طارق عزیز، ایک ہمہ جہت شخصیت


انور شعور صاحب کا ایک بہت خوبصورت مصرعہ ہے، ”خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ“ طارق عزیز اس مصرعے کا مکمل عکس تھے۔ ان کا ٹی وی میزبان ہونا، سیاست میں آنا، براڈکاسٹر بننا، فلموں میں اداکاری اور فلم سازی کے کام میں حصہ لینا، یہ ان کا وہ ظاہر ہے جو کوئی بھی آسانی سے دیکھ سکتا ہے اور اس کے بارے میں جان سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ سارا ظاہر، پس منظر میں ہونے والی اس انتھک محنت اور شبانہ روز جدوجہد کا نتیجہ ہے، جس کے لئے، طارق عزیز صاحب، ماضی میں مسلسل سرگرم عمل رہے، تاکہ اپنے اس مستقبل کی تعمیر کر سکیں، جو ان کے دل میں، حقیقت کا روپ دھارنے کو مضطرب ہو گا۔

اب یہ بات اس قدر زبان زد عام ہو چکی ہے کہ ٹیلی وژن سے عام دلچسپی رکھنے والے کو بھی یہ معلوم ہے کہ طارق عزیز صاحب کو پاکستان ٹیلیویژن کے پہلے ( مرد ) اناؤنسر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، مگر وہ اس بات کا شاید احساس نہ رکھتا ہو کہ یہ اعزاز انھیں محض اس لئے نہیں ملا کہ وہ ایک بنے بنائے اچھے براڈکاسٹر تھے، بلکہ اس کے پیچھے ان کی، ریڈیو پاکستان میں جان توڑ محنت اور اس راستے میں آنے والی صعوبتوں کو جھیلنا تھا۔

اس موقع پر مجھے طارق عزیز صاحب کے ساتھ، پاکستان ٹیلی وژن کی ایک ریکارڈنگ کے سلسلے میں ایک ملاقات یاد آ رہی ہے جو گو کہ مختصر مگر گفتگو کے حوالے سے سیر حاصل تھی۔

میں نے ٹیلی فون پر ان سے رابطہ کیا اور اس شیڈولڈ ریکارڈنگ کے لئے ان سے بات کی جو اس وقت ادارے کی طرف سے طے کی گئی تھی۔ انہوں نے اپنے مخصوص لہجے میں جواب دیا کہ ”میں ہوں تو اسلام آباد میں، مگر ریکارڈنگ کے لئے آ نہیں سکتا۔“ ٹیلی وژن کے ایک پروڈیوسر کی طرح جو، بس اپنے کام کو کسی نہ کسی طور، مکمل ہوتا دیکھنا چاہتا ہے، میں نے، ان سے اپنی رائے بدلنے پر اصرار کیا تو انھوں نے وضاحت کی ”میں اس وقت ویسٹ کوٹ کے بغیر ہوں اور میں ٹی وی وارڈ روب کے ویسٹ کوٹ نہیں پہنتا“

اب بحث کی گنجائش نہ تھی، ہاں دل میں یہ خیال ضرور تھا کہ کہیں یہ مصروف آرٹسٹ کا بہانہ ہی نہ ہو۔ مگر دو یا تین دن بعد اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب خود ان کا فون آیا ”میں پشاور سے روانہ ہو رہا ہوں اور سیدھا آپ کے پاس آؤں گا۔ فون اس لئے کر رہا ہوں تاکہ آپ ریکارڈنگ کا شیڈول لے لیں“ ۔

اور پھر وہ اسی وعدے کے مطابق، بروقت میرے پاس پہنچے۔ مطلوبہ ریکارڈنگ کے بعد ادھر ادھر کی گپ شپ میں انھیں راولپنڈی میں گزارے پرانے دن یاد آنے لگے۔ اس ساری گفتگو میں سب سے اہم بات جو انھوں نے کی، اس کا اشارہ، اس مضمون کے ابتدائیے میں کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کی ابتدائی مصروفیت کے زمانے میں وہ کمیٹی چوک پر رہا کرتے تھے اور ریڈیو پاکستان کی عمارت ویسٹرج میں تھی۔ (ان دو مقامات کے درمیان کم و بیش نو دس کلو میٹر کا فاصلہ ہے ) مالی تنگی کی وجہ سے میں اکثر پیدل ریڈیو جایا کرتا تھا اور دل کی تسلی کے لئے اس طویل مسافت کو واک کا نام دے لیتا تھا۔

ریڈیو سے باخبر افراد، اس بات کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہاں وقت پر پہنچنا کیا معنی رکھتا ہے۔ اپنے کوئز پروگرام یعنی سابقہ ”نیلام گھر“ اور بعد کے ”بزم طارق عزیز“ میں ان کا یہ جملہ ”دا غلطی گنجائش نشتہ“ شاید اسی دور کی نشانی دکھائی دیتا ہے۔

یہ ان کی چہل قدمی کا محض ایک رخ ہے، دوسرا رخ اس بھی زیادہ آزمائشی تھا۔ طارق عزیز صاحب نے بتایا کہ ”ریڈیو پاکستان میں ایک افسر ان پر بہت ’مہربان‘ تھے اور وہ روز اس تاک میں ہوتے تھے کہ میں کسی دن تاخیر سے پہنچوں اور وہ میرا پتہ گول کر دیں، مگر میری سبک رفتاری کی وجہ سے، ان کی یہ حسرت، ان کے دل میں ہی دم توڑ گئی۔“

ٹیلی وژن پر ایک میزبان کے حیثیت سے، اپنا تشخص بنانے میں بھی، طارق عزیز صاحب کی محنت، کام سے لگاؤ اور یکسوئی کے بارے دو رائے نہیں ہو سکتی۔ اپنی میزبانی میں ادبی رنگ کا تڑکا لگا کر وہ منفرد بھی ہوئے اور نئے آنے والوں کے لئے قابل تقلید بھی۔ ان سے جب ان کے اس طویل ترین میراتھن کوئز سیریز سے، کسی نئے میزبان کے سامنے نہ آنے کا سبب پوچھا، تو انھوں نے بالواسطہ طور پر وہ ہی وجہ بتائی، جو ان کی کامیابی اور شہرت کی بنیاد بنی تھی۔

Facebook Comments HS

One thought on “طارق عزیز، ایک ہمہ جہت شخصیت

  • 19/06/2020 at 11:34 شام
    Permalink

    آپ کی تحریر طارق عزیز صاحب کے بارے میں بہت عمدہ ہے لیکن نجانے کیوں تشنگی محسوس ہوتی ہے شاید اس لئے کہ اتنی قد آور شخصیت کے متعلق جتنا بھی لکھا جائے گا وہ کم ہوگا

Comments are closed.