پنجاب میں گورنر لگنے کے لیے اسلامی علوم میں مہارت لازم قرار دی جائے
پنجاب میں ایک نہایت ہی اچھا کام ہوا ہے۔ نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے کہ پنجاب کی تمام جامعات میں لیکچرار طلبا کو ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھائیں گے اور طلبا کے لیے اس لیکچرر میں شرکت کرنا اتنا ہی لازمی ہوگا جتنا ان دنیاوی علوم کے لیکچروں میں ہوتا ہے جن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے وہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے ہیں۔ اس نیک کام کے روح رواں گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ قرآن مجید ہمارے لیے اصل رہنمائی کا ذریعہ ہے قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا اور آخرت سنواری جا سکتی ہے۔
ماہ مئی میں گورنر ہاؤس لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز اختر، جی سی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اصغر زیدی، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر خالد مسعود گوندل سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اب پنجاب بھر کی یونیورسٹیز میں قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھانے کو لازمی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ پڑھے بغیر ڈگری نہیں ملے گی۔
ہم اتنے عرصے سے سنتے آ رہے ہیں کہ دنیاوی طور پر نہایت کامیاب مسیحی مغرب کے مقابلے میں ہماری پسماندگی کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم اچھے مسلمان نہیں ہیں۔ اگر ہم اسلام کے زریں اصولوں پر چلیں تو پھر ہم مغرب سے آگے نکل جائیں گے۔ جیسا کہ لاٹ صاحب نے بتایا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اگر ہمیں ضابطہ حیات کا ہی علم نہیں ہو گا تو ہم حیاتیاتی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے کیونکہ ڈارون کے ارتقا کے نظریے کے مطابق صرف فِٹ مخلوق ہی زندہ رہ پاتی ہے۔
اب طلبا کا تو مسئلہ کسی حد تک حل ہو گیا۔ اسلام کو جاننے کے لیے سب سے بہتر طریقہ قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا ہے۔ ترجمے میں بھی مختلف مسالک اور ہر مسلک میں مختلف مکاتب کا خیال رکھنا لازم ہے تاکہ طلبا ٹھیک طریقے سے سمجھ سکیں۔ اس لیے کم از کم چار مختلف تراجم پڑھائے جانے چاہئیں۔
لیکن تفسیر ساتھ نا ہو تو عام لوگوں کے لیے ترجمہ سمجھنا بھی اکثر اوقات دشوار ہو جاتا ہے۔ نا انہیں کسی آیت کے سیاق و سباق کا علم ہوتا ہے، نا اس کی شان نزول کا پتہ چلتا ہے، نا اس کے متعلق احادیث مبارکہ کی کچھ خبر ہوتی ہے۔ اس لیے مناسب ہے کہ دو تین مختلف مفسرین کی تفاسیر بھی یونیورسٹی کی سطح پر ہر طالب علم کو پڑھائی جائیں۔
ایک اور معاملہ بھی موجود ہے۔ قرآن مجید اور اس کی تفسیر دین کے موٹے موٹے اصول تو بتا دیتے ہیں، لیکن روز مرہ زندگی گزارنے کے لیے ہمیں سیرت و سنت سے راہنمائی ملتی ہے جو زندگی کی چھوٹی چھوٹی سے لے کر بڑی بڑی چیزوں تک کے بارے میں بتاتی ہیں۔ اس لیے یونیورسٹی میں صحاح ستہ اور الکافی پڑھانے کا بندوبست بھی کیا جانا چاہیے اور علم حدیث میں مہارت حاصل کیے بغیر کسی طالب علم کو ڈگری نا دی جائے۔ اس کے بعد جب ہمارے طلبا کسی یونیورسٹی میں فزکس، کیمسٹری، اردو، انگریزی ادب، نیوکلیائی فزکس، کوانٹم فزکس، زولوجی، میڈیسن اور انجینئرگ وغیرہ کے علوم میں مہارت حاصل کریں گے تو وہ دین کو بھی خوب سمجھ چکے ہوں گے۔
مانا کہ یہ سب علوم سیکھنے کے لیے بارہ چودہ برس لگ جائیں گے مگر کیا ہم ملک و ملت کو راہ راست پر لانے کے لیے یہ قربانی نہیں دے سکتے؟ طویل مدتی منصوبہ بندی کرنی چاہیے ورنہ ترقی نہیں کی جا سکتی۔
ادھر اب ایک اور الجھن درپیش ہے۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طلبا عملی زندگی میں آج سے پندرہ بیس برس بعد شامل ہوں گے جس وقت ان کی عمر پینتیس چالیس برس ہو گی (بشرطیکہ وہ فیل نا ہوئے)، اور وہ بھی ابتدائی لیول کے دفتری امور میں۔ جو لوگ ملک و ملت چلا رہے ہیں پہلے انہیں تو مکمل ضابطہ حیات میں ماہر ہونا چاہیے۔ خوش قسمتی سے ایسے لوگ وطن عزیز میں دستیاب ہیں جو قرآن و حدیث کے ماہر ہیں۔
ہماری رائے میں باسٹھ تریسٹھ جیسی مبارک آئینی شقوں میں، جو ممبر اسمبلی کے صالح مسلمان ہونے کو یقینی بنانا لازم قرار دیتی ہیں، یہ جزو بھی شامل کر دیا جائے کہ ممبر صوبائی و قومی اسمبلی نے نا صرف قرآن مجید مع ترجمہ حفظ کیا ہو، بلکہ اس کی تفاسیر کا بھی ماہر ہو اور علم حدیث میں بھی خوب درک رکھتا ہو۔ وزرا صوبہ یا ملک چلاتے ہیں۔ ان کے لیے شیخ الحدیث یا آیت اللہ ہونا لازم ہو ورنہ وہ اس منصب کے لیے نا اہل ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم، اور صدر ان سب دینی امور کے ایسے زبردست ماہر ہوں کہ سنی ہوں تو امام کہلائیں اور شیعہ ہوں تو مجتہد کا رتبہ رکھتے ہوں۔ ایسے نیک بندے ملک چلا رہے ہوں گے تو کرپشن ختم ہو جائے گی اور پاک سرزمین کا نظام شاد باد ہو گا۔
پنجاب حکومت نے یہ نیک قدم صرف طلبا کی سطح پر اٹھایا ہے۔ ہماری رائے میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور درست سمت میں پہلا قدم اٹھائیں اور اسمبلی توڑ دیں تاکہ پنجاب اسمبلی میں ایسے ممبران شامل ہوں جو اسلامی علوم کے ماہر ہوں، اس کے بعد دوسرا قدم اٹھائیں اور استعفیٰ دے دیں تاکہ اس منصب پر ایک اہل شخص فائز ہو سکے۔ اتنا تو وہ سمجھتے ہی ہوں گے کہ جب کسی کو مکمل ضابطہ حیات میں مہارت ہی حاصل نہیں تو وہ ملک کا وہی حال کرے گا جو ہو رہا ہے۔


