کرونا وبا بھی، مارکیٹ بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کی جارحیت میں اب واضح طور پر شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ تحریر شائع ہونے تک ملکی اعداد و شمار کہیں سے کہیں پہنچ چکے ہوں گے۔ کورونا ہماری جان ہمیں مکمل طور پر تہ تیغ کرنے سے پہلے چھوڑنے پر تیار نہیں ہے اورہم بہادر بھی کورونا سے بچنے میں کسی طور سنجیدہ نظر نہیں آ رہے ہیں۔ کورونا کے مطالبات کہ ہجوم نہ بنائیں، فاصلہ اختیار کریں، ماسک پہنیں، ہاتھ دھوئیں، چہرے کو نہ چھوئیں وغیرہ ہم تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔

اب تک ہم اپنی سانس کے بدترین دشمن کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ کورونا ہم پر قابض ہو رہا ہے، ہمارے پیاروں کو ہم سے چھین رہا ہے، ہم پھر بھی سازشوں، ڈالروں اور چپ کے اردگرد گھوم رہے ہیں۔ اس اثناء میں روایتی کاروباری جن کے کاروبار آفاتی دور میں نفع دیتے ہیں بھی متحرک ہیں۔ اس سلسلے میں ناچیز کے ساتھ پیش آنے والا حقیقی واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔

بات ہے آٹھ اکتوبر 2005 ء کے ہولناک زلزلہ والے دن کی۔ صبح 8 : 52 منٹ پر زندگی اس قدر پررونق نہیں رہی تھی جتنی 8 : 50 منٹ پر تھی۔ موت، زخموں، آہوں، آنسوؤں اور درد کی سبھی کیفیتوں نے ایک ساعت میں 28 ہزار مربع میل پر قبضہ کر لیا تھا۔ دن میں تقریباً 1 : 30 منٹ کا دور ہوا ہو گا، ناچیز جو اس وقت انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا، بھوک سے نڈھال اور زخموں سے چور ایک بچے کے لئے ایک ٹوٹی ہوئی دکان پر بسکٹ خریدنے گیا تو دکان دار صاحب نے 20 روپے قیمت والا ڈبہ مبلغ 50 روپے میں فروخت کرنا چاہا، ناچیز کالج کا طالب علم تھا اس لیے لڑ پڑا، کافی جان گسل نرخی معرکہ کے بعد 25 روپے ادا کر کے بسکٹ خریدنے میں کامیاب ہوا اور پانی کے ساتھ اس زخمی بچے کو کھلائے۔

یہ دکاندار وطن عزیز کے مفاد پرست ٹولے کا نمائندہ کردار ہے۔ زلزلہ گزر گیا، لوگ شہید ہوئے، ان کی قبریں گردش دوراں سے متاثر ہو کر اب وہ نظارہ نہیں دیتیں جو 2006 میں دے رہی تھیں، زخمیوں کی زخم مندمل ہو گئے، معذور اپنی معذوری بھلا کر زندگی کے ہنگام میں مصروف عمل ہو گئے، بے گھروں نے نئے اور بہتر گھر کھڑے کر لیے۔ کئی وہ بچے جو یتیم اور بے آسرا ہو گئے تھے ان میں سے بڑی تعداد اب خود والدین کے مرتبے پر پہنچ کر اپنے بچوں کا سہارابنی ہوئی ہے، زندگی رواں دواں ہے مگر جو چیزیں اب بھی تازہ ہیں وہ ہیں یادیں، کہ کس نے اس آفت کے وقت کس کے ساتھ کیا سلوک کیا، کس طرح کا کاروبار کیا اور مال بنایا۔

اس قدرتی آفت کے وقت بہت سوں نے متاثرین کے لیے ریلیف سرگرمیوں میں جگاڑ لگا لیا، بہت سوں نے مصنوعی قلت اور خود ساختہ مہنگائی کے آزمودہ نسخے سے فائدہ اٹھایا، بہت سوں نے تعمیراتی منصوبہ بندیوں سے فائدہ حاصل کر لیا، بہت سوں نے بچے اور لڑکیاں اغواء کیں اور مال بنا لیا وغیرہ۔ (بچے بچیوں کی قابل ذکر تعداد ابھی بھی لاپتہ ہے )

کورونا کو بطور مارکیٹ قبول کر لیا گیا ہے۔ اور ابھی تک اس مارکیٹ میں مندی کا رجحان نہیں دیکھا گیا۔ ابھی تک حصص اوپر ہی اوپر جا رہے ہیں۔ کورونا مارکیٹ کی آج سوشل میڈیا پر ایک خبر نظروں سے گزری کہ خیبر پختونخوا میں پلازما ایک بیگ آٹھ سے دس لاکھ روپے مالیت میں فروخت کیا جا رہا ہے تو بے اختیار وہ بسکٹوں والا دکاندار اور باقی سبھی مفاد پرست یاد آ گئے۔ اس کاروبار کو باقاعدہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔

آج کے وبائی دور میں بھی ضمیر کے سوداگر اپنی تمام مہارتوں کے ساتھ برسرپیکار ہیں اور کوئی موقع ضائع نہیں کر رہے ہیں۔ اگر کسی نے سوشل میڈیا پر بے پر کی چھوڑ دی کہ سنا مکی کے قہوے سے کورونا کا علاج کریں تو سنا مکی کی قسمت جاگ اٹھی اور وہ 200 روپے فی کلو سے چھلانگ لگا کر 2400 روپے فی کلو پر پہلا پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔ زندگی بچانے والی ادویات و آلات، کھانے پینے کی اشیاء، ذرائع آمد و رفت الغرض ہر شے جس سے مالی فائدے کا حصول ممکن ہے کمائی کا ذریعہ بن رہا ہے، اور ان کی قیمتوں میں ہزاروں اور لاکھوں کا فوق پڑ چکا ہے۔

راہ چلتے سے لے کر حکومتی شخصیات تک مستفید ہو رہے ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کی بابت کہانیاں زبان زد عام ہیں کہ روپوں کی ادائیگی کے بعد کسی بھی ایس او پی شکن شہری کو وہ حقوق حاصل ہو جاتے ہیں جو عام طور پر حاصل نہیں ہیں۔ یہ خصوصی حقوق بھی کورونا وائرس کے بین الاضلاعی اور بین الصوبائی آزادانہ سفر کا باعث بنے۔ قبضہ مافیا کا سورج بھی اپنی آب و تاب سے چمک رہا ہے۔ حکومتی نا اہلی اور بدانتظامی سے فائدہ اٹھا کر گراں فروشوں کی بھی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے، کوئی وقت ہوتا ہے کہ وہ سر تا پا کڑاہی میں ہوتے ہیں۔

ان حالات میں جب حکومت اور عوام کورونا کی زد میں ہیں اس امکان سے انکار ممکن نہیں کہ انسانی اعضاء کے سمگلر بھی کورونا کے دور میں تصور جاناں کیے بیٹھے ہوئے فرصت کے دن گزار رہے ہوں گے۔ ابھی تک حکومت کی توجہ اس جانب نہیں گئی اور نہ ہی کورونا مریضوں کی حفاظت کا اور وہ لوگ جنہیں کورونا نہیں انہیں جعلی طور پر کورونا کا مریض بنا کر، جعلی ہسپتالوں میں لے جا کر ان کے قابل فروخت اعضاء کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جاتا ہو گا۔

انسانی اعضاء کی سمگلنگ ہمیشہ سے ہی پراسرار طور پر وقوع پذیر ہوتی رہی ہے۔ اس لیے اس موضوع پر یقینی طور پر نہ سہی مگر امکان کی حد تک ہی گفتگو کی جا سکتی ہے۔ اہم ضرورت ہے کہ عوام الناس کو اس متعلق بھی آگاہی ساتھ ساتھ دی جاتی رہے کہ کون کون لوگ کورونا کے ٹسٹ کرنے کے مجاز ہیں اور عوام الناس کو کورونا کی ٹیسٹنگ کے حوالے سے کن کن احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے۔ بہت اچھاہوا کہ گزشتہ دنوں پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن نے عوامی آگاہی کے لئے ایک اطلاعاتی خط کے ذریعے عوام کو خبردار کیا کہ ماسک لینے میں احتیاط سے کام لیں یہ نہ ہو کہ نامعلوم افراد کسی کو ماسک پہنا کر بے ہوش کر کے سب کچھ لے کر یہ جا وہ جا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو یہ عناصر کیوں سرگرم ہو جاتے ہیں، انہیں خدا کیوں یاد نہیں آتا۔ روایت ہے کہ فرعون نے بھی غرق ہوتے وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خدا پر ایمان لانے کا اعلان کیا تھا، تو اسلام کے نام پر قائم اس ملک میں فرعون جیسے بادشاہ جس کی بربریت ضرب المثل بن گئی سے بھی زیادہ ظالم اور ایمان سے خالی سپر فرعون ہیں کہ اتنی بڑی آفات میں بھی انہیں خدا یاد نہیں آ رہا؟

اب کیا چیز ہو گی جو ان کے ایمان کو جھنجھوڑنے میں کامیاب ہو گی؟ ہماری سازشی تھیوری کے مطابق کافر ہمارے خلاف کورونا کی سازش لے کر آئے تو ہم نے اسی کورونا سے ایسے مواقع تراش لیے جو شاید ان کافروں کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوئے ہوں گے۔ نیا کورونا وائرس دریافت کرنے والے چینی آنجہانی ڈاکٹر لی نے کبھی نہ سوچا تھا کہ اس کی دریافت کردہ موت بھی ایک جنس کاروبار بن کر ابھرے گی۔ اب تو کوئی ہاتھی بھی سوا لاکھ میں مرنے پر تیار نہیں ہو گا۔

کورونا وائرس ہمارے لیے کئی اور قسم کے مواقع لے کر آیا جن سے ہم فائدہ اٹھاتے نظر نہیں آتے، مثال کے طور پر ہم اس وقت اپنا سوشل مائنڈ سیٹ یا معاشرتی مافی الضمیر تبدیل کر سکتے ہیں۔

زیور کپڑے اور جہیز کو ہم اپنے سماجی مسائل کی پہلی صف میں کھڑا کرتے آئے ہیں، ہم اس وقت ان فضول رسوم و رواج کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہہ کر ایک نئی زندگی کا سنگ بنیاد رکھ سکتے ہیں، ہم اپنے ماحول اور تعلقات کو فضولیات سے پاک کرنے کی ابتداء کر سکتے ہیں۔ ہمیں موقع ملا ہے کہ ہم آفات سے نمٹنے کے لیے موثر آئین سازی کر لیں، ہمارے نظام صحت کا جو پول کھل گیا ہے اسے خاطر خواہ اقدامات سے بند کریں۔ ہم اپنے ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کو بھی تھوڑی بہت مراعات دیں، ہم سیکھیں کہ وباؤں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی مدد سے بنائیں نہ کہ کاروباری حضرات اور سیاستدان یہ حکمت عملیاں بزور پیسہ اور طاقت کے ڈنڈے سے بنائیں۔

ہمیں نظام صحت کی بہتری کے لیے ترقی یافتہ ممالک سے تعاون حاصل کرنا چاہیے۔ ہم سائنس کو سائنس سمجھیں نہ کی مذہب کے خلاف جنگ عظیم، ہم سمجھیں کہ سائنس ایک طریقہ کار کو اختیار کرنے کا نام ہے، اس کا تعلق مشاہدات کی بنیاد پر آگے بڑھنے سے ہے۔ ہم معاشرتی طور پر گراں فروشوں کے خلاف اتحاد قائم کرنے کے لیے کوششیں کریں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنے خدا سے کیے گئے عہدکی تجدید کر سکتے ہیں، ہم پورے ملک میں آزاد سروے کروا کر زائد اور کم آمدن افراد کی فہرستیں مرتب کر سکتے ہیں، کیا ہم یہ سب نہیں کر سکتے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *