سابق صدر مملکت ممنون حسین نے بھی الوداعی سیٹی بجا دی۔ یہ 2003 کا ذکر ہے میں ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کی غرض سے موجود تھا منون حسین اور پروفیسر غفور احمد مرحوم سے سے ٹی وی پروگرام کے دوران تعارف ہوا جو پھر ان دونوں بزرگوں سے ان کے آخری وقت تک محبت و شفقت کی صورت میں برقرار رہا۔ یہ مشرف کی آمریت کے جوان دن تھے اور کراچی میں ممنون حسین جمہوری جدوجہد کی ایک آواز کے طور پر متحرک تھے۔ ان کے ساتھ اس جدوجہد میں ہمہ وقت خواجہ طارق لیاقت آرائیں منور رضا اور ناصر الدین محمود شانہ بشانہ رہتے۔
جب بھی سفارت کار کراچی میں کسی سے ملاقات کئی مجھ سے خواہش کا اظہار کرتے جو معاملہ فہم بھی ہو تو سب سے پہلے جس کا نام منہ سے نکلتا وہ ممنون حسین ہی ہوتے۔ گورنر کے عہدے تک پہنچنے والے شخص پر اس کی مخالف ترین حکومت ایک ڈھیلی بدعنوانی تو دور کی بات کسی شناسا کے لیے کوئی میرٹ سے ہٹ کر سفارش تک کا الزام عائد نہیں کر سکی تھی اور بات بھی بہت کمال دلیل سے کرتے۔ یہ دونوں وصف سفارت کاروں کے لیے بہت اثر انگیز ثابت ہوتے۔
Read more