بکھرتا سماج اور مذہبی انتشار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کالم کا عنوان معروف دانشور فرخ سہیل گوئیندی سے مستعار لیا ہے۔ سماج کی ابتری پر ان کے کالموں کے مجموعے کا عنوان ”بکھرتا سماج“ ہے۔ سماجی زوال کے پیش آنے والے چند تجربات میں اس تحریرکے ذریعے آپ کو شریک کرنا چاہوں گا۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں کتابوں کی ایک بہت بڑی دکان ہے۔ چند ماہ قبل میں دکان سے نکلا تو پارکنگ میں ایک صاحب ہاتھوں میں دو تھیلے لیے کھڑے تھے اور لگ رہا تھا کہ وزن زیادہ ہے اور ان کے لیے اٹھانا مشکل ہورہا ہے اور وہ کسی سواری کا انتظار کر رہے ہیں۔ میں جیسے ہی اپنی گاڑی کے پاس پہنچا وہ صاحب میرے پاس آگئے اورکہنے لگے کہ یہ قرآن کریم کے نسخے ہیں اور میں یہ ثواب کی خاطر مفت تقسیم کر رہا ہوں اور بس یہ دو نسخے رہ گئے ہیں۔

میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے معذرت کرلی اور ان سے درخواست کی کہ یہ آپ کسی اور کو دے دیں میرے گھر کے کتب خانے میں قرآن حکیم کے بے شمار نسخے اور تفاسیر موجود ہیں۔ لیکن ان صاحب کا اصرار ضد کی حدوں کو چھونے لگا تو مجبوراً وہ دو نسخے ان سے لے لیے۔ نسخے دینے کے بعد مجھ سے گویا ہوئے کہ میں پرائیویٹ ٹیکسی چلاتا تھا لیکن کریم اور ابر کے بعد میرا کام ٹھپ ہو گیا ہے اور بہت پریشان ہوں۔ میں نے حسب توفیق کچھ رقم ان کی خدمت میں پیش کردی تو رقم وصول کرنے میں پھر فرمانے لگے کہ ان نسخوں کی قیمت اتنی تو نہیں جو آپ نے دی ہے یہ اس سے زیادہ کے ہیں۔ میں نے دونوں نسخے ان کے انھی ہاتھوں میں تھمائے جن میں پیسے تھے اور اپنی راہ لی۔

تقریباً بیس سال قبل لاہور میں ایک صاحب سے ملنے گیا جو ایلوپیتھی کی دواؤں کا کاروبارکرتے تھے اور کچھ عرصہ پہلے تک ایک مذہبی پروگرام کی میزبانی بھی کرتے تھے۔ ان سے ملاقات کے وقت میرے ہاتھوں میں ڈاکٹر الطاف جاوید مرحوم کی کتاب ”سوویت یونین کا زوال اور اسلام“ ، شیر جنگ صاحب کی ”کارل مارکس اور اس کی تعلیمات“ اور علی عباس جلالپوری کی ”فکری مغالطے۔“ تھی۔ کچھ باتیں کرنے کے بعد کتابیں دیکھتے ہوئے بولے کہ آپ مارکس کے بارے میں پڑھتے ہیں اور کس نے یہ کتابیں تجویز کی ہیں؟

اور ساتھ ہی مارکس کی فکر پر تنقید شروع کردی جس میں علمی دلائل کم اور سرمایہ دارانہ تعصب زیادہ تھا۔ میں نے بتایا کہ ڈاکٹر الطاف جاوید صاحب نے۔ اوہو! ، آپ ان سے ملتے ہیں؟ میں نے کہا کہ جی ہاں ان کی جوتیاں سیدھی کرنے کا شرف حاصل ہے اور بہت سچے نیک اور اپنے نظریات سے مخلص شخصیت ہیں۔ تو فرمانے لگے ہاں ہیں تو نیک لیکن کیمونسٹ ہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ کارل مارکس کی فکر کے اس حصے جو سرمایہ داری نظام کے استحصال سے متعلق ہے سے تو وہ متفق ہیں لیکن مارکس کے مذہبی نظریات سے وہ اتفاق نہیں کرتے اور ان کی کتاب “سوویت یونین کا زوال اور اسلام” آپ کی غلط فہمی دور کردے گی۔ اسی دوران ان کے دفتر ایک فرد دواؤں کی فروخت کا بل لے کر آیا جس پر ان کے دست خط درکار تھے۔ پہلے انہوں نے اپنے ملازم کو کہا کہ انوائس دینے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن جب انھیں میری موجودگی کا احساس ہوا تو کہا کہ ”اگر وہ انوائس مانگیں تو پھر دے دینا“ ۔

اسی طرح اسلام آباد میں ایک صاحب سے ملنے گیا وہ کاروباری لحاظ سے تعمیراتی صنعت سے منسلک تھے۔ ملاقات کے ابتدائی نصف گھنٹے تو موصوف زرداری، نواز شریف اور مذہبی جماعتوں کے خلاف بولتے رہے اور ان کے ”مکر و فریب“ کی داستانیں سناتے رہے۔ لیکن جب ان سے کاروباری معاملات طے پا گئے تو فرمانے لگے کہ مجھے بغیر انوائس کے سیمنٹ چاہیے۔

یہ وہ چند مثالیں ہیں جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتی ہیں۔ مذہب کے نام پر قائم ہونے والی ریاست میں سماجی کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری اہل مذہب کی ہے۔ مذہب جو کہ ایک سنجیدہ ترین موضوع ہے، دلیل اور تزکیہ نفس جو اس کے بنیادی جواہر ہیں، آج وہ ہدایت کی بجائے عصبیت کا رخ اختیار کرتا جا رہا ہے، اور اسی تناسب سے سماج کی پراگندگی بھی بڑھتی جارہی ہے۔ فرقہ وارانہ عصبیت کے پھیلاؤ نے مذہب کی آفاقیت اور عالمگیریت کو حد درجہ نقصان پہنچایا ہے۔

حال یہ ہوتا جا رہا ہے کہ کم علم متکلمین نے مذہب کو بھی ٹھٹھا مذاق بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے بے شمار کلپ ہیں جن میں ”یہ تو ہو گا“ اور ”میں تو نہیں بتاؤں گا“ کے جملوں سے نہ جانے کون کون سی کہانیاں مذہب کے نام پر سنائی جا رہی ہیں۔ میڈیا جسے دعویٰ ذمہ داری کا ہے لیکن ریٹنگ کے بخار میں اس قدر مبتلا ہے کہ اپنے مذہبی پروگراموں میں بھی سنجیدہ علماء کی بجائے شو بز کی شخصیات کو ترجیح دیتا ہے۔ ہمارے سامنے ایسی بے شمار مثالیں ہیں کہ شوبز سے مستقل یا وقتی طور پر کنارہ کشی اختیارکرنے والوں نے بھی مذہب ہی کو تختہ مشق بنایا ہے اور میڈیا میں ان علماء پر ترجیح پائی ہے جن کی عمر ہی اس دشت کی سیاحی میں گزری ہے۔

سماج کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ سنجیدہ علماء اور سماجی سائنسدان اپنا کردار ادا کریں اور دنیاوی معاملات میں مذہبی تعلیمات کے اطلاق کا درس دیں۔ ورنہ اخلاقی طور پر بگڑا سماج فکری طور پر بھی مزید بگڑا تو پھر ذمہ دار کون ہوگا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply