خوش آدمی


تخلیق۔۔۔ سومرسٹ ماہم / ترجمہ۔۔۔ ڈاکٹر خالد سہیل

دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت کرنا کتنا خطرناک کام ہے۔ میں نے اکثرسیاستدانوں ’فلاحی کارکنوں اور اسی قسم کے دوسرے لوگوں کی خود اعتمادی کو حیرانی کی نگاہ سے دیکھا ہے جو دوسرے انسانوں کو اپنی عادت و اطوار‘ نظریات اور طرز زندگی بدلنے پر مجبور کرتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ سوچتے ہوئے غیروں کو نصیحت کرنے سے احتراز کیا ہے کہ جب انسان دوسرے انسان کو اپنی ذات کی طرح سمجھ نہ لے نصیحت کرنا دانشمندانہ فعل نہ ہوگا۔ خدا گواہ ہے کہ میں اپنی ذات کو اچھی طرح نہیں جانتا تو کسی اور کو اچھی طرح جاننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ہم اپنے ہمسایوں کے خیالات اور جذبات کو نہیں جانتے صرف اندازہ لگاتے رہتے ہیں۔ ہر انسان اپنی تنہائی کے گنبد میں مقید ہے اور دوسرے قیدی انسانوں سے چند روایتی اشاروں سے حرف مدعا بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض دفعہ ان اشاروں سے مختلف لوگ مختلف معانی اخذ کرتے ہیں اور حرف مدعا پوری طرح سمجھا نہیں جاتا اور بدقسمتی سے زندگی ایک ایسی چیز ہے جو نہ ہم صرف ایک دفعہ گزارتے ہیں اور اس کی بعض غلطیاں ناقابل تلافی ہوتی ہیں جن کا بوجھ ہم اپنے کاندھوں پر اٹھائے ساری عمر چلتے رہتے ہیں۔

ایسے حالات میں میرا کسی کو یہ مشورہ دینا کہ وہ اپنی زندگی کس طرح گزارے ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ زندگی کا کاروبار اتنا مشکل ہے کہ اوروں کو نصیحت کرنا تو کیا کئی دفعہ مجھے اپنے بارے میں فیصلہ کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کیفیات اور خیالات کے باوجود کئی دفعہ شاہراہ حیات پر میری کچھ ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی تھی جو آغاز سفر میں ہی راہ کھو بیٹھے تھے جن کے ارادے متزلزل تھے اور ذہنوں میں دھند چھائی ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے مجھ سے جب نشاندہی چاہی تو میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی منزل کی طرف اشارے کر دیے تھے۔ ان میں سے نجانے کتنے اپنی منزلوں پر پہنچ گئے تھے اور کتنے بھٹک گئے تھے۔

صرف ایک شخص کے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اسے صحیح مشورہ دیا تھا۔

یہ میری جوانی کے دنوں کی بات ہے جب میں لندن میں وکٹوریا سٹریٹ کے قریب ایک درمیانی درجے کے اپارٹمنٹ میں رہتا تھا۔ ایک شام کو جب میں اپنے کام سے فارغ ہو کر استراحت کرنے والا تھا کہ گھنٹی کی آواز آئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو میرے سامنے ایک اجنبی تھا۔ اس نے میرا نام پوچھا اور جواب سننے کے بعد کہنے لگا

’کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟‘
’ضرور‘ میں نے جواب دیا

میں اسے اندر لے آیا اور بیٹھنے کے لیے کرسی پیش کی۔ وہ کچھ گھبرایا گھبرایا سا لگ رہا تھا۔ میں نے اسے سگریٹ پیش کیا۔ سگریٹ جلاتے ہوئے وہ کچھ کانپ رہا تھا۔ اسی دوران اس کا ہیٹ گر پڑا۔ میں نے ہیٹ کو دوسری کرسی پر رکھنے کیپیشکش کی تو اس نے خود ہی ہیٹ اٹھا کر کرسی پر رکھ دیا لیکن وہ اتنی بدحواسی کا شکار تھا کہ ایسا کرتے ہوئے اس کی چھتری گر پڑی۔

’مجھے امید ہے آپنے میری اس بے وقت کی دخل اندازی کا برا نہیں مانا ہوگا‘

اس نے بولنا شروع کیا ’میرا نام اسٹیفنز ہے اور میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ آپ کا تعلق بھی طب سے ہے۔ ۔ ۔ ہے نا؟‘

’آپ کا کہنا بجا ہے لیکن میں اب پریکٹس نہیں کرتا‘

’میں اس بات سے باخبر ہوں میں نے پچھلے دنوں آپ کی وہ کتاب پڑھی ہے جو آپ نے اسپین کے بارے میں لکھی ہے‘

’ وہ کوئی اتنی اچھی کتاب تو نہیں‘

’بہرحال آپ اسپین کے بارے میں کافی کچھ جانتے ہیں۔ میں کسی اور شخص کو نہیں جانتا جو اتنی معلومات رکھتا ہو۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ آپ میرے چند سوالات کا جواب دے سکیں گے‘ ۔

’بڑی خوشی سے‘

وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔ پھر اس نے بے خیالی میں ہیٹ کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اسے سہلانے لگا جیسے وہ سوال کرنے کے لیے اپنی ہمت کو یکجا کر رہا ہو

’ مجھے امید ہے کہ آپ کی طبیعت پر ایک اجنبی کا اس طرح بے تکلف ہونا گراں نہ گزرے گا‘ وہ کھسیانی ہنسی ہنسا۔ ’آپ فکر نہ کریں میں آپ کو اپنی داستان زندگی نہیں سناؤں گا‘

جب کوئی شخص مجھے یہ کہتا ہے تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ وہ وہی کرے گا جس کی وہ تردید کر رہا ہے یہ علیحدہ بات کہ وہ مجھے ناگوار نہیں گزرتا بلکہ ایک عجیب طریقے سے میں اسے پسند کرتا ہوں۔

وہ گویا ہوا ’میرا بچپن میری دو خالاؤں کے ساتھ گزرا تھا۔ میں پوری زندگی کہیں نہیں گیا۔ کہیں سیر و سیاحت کے لیے قدم نہیں اٹھایا۔ میری شادی کو چھ برس گزر چکے ہیں اور اب میں کیمبرول کی ڈسپنسری میں بطور میڈیکل افسر کے کام کر رہا ہوں۔ میں اس روزمرہ کے معمول سے تنگ آ چکا ہوں اور باقی زندگی اسی ڈگر پر نہیں گزارنا چاہتا‘ ۔

میں نے اس کے جملوں اور انداز گفتگو میں ایک شدت محسوس کی۔ وہ شخص آہستہ آہستہ میری توجہ کا مرکز بن رہا تھا۔ وہ چھوٹے قد کا بھاری بھرکم انسان تھا۔ جس کی عمر تیس برس کے قریب ہوگی۔ اس کا چہرہ سرخ اور آنکھیں چھوٹی لیکن چمکدار تھیں۔ اس نے نیلا سوٹ زیب تن کر رکھا تھا۔ اس کی پتلون کے تھیلا نما گھٹنے اور کوٹ کی ڈھیلی ڈھالی جیبیں اس بات کی چغلی کھا رہی تھیں کہ وہ ان کپڑوں کو کافی عرصے سے پہن رہا ہے۔

’ میری زندگی کا ہر نیا دن پچھلے دن کی طرح ہوتا ہے جس میں تازگی کا فقدان ہوتا ہے۔ کیا تمہارا خیال ہے کوئی انسان اپنی ساری زندگی کے شب و روز اس طرح گزار سکتا ہے؟‘

’ یہ روزی روٹی کمانے کا ایک ذریعہ ہے‘ میں نے جواب دیا

’یہ بات تو ٹھیک ہے لیکن مرے پاس پیسوں کی کمی نہیں‘

’میں ابھی تک یہ سوچ رہا ہوں کہ تم مجھ سے ملنے کیوں آئے ہو؟‘

’میں تم سے یہ پوچھنے آیا تھا کہ کیا اسپین میں ایک انگریز ڈاکٹر کی کوئی مانگ ہے یا نہیں؟‘

’اسپین کیوں؟‘

’پتہ نہیں میرا اسپین جانے کو جی چاہتا ہے‘

’تم بخوبی جانتے ہے کہ وہاں‘ کارمن شہر ’جیسی جنت نہیں ہے‘

’یہ بجا لیکن وہاں سورج کی روشنی فراواں ہوگی۔ بہت سی شراب‘ بہت سے رنگین مناظر اور تازہ ہوا۔ میں تم سے صاف صاف کیوں نہ پوچھوں میں نے اتفاقاٌ سنا ہے کہ سیول کے علاقے میں کوئی انگریز ڈاکٹر نہیں ہے۔ کیا تمہارے خیال میں میں اس علاقے میں اپنی روزی کمانے کا بندوبست کر سکوں گا۔ کیا ایک غیر یقینی مستقبل کے لیے ایک محفوظ اور مستقل ملازمت کو چھوڑ دینا دانشمندانہ قدم ہے؟ ’

’اس بارے میں تمہاری بیوی کا کیا خیال ہے؟‘
’وہ چلنے کے لیے تیار ہے‘
’آپ ایک بڑا جوا کھیل رہے ہیں‘

’میں جانتا ہوں اسی لیے تو آپ سے مشورہ کرنے آیا ہوں۔ آپ کہیں گے چلے جاؤ تو چلا جاؤں گا آپ کہیں گے نہ جاؤ تو یہیں رہوں گا‘

وہ مجھے اپنی گہری چمکیلی نگاہوں سے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ مجھے پورا یقین تھا کہ وہ سنجیدہ ہے۔ میں چند لمحوں کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔ پھر میں نے کہا

’یہ تمہاری زندگی کے پورے مستقبل کا سوال ہے اس لیے فیصلہ تمہیں خود کرنا چاہیے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اگر تمہیں دولت کی ہوس نہیں اور سکون اور خوشی کے متلاشی ہو تو چلے جاؤ وہاں تمہیں پیسے کم ملیں گے لیکن خوشیاں زیادہ۔ تم روکھی سوکھی پاؤ گے لیکن اعلیٰ زندگی گزارو گے‘

وہ رخصت ہوا۔ میں ایک دو دن اس کے بارے میں سوچتا رہا اور اس کے بعد اسے بھول گیا۔ اس واقعہ کو طویل عرصہ گزر گیا اور اس کی یاد بھی میرے ذہن سے محو ہو گئی۔

پندرہ سال کے طویل عرصہ بعد مجھے اسپین میں فاسیول جان کا اتفاق ہوا۔ ایک دن میری طبیعت ناساز تھی۔ چنانچہ میں نے ہوٹل کے ایک کارکن سے پوچھا ’کیا اس علاقے میں کوئی انگریز ڈاکٹر ہے؟‘

اس نے مجھے ایک ڈاکٹر کے گھر کا پتہ بتایا اور میں ایک ٹیکسی لے کر وہاں پہنچا۔ میں نے گھنٹی بجائی تو ایک چھوٹے قد کا بھاری بھر کم مرد نکلا۔ مجھے دیکھ کر وہ قدرے ہچکچایا۔

’کیا آپ مجھ سے ملنے آئے ہیں۔ میں انگریز ڈاکٹر ہوں‘

میں نے اپنی طبیعت کی ناسازی کا ذکر کیا اور وہ مجھے اندر لے گیا۔

وہ ایک ہسپانوی طرز کا معمولی سا گھر تھا۔ ایک طرف برآمدہ تھا اور دوسری طرف اس کا مطب۔ اس ک مطب میں کتابیں کاغذات ڈاکٹری کا سامان اور کچھ لکڑیاں بکھری پڑی تھیں۔ وہ منظر ایک مریض کو حیران کرنے کے لیے کافی تھا۔ جب وہ دوا تجویز کر چکا تو میں نے پوچھا

’آپ کی فیس کتنی ہے؟‘
’کچھ نہیں‘
’ایسا کیوں؟‘ میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا

’آپ شاید بھول گئے۔ آپ ہی کے مشورے سے تو میں یہاں آ کر آباد ہوا تھا۔ میری زندگی میں خوشگوار تبدیلیوں کا سبب آپ ہی ہیں۔ میرا نام اسٹیفنز ہے‘

مجھے پھر بھی کچھ یاد نہ آیا۔ پھر اس نے سارے واقعے کی تفصیل بتائی اور میرے ذہن میں ماضی کے دھندلے نقوش ابھرنے لگے۔

کہنے لگا ’میں ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ کیا میری آپ سے پھر کبھی ملاقات ہوگی یا نہیں اور کیا مجھے یی سعادت ملے گی کہ میں آپ کا شکریہ ادا کر سکوں اور بتا سکوں کہ اپ میرے محسن ہیں‘

’اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کامیاب ہوئے‘

میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ موٹا اور گنجا ہو چکا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں خوشی کی مسکراہٹ اور چہرے پر پر مزاح شگفتگی رقصاں تھی۔ اس نے ہسپانوی طرز کے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن رکھے تھے۔

’مجھے یقین ہے کہ تم شادی شدہ تھے‘ میں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا

’ہاں لیکن میری بیوی کو اسپین پسند نہ آیا۔ وہ واپس کیمرول چلی گئی وہ وہاں زیادہ خوش تھی۔‘
’یہ سن کر افسوس ہوا‘ میں نے کہا

اس کی آنکھوں میں مسکراہٹ ایک دفعہ پھر رقصاں ہوئی۔ ’انسان کو زندگی مین بہت سے متبادل مل جاتے ہیں‘ وہ بڑبڑایا۔ اس کا فقرہ ابھی ختم بھی نہ ہوا تھا کہ ایک درمیانی عمر کی خوبصورت ہسپانوی عورت دروازے میں داخل ہوئی۔ اس نے ہسپانوی زبان میں کچھ کہا۔ اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ گھر کی مالکہ ہے۔

پھر وہ اٹھا اور مجھے الوداع کہتے ہوئے گویا ہوا ’تم نے مجھے لندن میں بتایا تھا کہ میں یہاں آ کر غربت کی زندگی گزاروں گا لیکن خوش رہوں گا۔ تمہاری پیشین گوئی بالکل درست تھی۔ میں غریب ہوں اور ہمیشہ غریب رہوں گا لیکن میں زندگی کی رنگینیوں سے اتنا لطف اندوز ہو رہا ہوں اتنا پرسکون اور خوش ہوں کہ کسی بادشاہ سے بھی اپنی زندگی بدلنا پسند نہیں کروں گا‘

٭٭٭     ٭٭٭

Somerset Maugham انگلستان میں 1874 میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ہی ان کے والدین فوت ہو گئے۔ ان کے ایک چچا نے ان کی پرورش کی۔ سومرسٹ ماہم بہت ذہین تھے۔ انہوں نے طب کی تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹر بن گئے لیکن زمانہ طالب علمی سے انہیں ایک لکھاری بننے کا شوق تھا۔ ڈاکٹر بننے کے بعد تئیس برس کی عمر میں انہوں نے اپنا پہلا ناول لکھا جس کا نامliza of lambet لکھا جو اتنا مقبول اور مالی لحاظ سے اتنا کامیاب ہوا کہ ماہم نے ڈاکٹر بننے کی بجائے رائٹر بننے کو ترجیح دی۔

مام ایک عاشق مزاج انسان تھے انہوں نے اپنی زندگی میں عورتوں سے بھی محبت کی اور مردوں سے بھی۔ ان کے خدا اور مذہب کے بارے میں غیر روایتی نظریات تھے۔ وہ کہتے تھے کہ دنیا میں اتنا ظلم و ستم اور تباہی و بربادی دیکھ کر کوئی کیسے ایک مہربان خدا پر ایمان لا سکتا ہے۔ ماہم نے ایک زمانے میں انگلستان کا روس میں جاسوس بن کر کام بھی کیا اور ان تجربات کی بنا پر Ashenden or British Agent کتاب بھی لکھی جس کی بنیاد پر Ian Fleming نے James Bond کے ناول لکھے۔ ماہم نے 91 برس کی عمر میں 1965 میں وفات پائی۔ مام نے اپنی زندگی میں بہت سے مقبول عام ناول ڈرامے اور افسانے تخلیق کیے۔ ان کی تخلیقات کو عوام نے نقادوں سے زیادہ پسند کیا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail