدات کے ڈالر منہا کر دیں تو ہمارا تجارتی خسارہ مالی سال اختتام جون 2018 کو 37.5 ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس میں سے آپ مالی سال اختتام جون 2018 میں ہوئی 19.6 ارب ڈالر کی ترسیل زر کو منہا کر دیں تو باقی 18 ارب ڈالر بچتے ہیں جسے کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کہا جاتا ہے۔ اب ذرا ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ سال بہ سال ہمارا تجارتی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھتا جا رہا ہے جس کا منطقی مطلب یہ ہے کہ ہمیں بطور ملک فارن کرنسی کی ضرورت ہے جس کا واضح اثر ہماری پاکستان کی کرنسی کی کمزوری کی صورت میں نکلتا ہے مگر صرف درآمدات کو سستا رکھنے کی خاطر مصنوعی طریقے سے ڈالر کے ریٹ کو روپے کے مقابلے میں مستحکم رکھا جاتا ہے جس سے برآمدات کے بڑھنے میں بھی شدید رکاوٹ آتی ہے اور افراط زر بھی مصنوعی طور پر نیچے رہتا ہے جس کا طویل المدتی نقصان قلیل المدتی فائدے سے بہت زیادہ ہے (ہم فی الحال کرنٹ اکاؤنٹ کے مسلسل خسارے کے کسی ملک کے لئے نقصانات کی بحث چھوڑ دیتے ہیں ) ۔
مصنوعی طریقے سے ڈالر کے ریٹ کو مستحکم رکھنے کے لئے اس وقت کی حکومت نے ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سات ارب ڈالر کی کثیر رقم مارکیٹ میں پھینکی۔ اب آپ خود اندازہ کریں کہ جس ملک میں اربوں ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہو وہاں قرضے میں لئے گئے ڈالر صرف ریٹ کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال کر لئے جاتے ہیں جس پر ہر سال سود بمع اصل زر اگلی حکومتوں نے ادا کرنا ہے۔ اس پالیسی کے واضح طور پر غلط ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اسحاق ڈار صاحب کے جانے کے بعد مفتاح اسماعیل صاحب نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مارکیٹ کے لحاظ سے کم کی تاکہ روپے سے پریشر ختم کیا جا سکے۔
لطیفہ یہ کہ ڈالر کی اس طلب اور رسد کی وجہ سے جب روپے کی قدر کم ہونا شروع ہوئی (جو کہ مارکیٹ کا رجحان متعین کرتا ہے ) تو پچھلی حکومت کے ایک وفاقی وزیر صاحب نے فرمایا کہ اگر نون لیگ کی حکومت نے روپے کو ڈالر کے مقابلے میں مصنوعی طور پر مستحکم رکھا تھا تو نئی حکومت بھی ایسا ہی کر لے۔ یعنی اپنی دو نمبری کی وضاحت دینے کی بجائے دوسروں کو بھی اسی پر اکسایا جا رہا ہے اور وجہ صاف ظاہر ہے کہ ان موصوف کو پتا ہے کہ کسی نے بھی تفصیل میں جا کر اس پالیسی کے حسن و قبح پر نظر نہیں کرنی کہ سب ہی ظاہر پرست ہیں۔
اب یاد رہے کہ اس پالیسی کے تحت بے شک ہمارا خسارہ بڑھتا رہا اور ساتھ ہی نتیجتاً بیرونی قرضہ جات بڑھتے رہے مگر کیونکہ یہ کھپت کے تحت آتا تھا تو اس سے جی ڈی پی گروتھ بھی زیادہ دکھتی رہی جبکہ پاکستان اپنے بیرونی قرضہ جات پر ڈیفالٹ کے دہانے پر آ کھڑا ہوا۔ یہ ابھی صرف دو مسائل کا ذکر کیا ہے، اگر اس میں کچھ اور مسائل یعنی ایک کھرب روپے سے زائد کا گردشی قرضہ، 2.3 کھرب روپے کا مالی خسارہ، سٹیٹ اداروں کا سفید ہاتھی بن کر وسائل میں سے حصہ لینا، سٹیل مل بند ہو جانا، فارن کرنسی قرضے مارکیٹ سے انتہائی مہنگے ریٹس پر لینا وغیرہ بھی شامل کر دیں تواصل مخدوش حالات کا کچھ نظارہ ہوتا ہے۔
ان سب حالات میں جب سادے لوگ اپنی بیوقوفی میں جی ڈی پی اور افراط زر کے گراف لگاتے ہیں تو ان بیچاروں پر ترس آتا ہے کہ کیسے کسی نہ کسی بغض کی وجہ سے اصل معاملے پر نظر کرنے اور اس پر سوال کرنے کی بجائے جگتوں کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ یہاں ہی یاد رہے کہ 2019 میں پورے دنیا کے ممالک کی معاشی حالات دگرگوں تھے اور اکثر کی شرح نمو گر رہی تھی، مثال کے طور پر بھارت کی ہی مثال دیکھ لیں کہ سات فیصد سے چار فیصد پر شرح نمو آ گئی تھی۔
تحریک انصاف کی حکومت کا ان سب مسلسل عذابوں سے جان چھڑانے کے لئے معاشی پالیسیوں پر بہت بات کی جا سکتی ہے کہ کیا تھیں اور کیا ہو سکتی تھیں مگر کرونا سے پہلے تک معاشی حالات میں بنیادی بہتری نظر آنا شروع ہو گئی تھی جس کی پہلی مثال تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ میں خسارے میں بدرجہا کمی ہے۔ یہ ایک غیر مقبول رائے ہے مگر یہ رائے ہے جو کہ میڈیا میں نہیں آ رہی۔ چونکہ ابھی بجٹ پر بات کرنی ہے اس لئے ان پالیسیوں پر بحث کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔
بجٹ 2021 ایک نیوٹرل سے قدرے مثبت بجٹ ہے، اس پر تنقید کرنے والوں کے پاس سوائے سرکاری ملازموں کی تنخواہ نہ بڑھانے اور معمول کے مطابق ڈیفنس بجٹ پر طعنہ زنی کے علاوہ اور کوئی قابل ذکر بات نہیں پڑھی۔ یہاں سب سے پہلے ایک انتہائی بنیادی بات کی وضاحت کرنا مقصود ہے کہ ابھی صرف وفاقی حکومت کے بجٹ کا اعلان ہوا ہے، صوبے اپنے اپنے بجٹ کا اعلان بعد میں کریں گے۔ لہذا صرف وفاقی بجٹ سے صحت و تعلیم کے بجٹ کی رقم اٹھا کر اسے دفاعی بجٹ کے ساتھ مقابلے کرنا عدم علم پر یا دھوکہ دہی پر دلالت کرتا ہے۔ اگر موازنہ کرنا ہے، اور کرنا بھی چاہیے، تو صوبوں کے صحت اور تعلیم کا بجٹ اکٹھا کر کے پھر دفاعی بجٹ سے مقابلہ کریں، مگر اٹھارہویں ترمیم کو پس پشت ڈال کر غلط دلیل کی بنیاد پر طعنہ زنی سے آپ اپنے سنجیدہ نہ ہونے اور اپنے موقف کو کمزور کر نے کے سزاوار ہو رہے ہیں۔
اصل میں اس بجٹ کو کرونا کے ریلیف پیکج کے ساتھ ملا کر دیکھنا پڑے گا کیونکہ بہت سارے اقدامات کرونا ریلیف پیکج میں پہلے سے ہی اٹھا لئے گئے ہیں اس لئے بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ بجٹ ایک نان ایونٹ بن کر رہ گیا ہے۔ پچھلے بجٹ کے سارے اہداف پورے نہیں ہو پائے، نہ آمدنی کے اور نہ ہی خرچہ جات کے۔ ستر سالوں میں پہلی دفعہ پاکستان کی اکانومی سکڑ رہی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ کرونا کی وجہ سے معیشت کا پہیہ رک جانا تھا۔ معاشی سرگرمیاں رک جانے سے نہ صرف پیداواری صلاحیت برے طریقے سے متاثر ہوئی بلکہ اس کے نتیجے میں حکومت کو ٹیکس کی مد میں ہونے والی آمدنی پر بھی اثر ہوا۔ رہی سہی کسر ٹڈی دل کے حملے سے پوری ہو گئی اور ہماری نمو کی ریڑھ کی ہڈی زراعت بھی اس سے بہت متاثر ہوئی۔
کرونا وائرس کی وجہ سے طلب کے کم ہو جانے اور خام تیل کی قیمتیں گر جانے سے افراط زر میں کمی ہوئی جو کہ شرح سود کو کم کرنے کا باعث بنی اور وہ پانچ فیصد سے زیادہ کم کر دیا گیا۔ شرح سود کے کم ہونے سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی کی امید ہے اگر کرونا کی شدت میں کمی واقع ہو۔ بجٹ میں کرونا کی مد میں ستر ارب روپے رکھے گئے ہیں اور خرچوں پر بھی بظاہر کنٹرول رکھا گیا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر بجٹ کی سمت درست دکھائی دیتی ہے۔
آئیں اب ذرا بجٹ 2020، اس کے نظر ثانی شدہ تخمینے اور بجٹ 2021 پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالتے ہیں۔ بجٹ 2020 میں ٹیکس کی مد میں آمدنی 5.8 کھرب روپے بتائی گئی تھی جبکہ نظر ثانی تخمینہ 4.2 کھرب روپے ہے، اور بجٹ 2021 میں 5.4 کھرب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ 2021 میں بھی ٹیکس آمدنی اتنی ہونے کی امید نہیں ہے کیونکہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے اور اسی وجہ سے اس کو نیچے کی طرف لانا پڑے گا جس سے مالی خسارہ اور بڑھے گا کیونکہ خرچے تو ادھر ہی رہیں گے۔
ٹیکس اور ٹیکس کے علاوہ والی آمدنی ملا کر بجٹ 2020 میں 6.7 کھرب روپے رکھے گئے تھے، جو کہ نظر ثانی تخمینہ میں 5.5 کھرب روپے رہ گئے ہیں اور اگلے سال کے بجٹ کے لئے 6.6 کھرب روپے کا اندازہ ہے۔ اسی مناسبت سے صوبوں کے حصے بھی بجٹ کیے گئے، جو کہ بجٹ 2020 میں 3.2 کھرب روپے تھے، نظر ثانی تخمینہ میں 2.4 کھرب روپے صوبوں کے لئے تجویز ہوئے کہ ٹیکس میں کم آمدنی کی وجہ سے صوبوں کے لئے بھی ان کا حصہ کم ہوگیا اور بجٹ 2021 میں 2.9 کھرب روپے رکھا گیا ہے، جس کے ابھی اور کم ہونے کی امید ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرتضی وہاب صاحب نے اپنی پریس کانفرنس میں وفاق پر الزام لگایا کہ وفاق نے سندھ کا دو سو ارب سے زائد حصہ نہیں دیا، اور حق کا علم اٹھائے کچھ صحافی و دانشور بغیر تحقیق کیے اس الزام کو اپنے الفاظ میں چباتے رہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صوبوں کا حصہ وفاق کے بجٹ میں ٹیکس کی آمدنی کی بنیاد پر بنایا جاتا ہے اور جب اس صورتحال میں ٹیکس کی آمدنی کم ہو رہی ہے تو لا محالہ صوبوں کا حصہ بھی کم ہونا ہے جیسے پنجاب کا بھی ساڑھے چار سو ارب کم ہوا ہے اور خیبر پختونخوا کا بھی ساٹھ ارب کے قریب کم ہوا ہے۔ یعنی کہ یہ تکنیکی طور پر مرتضی وہاب صاحب کو بھی پتا ہے کہ ایسا ہی ہونا ہے مگر صرف پوائنٹ سکورنگ کے لئے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ہمارے سادہ لوح صحافی دام میں آ کر غلط خبروں کی تشہیر کا موجب بنتے ہیں۔
سب سے بڑا خرچہ اس سال کے بجٹ میں بھی اور اگلے بجٹ میں بھی قرضہ جات کی واپسی اور اس پر سود کا ہے جو کہ 5 کھرب سے زیادہ پچھلے بجٹ میں تھا اور ساڑھے پانچ کھرب روپے اگلے سال کے بجٹ کے لئے ہے۔ دفاع پر پچھلے سال 1.23 کھرب کا خرچہ تھا جو کہ اگلے بجٹ کے لئے بڑھا کر 1.29 کھرب کر دیا گیا ہے۔ واپڈا اور پیپکو کی سبسڈیز کو کم کیا گیا ہے اور عوامی ترقیاتی اخراجات کو اس سال کے نظر ثانی تخمینہ سے اگلے بجٹ کے لئے پندرہ فیصد بڑھایا گیا ہے۔
بجٹ پر بات کرنا بہت تفصیل طلب ہوتا ہے اور ایک مضمون پر سمو دینا ناممکنات میں سے ہے، یہاں صرف موٹی موٹی سفارشات کا ذکر کرتا ہوں جو کہ بہت سودمند ثابت ہو سکتی ہیں۔ کچھ خام مال اور کچھ اشیا کی برآمدات پر ٹیکس ریٹ کم کیا گیا ہے۔ پرچون میں کچھ چیزوں پر سیلز ٹیکس دو فیصد کم کر دیا گیا ہے۔ مینوفیکچرر کے لئے ویلیو ایڈیشن پر سیلز ٹیکس ختم کیا گیا ہے۔ سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی پچیس پیسے فی کلو کے حساب سے کم کی گئی ہے۔
نوے سے زیادہ ٹیرف لائنز پر کسٹم ڈیوٹی گیارہ فیصد سے تین فیصد کی گئی ہے، جبکہ دو ٹیرف لائنز پر گیارہ فیصد سے زیرو کر دی گئی ہے۔ کچھ خام مال پر بھی کسٹم ڈیوٹی کم کی گئی ہے۔ گوادر فری زون میں کچھ کاروبار کی برآمدات کو زیرو ریٹ کرنے کی سفارش ہے۔ اس کے علاوہ بھی انڈسٹری کو بوسٹ دینے کے لئے ٹیکس میں بہت ساری چھوٹیں دی گئی ہیں۔
کہنے کو تو جتنے منہ اتنی باتیں مگر پاکستان کے موجودہ حالات، کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید معاشی بحران، اور ہمارے پاس مہیا ذرائع میں یہ ایک مناسب بجٹ ہے کہ اس میں عوام پر نئے ٹیکس کا بوجھ بھی نہیں ڈالا گیا اور پھر بھی ٹیکس کے محصولات کو مختلف ذرائع سے بڑھانے کی بات کی گئی ہے جو کہ ان حالات میں فی الحال تو مشکل ہی نظر آتا ہے اور اس بجٹ کی فگرز پر آگے کچھ مہینوں بعد نظر ثانی ہوتی دکھ رہی ہے۔


