میری کھڈیاں کہاں گئیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 1972۔ حقیقی واقعے پر مبنی افسانہ

دبلے پتلے دراز قد کے حامل وقار نے جب دیکھا کہ کھڈیوں پہ سے اس کا نام مٹا دیا گیا ہے تو وہ دیوانہ وار دوڑ کر ان سے لپٹ گیا۔ ’یہ میری کھڈیاں ایں، انہیں کوئی اور نہیں لے سکتا۔‘ پھر اس نے چاروں طرف دیکھا۔ ’تم لوگ چپ کیوں ہے؟ عمر بھائی کہاں ہے؟‘
یہ شور سن کر نحیف جسامت کا خان کمرے سے باہر آیا اور اس نے چوکیدار کو اشارہ کیا۔ لمبا چوڑا چوکیدار وقار سے نمٹنے کے لئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔

’اپنے نام کو صاف صاف لکھو اور اس گوند سے اچھی طرح اپنی اپنی کھڈیوں پر چپکانا۔ بڑی زبردست گوند ہے یہ!‘ ہفتہ بھر پہلے کی بات ہے کہ عمر بڑے رعب سے احکامات جاری کر رہا تھا۔ اس کی پیشانی پہ ایک عجیب و غریب چمک تھی۔ باقی سب مزدور خوشی خوشی اس کی ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔

’عمر بھائی یہ کھڈیاں کیا سچ مچ ہماری ہو جائیں گی؟ مجھے تو یقین نہیں آتا کہ میں بھی ان دو کھڈیوں کا مالک بن جاؤں گا اور سارا نفع خود رکھوں گا۔‘ وقار کی باچھیں کھل رہی تھیں۔ ’لیکن مجھے تو پتا ہی نہیں کہ دھاگا کہاں سے خریدنا اور یہ کپڑا کہاں بیچنا ہے!‘

’یہ کام تو یونین کرے گی۔ کوئی چنتا نہیں کر تو! اب نئی سرکار آ گئی ہے، انہوں نے ہم سے یہی وعدہ کیا تھا۔ بچے یہ لے میرا سگریٹ، تو بھی اس خوشی میں ایک کش لگا مزہ آ جائے گا مزہ۔‘
’عمر بھائی، نہیں ابھی نہیں، تم آج چرس کا سگریٹ کیوں پی رہے ہو؟‘ وقار نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

’دو شفٹیں کر رہا میں آج۔ اگر چوبیس گھنٹے مسلسل کام کرنا ہے تو کچھ مال مسالہ تو چاہیے۔‘
’سنا ہے آج تم نے شفٹ ختم ہونے پر میٹنگ بلائی ہے!‘

عمر نے ایک کش لے کر دھوئیں کا مرغولہ بنایا۔ ’ہاں دس منٹ کی میٹنگ ہو گی ہم لمبی میٹنگ نہیں کر سکتے۔ جتنی دیر کھڈیاں نہیں چلیں گی اگلی شفٹ والوں کا اتنا ہی کمیشن کم ہو گا اور مالک الگ ان کو ڈانٹے گا۔‘
۔

عمر نے اپنی گھنی مونچھوں کو دونوں مٹھیوں میں لے کر مروڑا۔ ’بھائیوں، اس فیکٹری میں چالیس کھڈیاں ہیں اور بیس مزدور۔ تو ہر ایک کے حصے میں دو دو کھڈیاں آئیں گی۔ بس ڈٹے رہنا۔ مالک چاپلوسی اختیار کرے یا دھونس استعمال کرے اس کی باتوں میں نہیں آنا۔ اب انقلاب آ چکا ہے اور جیت ہماری ہو گی۔‘

’عمر، ابھی تک سرکار نے کوئی ایسا اعلان نہیں کیا کہ مزدور کھڈیوں کے مالک بن جائیں گے۔‘ ایک پچاس سالہ وجیہ شکل کا مزدور بولا۔
عمر مسکرایا۔ ’سرکار یہ اعلان ضرور کرے گی۔ چناؤ کے وقت ان لوگوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔‘

’چناؤ کے وقت تو بہت وعدے کیے جاتے ہیں زبان ہلانے میں کیا جاتا ہے۔ اگر سرکار نے اب یہ وعدہ پورا نہیں کیا تو مالک ہمارے خلاف کارروائی کرے گا۔‘

’جب بھی ہم نے مزدوری بڑھانے کی بات کی تو مالک نے ہمیں یہی بتایا کہ کاروبار میں اب پہلے کی طرح منافع نہیں ہے لیکن ہر سال مالک اپنے بیوی بچوں کے ساتھ عمرے پر جاتا ہے۔ انقلاب آ چکا ہے خان صاحب ہمارے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر ہمیں کھڈیوں کی ملکیت نہیں بھی ملی تو منافع میں شرکت ضرور ملے گی۔ یہ میرا وعدہ ہے آپ سب سے ورنہ ہم اس فیکٹری کو آگ لگا دیں گے۔‘ عمر کی آواز میں اعتماد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

’انقلاب زندہ باد! انقلاب زندہ باد!‘
وقار بھی نعرے لگا رہا تھا مگر گھبرا کر ادھر ادھر نظر ڈال رہا تھا کہ کہیں فیکٹری کا مالک اسے چوری چھپے نہ دیکھ رہا ہو۔
۔

’خان صاحب کیسے آنا ہوا؟ مجھے بلا لیا ہوتا۔‘ صاف ستھرے سفید کپڑوں میں ملبوس مولوی اطہر نے اپنی تراشی ہوئی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
’اطہر صاحب، یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے آپ جیسے لوگ اس محلے میں بستے ہیں اور یہ مدرسہ چلاتے ہیں۔‘ خان صاحب نے ایک ہزار کا نوٹ مولوی اطہر کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔

’شکریہ، جزاک اللہ، میں ابھی آپ کو رسید دیتا ہوں۔‘ مولوی اطہر نے اپنے میز کا دراز کھولتے ہوئے کہا۔
’نہیں نہیں، رسید کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے آپ پر ایک سو دس فیصد اعتماد ہے۔‘

’مہربانی، لیکن میں بھی ایک سو دس فیصد حساب کتاب رکھتا ہوں!‘ مولوی اطہر کے چہرے پر حسب عادت مسکراہٹ تھی۔ ’شکریہ چندے کا۔ آج کل فیکٹری کیسی چل رہی ہے! طرح طرح کی افواہیں گرم ہیں۔‘

خان صاحب نے بے ساختہ جواب دیا۔ ’اسی لئے تو میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ مزدور بغاوت کرنے والے ہیں، فیکٹری پر قبضہ کرنے یا اسے آگ لگانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ ایک بڑی یونین ان کے لیڈر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ میں اس سے بہت ڈرتا ہوں۔‘ خان صاحب کے چہرے کا رنگ پیلا ہو رہا تھا۔

مولوی اطہر کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔ ’پھر آپ نے کیا سوچا؟‘
خان صاحب نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کہا۔ ’کئی دنوں سے انہی سوچوں میں گرفتار ہوں بس آپ کی مدد چاہیے۔‘
۔
خان صاحب نے اونچی آواز میں سب کو پکارا۔ ’سب لوگ کام چھوڑ کر ادھر آ جاؤ۔‘

’کل میں چندہ دینے کے لئے مدرسے کے ناظم مولوی اطہر کے پاس گیا تھا، انہوں نے مجھ کو دین کی چند باتیں بتائیں جنہیں سن کر میرا دل بہت شرمندہ ہوا کہ میں اپنی زندگی میں کئی غلط کام کر تا رہا ہوں۔ مولوی اطہر آپ لوگوں سے بھی دین کی دو چار باتیں کرنا چاہتے ہیں۔‘ یہ کہہ کر مالک اپنے دفتر میں چلا گیا۔

مولوی اطہر نے بہت خوش اسلوبی سے عبادات کی اہمیت پہ زور دیا اور اس کے بعد مجمع کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ ’خان صاحب یہاں نہیں ہیں تو میں آپ لوگوں سے ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں۔‘

سب مزدوروں کے کان کھڑے ہو گئے جیسے وہ سوتے میں جاگ گئے ہوں۔

’آپ لوگ مزدوری کرتے ہیں اور خوش قسمت ہیں کہ اگلی دنیا میں آپ کا حساب کتاب آسانی سے ہو جائے گا۔ لیکن ان خان صاحب کا کیا ہو گا؟ پیسہ کہاں سے آیا پیسہ کدھر کدھر گیا، کس کو نقد یا ادھار دیا یا لیا، مال کیسے بیچا، کتنا نفع نقصان ہوا۔ ان کا حساب کتاب دنوں دنوں جاری رہے گا اور فرشتوں نے ذرا سی بھی اونچ نیچ دیکھ لی تو سیدھا دوزخ کی طرف۔‘ اور مولوی اطہر پانچ منٹ اس موضوعات پر بولتا رہا۔

اگلے دن شفٹ کی تبدیلی کے وقت مزدوروں کا جلسہ ہوا۔ عمر زور زور سے چیخ رہا تھا۔ ’ہمیں اپنا مقصد نہیں بھولنا چاہیے اور مولوی اطہر کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔ خان صاحب مولوی اطہر سے تقریریں کروا کر ہمارے انقلاب کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ بھائیو! ہم سب لوگ مل کر یہ عہد کریں کہ ہم مولوی اطہر کی تقریریں نہیں سنیں گے اور جب وہ تقریر کریں تو اپنے اپنے کام میں مگن رہیں گے۔‘

ایک مزدور نے عمر کو ٹوکا۔ ’مولوی اطہر اگر کوئی اللہ رسول کی بات بتا رہیں ہیں تو ہمیں سننے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی باتوں میں ہمارا ہی بھلا ہے انہوں نے اپنی زبان سے انقلاب کے خلاف ایک لفظ نہیں نکالا۔‘ کئی اور مزدور بھی اس کی تائید کرنے لگ گئے۔

عمر نے ماحول پر قابو پانے کے لئے اپنی آواز اونچی کر لی۔ ’ہم ایک لمبے عرصے کی لڑائی کے بعد کامیاب ہونے لگے ہیں۔ آج نہیں تو کل وہ ہمارے انقلاب کو ناکام بنا دیں گے۔ آپ لوگ دور اندیشی سے کام لیں اور فی الحال انقلاب کے علاوہ کسی اور طرف دھیان نہ کریں۔‘ کچھ دیر اور بول کر اس نے انقلاب اور مزدور اتحاد کے نعرے لگوائے۔
۔

گھر واپس آ کر عمر کھانا کھائے بغیر چارپائی پر لیٹ گیا اور خود سے باتیں کرنے لگ گیا۔ عمر کی بیوی نے اس کا مضطرب چہرہ دیکھ کر کئی بار بات کرنے کی کوشش کی۔ ’تم نے مجھ سے کبھی کوئی بات نہیں چھپائی۔ میں اس انقلاب میں تمہارے ساتھ ساتھ شانہ بشانہ ہوں۔ میرے عمر! تمہیں میری عمر لگ جائے۔ بتاؤ مجھے تمہیں کس بات کی پریشانی ہے۔‘ یہ کہہ کر موٹے خد و خال کی سلمیٰ عمر کے ساتھ لپٹ گئی۔

عمر کے ضبط کا بند ٹوٹ گیا اور وہ بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔ ’سلمیٰ یہ انقلاب ناکام ہو گیا۔ فیکٹریوں کے مالکوں نے مذہب کا پتا پھینک کر ہمیں ٹرمپ کر دیا ہے۔‘ اور پھر عمر بہت دیر تک بولتا رہا۔

سلمیٰ دوسری چارپائی پر عمر کے سامنے بیٹھ گئی۔ ’تمہاری بات تو صحیح ہے لیکن انقلاب کئی مرتبہ ناکام ہونے کے بعد آتا ہے۔ تم اپنی جد و جہد جاری رکھو۔ میں نے وہ کتابیں پڑھی ہیں جو تم نے مجھ کو لا کر دیں تھیں۔ ان میں کہیں نہیں لکھا کہ انقلاب کا راستہ سیدھا اور آسان ہے۔ تم نے ہمت نہیں ہارنی ہے چاہے جیسے مرضی حالات سے گزرنا پڑے میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘

’لیکن سلمیٰ یہ انقلاب ناکام ہو جائے گا۔ مولوی اطہر کے آگے میں بالکل بے بس ہو گیا ہوں۔‘
’تم اس کی تقریریں کیوں نہیں رکوا دیتے، سب مزدور تمہارے اشارے کے منتظر رہتے ہیں۔ تم مولوی اطہر کو دھمکی کیوں نہیں دیتے کہ وہ فیکٹری نہ آئے؟‘

’سلمیٰ بہت سوچا میں نے اس بارے میں۔ وہ مدرسے کے سارے لڑکے ہمارے پیچھے لگا دے گا اور ویسے بھی کچھ مزدور اس کے ساتھ ہیں۔‘ عمر بے مقصد چھت کو گھور رہا تھا۔
’اب دیکھو کتنی رات ہو گئی ہے۔ صبح اٹھ کر اس کا کوئی حل نکالنا۔ میں تمہارے لئے گرم دودھ کا گلاس لے کر آتی ہوں۔‘
۔

فیکٹری کے باہر عمر پھر چیخ چیخ کر مزدوروں کے جوش و ولولے کو کسی طرح ٹھنڈا ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ’میرے بھائیو! آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ لوگ مالک کی چال کو سمجھیں۔ مولوی اطہر اپنی میٹھی باتوں اور نرم لہجے سے اس تحریک کو ناکام بنا دیں گے۔ آپ لوگ اپنے انقلاب کو نہیں چھوڑیں گے مزدوروں کی حکومت کے لئے، کسانوں کی حکومت کے لئے، ہمارے بچوں کی مفت تعلیم کے لئے، ہمارے مفت علاج کے لئے، معاشرے میں سب کی برابر عزت کے لئے، سب کے واسطے ایک قانون کے لئے۔ ۔ ۔‘

اگلے روز خان صاحب نے عمر سے کہا کہ وہ شفٹ ختم ہونے کے بعد اس کے دفتر میں آ جائے۔ ایک دو مزدوروں نے یہ بات سنی تو سمجھ بیٹھے کہ خان صاحب رعایات کی پیشکش کریں گے لیکن عمر نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس کے ذہن میں مسلسل فکر اور تضادات کی چکی پس رہی تھی۔

’اسلام و علیکم‘ عمر نے دفتر میں داخل ہوتے ہی آواز اونچی کر کے اپنا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی۔
’بیٹھو۔ تم آج کل کچھ پریشان لگ رہے ہو کیا بات ہے سب خیریت ہے؟ کچھ گھریلو مسئلہ ہے تو یہ مولوی اطہر سے بات شات کر لو۔‘ خان صاحب نے مولوی اطہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
عمر ان غیر متوقع سوالات کی بوچھاڑ سے چت سا ہو گیا۔ ’نہیں جی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ سب ٹھیک ٹھاک ہے۔‘

’میرے خیال میں تم کسی وجہ سے پریشان ہو۔ تم دو مہینے کی چھٹی لے لو اور میں تمہیں پانچ مہینے کا کمیشن دس ہزار روپے پیشگی دے دیتا ہوں۔ تم دو تین مہینے کے بعد میرے پاس آنا میں تمہیں یہاں نہیں تو کسی اور فیکٹری میں لگوا دوں گا۔ مولوی اطہر میرے وعدے کے گواہ ہیں۔‘

عمر نے مولوی اطہر کی طرف دیکھا تو اس نے مسکرا کر سر کو ہلکی سی جنبش دی۔
عمر نے دس ہزار روپے گنے بغیر جیب میں ڈال لئے۔ جب وہ فیکٹری کے دروازہ سے باہر نکلا تو کچھ مزدور اس کا انتظار کر رہے تھے۔ ’عمر بھائی، کیا بات ہوئی اندر، کچھ کام بنا؟‘

’نہیں کوئی بات نہیں ہوئی، میری طبیعت صحیح نہیں ہے، بخار بھی ہو رہا ہے۔ کل یا پرسوں مالک سے بات کروں گا، پھر جلسہ کریں گے۔‘ اور وہ مزید بات کیے بغیر اپنے سائیکل کی طرف چل پڑا۔
’عمر بھائی اپنا خیال رکھنا۔ تمہارا انتظار کریں گے۔‘

ایک کلو میٹر آگے جاکر ایک بند بوسیدہ دکان کی اوٹ میں ہو کر عمر نے جیب سے سارے پیسے نکالے اور اسے دو حصوں میں بانٹ کر الگ الگ جیبوں میں ڈال لئے۔

’آج تم جلدی کیسے آ گئے! کیا آج جلسہ نہیں ہونا تھا؟‘ سلمیٰ عمر کو دیکھ کر حیرانی سے بولی۔
’کون سا جلسہ، کیسا جلسہ!‘ عمر فرش کو گھور رہا تھا۔

’عمر جلدی جلدی بتاؤ، کوئی مار کٹائی تو نہیں ہوئی فیکٹری میں؟‘ سلمیٰ کی چھوٹی پیشانی پر پسینے کے قطرے کھڑکی سے چھنتی ہوئی دھوپ میں چمک رہے تھے۔ ’بولتے کیوں نہیں عمر؟ یا علی مدد۔‘

’کچھ نہیں ہوا فیکٹری میں۔ میری اپنی طبیعت صحیح نہیں ہے، چکر آرہے تھے کام کے دوران ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے کہا کہ مجھے کچھ دن آرام کی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ انقلاب کے دباؤ اور بھاگ دوڑ کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔‘

’ہاں! یہ صحیح بات ہے۔ تم کئی دنوں سے پریشان پریشان سے تھے۔ تم چند دن آرام کرو، میں خوب اچھی طرح تمہارا خیال کروں گی تا کہ تم جلد از جلد ٹھیک ہو کر کام پہ واپس چلے جاؤ۔‘
یہ سن کر عمر نے اطمینان کا ایک لمبا سانس لیا اور نظریں اونچی کر کے سلمیٰ کو دیکھا۔ ’لگتا ہے تمہیں مجھ سے زیادہ انقلاب کی فکر ہے!‘

’کیسی باتیں کر رہے ہو تم۔ میں ہر طرح سے تمہارے ساتھ ہوں۔ ظاہر ہے میں نہیں چاہتی کہ تمہاری اتنے عرصہ کی ہوئی جد و جہد بیکار چلی جائے۔‘

’ہماری جد و جہد بیکار نہیں جائے گی، میں وہاں نہیں تو اور کئی لوگ ہیں سنبھالنے والے۔‘ پھر عمر نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالتے ہوئے کہا۔ ’یہ لو دو ہزار روپے، میں نے مالک کو دھمکا کر پیشگی لے لئے ہیں۔‘

سلمیٰ نے ہاتھ آگے بڑھایا تو عمر نے اس کی کلائی پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔ ’مجھے بھی تو تمہارا خیال کرنا چاہیے۔ کل طبیعت بہتر ہوئی تو لاہور سیر کے لئے جائیں گے اور تم کچھ اپنے لئے شاپنگ بھی کر لینا۔ میں نے چار پانچ سو روپے جمع کیے ہیں تمہارے لئے۔‘
سلمیٰ مسکرا کر عمر کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی۔
۔

اگلے دن مولوی اطہر نے تقریر کے دوران کہا۔ ’پیارے بھائیوں! کسی اور نے ان کھڈیوں پر مال خرچ کیا ہے تم لوگ ان پر اپنا نام لکھ کر کیوں گناہ کے مرتکب ہو رہے ہو؟ کسی کے مال پر ناحق قبضہ کرنا دوزخ خریدنے کے برابر ہے۔ میں یہیں بیٹھا ہوں میرے سامنے تم اپنے اپنے نام ان کھڈیوں پہ سے اتار دو۔ اللہ تم پر بہت مہربان ہو گا انشا اللہ۔‘

اگلی شفٹ کے لئے وقار فیکٹری میں داخل ہوا تو اسے کچھ عجیب عجیب سا ماحول لگا۔ موٹی چادر میں لپٹا ہوا وقار ان کھڈیوں کی طرف بڑھا جن کو وہ چلاتا تھا۔ ’نہیں نہیں! یہ کھڈیاں میری ایں۔ کس نے میرا نام مٹایا یہاں سے؟ تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسے مجھے دیکھ رہے ہو؟ تم لوگ خاموش کیوں ہو؟ آج جلسہ کیوں نہیں ہوا؟‘ وہ کھڈیوں کے ساتھ لپٹ کر چیخ رہا تھا۔

مالک یہ واویلا سن کر دفتر سے باہر نکلا اور چوکیدار کو گھور کر دیکھا۔ لحیم شحیم چوکیدار نے وہاں سے وقار کو کھنچا اور فیکٹری سے باہر نکال کر دروازہ بند کر دیا۔

وقار دروازہ پیٹ رہا تھا۔ ’مجھے اندر آنے دو، میں چپ چاپ کام کروں گا۔ مجھے اندر آنے دو۔‘
دروازہ کھلا تو وقار اندر آنے کے لئے آگے بڑھا۔ چوکیدار نے وقار کی چادر اس کے منہ پر ماری۔ ’اوئے، یہ لے تو اپنی کھڈیاں اور دفعہ ہو جا یہاں سے۔‘ اور اسے دھکیل کر دروازہ پھر بند کر دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply