جارج فلائیڈ اور صلاح الدین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی ریاست مینی سوٹا کے شہر منیاپولس میں 25 مئی کو پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی موت ہو گئی، 46 سالہ جارج فلائیڈ پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے جعلی ڈالر دے کر سگریٹ خریدے تھے، دکاندار نے پولیس کو اطلاع کی جس پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی، پولیس نے جارج فلائیڈ پر کوئی تشدد کیا نہ گتھم گتھا ہوئی، جارج نے بھی فوری طور پر خود کو قانون کے حوالے کر دیا، پولیس نے اسے سڑک پر الٹا لٹا دیا، ان میں ایک پولیس اہلکار نے جارج کی گردن کی پشت پر اپنا گھٹنا رکھ دیا اور گردن پر دباؤ ڈال دیا جس سے ہل بھی نہیں سکتا تھا، اس دوران جارج منتیں کرتا رہا کہ مجھے سانس نہیں آ رہا مگر پولیس والا وردی کے زعم میں فرعون بن چکا تھا اور پھر جارج فلائیڈ کی موت کی آغوش میں ہمیشہ کے لئے سو گیا۔

نیویارک ٹائمز نے 8 منٹ 46 سیکنڈ کی ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں تمام واقعات کو سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے تفصیل دکھایا اور بیان کیا گیا کہ کب کیا ہوا، 8 منٹ 46 سیکنڈ کے ایک واقعہ نے امریکہ میں آگ لگا دی جو اب پھیل کر یورپی ممالک تک پہنچ چکی ہے۔ جارج کا جرم صرف یہ تھا کہ اس پر شبہ کیا گیا تھا کہ اس نے جعلی ڈالر دے کر سگریٹ خریدے تھے، جارج نے کسی کو قتل نہیں کیا تھا، کوئی دہشتگردی نہیں کی تھی، کوئی لوٹ مار نہیں کیتھی، کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچایا تھا بس ایک اخلاقی اور قانونی خطا کر بیٹھا تھا۔

جارج کی گردن کی پشت پر جب پولیس اہلکار گھٹنا دبائے بیٹھا تھا تو کچھ خواتین نے ویڈیوز بنائیں اور پولیس سے احتجاج بھی کیا کہ غیر انسانی رویہ نہ اپناؤ، خواتین پولیس اہلکار پر چلاتی رہیں، ایک پولیس اہلکار ان کو روکے ہوا تھا، اس دوران کسی پولیس اہلکار نے ان خواتین پر لاٹھیاں نہیں برسائیں، دھکے نہیں دیے، جب احتجاج بڑھنے لگا تو پولیس نے ایمبولینس بلوائی، ایمبولینس آنے پر جب جارج کو سیدھا کیا گیا تو وہ دم توڑ چکا تھا۔

جارج کی موت کے بعد امریکہ اب تک آگ میں جل رہا ہے، لوگ مشتعل ہیں کہ ایک پولیس اہلکار جس کا کام عوام کی حفاظت کرنا ہوتا ہے وہ ایک انسان کو کیسے مار سکتا ہے، لوگوں نے عمارتیں، گاڑیاں اور دیگر املاک کو آگ لگادی، لوٹ مار کی، توڑ پھوڑ بھی کی، حد تو یہ ہے کہ ایک امریکی فوجی ٹینک لے کر سڑکوں پر گھومتا رہا، ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں نے وائٹ ہاؤس کی طرف مارچ کیا، احتجاج اب بھی جاری ہے۔

یک سیاہ فام پولیس کے ہاتھوں مارا گیا ہے تو کیا ہوا، جارج کے مرنے سے کون سا امریکہ کی ترقی رک جائے گی، اگر جعل ساز بھی تھا، فراڈیا بھِی تھا، ہمارے ہاں تو ایسے لوگ عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے باوجود لندن علاج کرانے چلے جاتے ہیں لیکن امریکی قوم کو یہ برداشت نہیں کہ ایک پولیس والا جو ہمارے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتا ہے وہ ایک شہری کو مار ڈالے، ایک خاتون کی ویڈیو دیکھی کہ پولیس اہلکار کون ہوتا ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لیتا اور اسے مار ڈالتا، جارج نے اگر کوئی غلط کام کیا تھا تو عدالت سزا دیتی۔ حالات اتنے بے قابو ہو گئے کہ پولیس معافیاں مانگ رہی ہے مجبوراً صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پولیس ریفارمز کے احکامات دینا پڑے۔

جس طرح امریکی جارج کی موت پر باہر نکلے ہیں اس پر امریکی قوم کو سلام پیش کرتا ہوں، یہ ہے زندہ اور مہذب معاشرہ، جہاں انسان کی قدر کی جاتی ہے مجھے ان تمام واقعات میں جس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ پولیس کے ہاتھوں ایک امریکی سیاہ فام مر گیا مگر سلام ہے امریکی پولیس کو اس نے جارج فلائیڈ کی جرائم کی کتاب نہیں شائع کی جو ہمارے ہاں اکثر ہوتا ہے۔ پولیس ہنگامے تاحال روکنے میں ناکام ہے، یہ احتجاج کم از کم امریکی پولیس کو ایک سبق ضرور سکھا جائے گا کہ وردی شہریوں کی حفاظت کے لئے پہنائی جاتی ہے نہ کہ ان کو قتل کرنے یا انسانی حقوق سلب کرنے کے لئے۔

اب پاکستان کی بات ہو جائے، ستمبر 2019 میں رحیم یار خان پولیس کے ہاتھوں گوجرانوالہ کا ایک شہری صلاح الدین مارا گیا، ایک ویڈیو ایسی تھی جو کہ پنجاب پولیس کے منہ پر ایک طمانچے سے کم نہیں تھا مگر یہ فقرہ ان لوگوں کے لئے تھا جن میں کچھ انسانیت باقی ہو، وہ فقرہ تھا ”اک گل پچھا مارو گے تے نئی، اے تساں مارنا کیتوں سکھیا سی“ (ایک بات پوچھوں، ماریں گے تو نہیں، آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا)

ہماری پولیس جو کام کر سکتی ہے وہ امریکی پولیس نہیں کر سکی، صلاح الدین کی موت جیسے ہی ہوئی اور میڈیا پر خبر چلی تو پنجاب پولیس نے صلاح الدین کے کھاتے کھول دیے، دہشت گرد نیٹ کا حصہ، اے ٹی ایم سے پیسوں کی چوری، فراڈ اور نجانے کیا کیا مرنے والے پر ڈال دیا کہ لوگ ٹھنڈے پڑ جائیں کہ چھڈو جی وہ تو تھا ہی چور، دہشت گرد، ممکن ہے صلاح الدین دہشت گرد نیٹ کا حصہ ہو، چور، فراڈیا ہو، اس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، پولیس کو کس نے اختیار دیا کہ وہ ایک انسان کو خود ہی مار ڈالے، اگر پولیس تفتیش کرتی ہے اور اسے ثبوت ملتے ہیں تو اسے عدالت میں پیش کر کے ملزم کو سخت سے سخت سزا دلائے، پولیس خود ہی عدالت کیوں لگاتی ہے۔

صلاح الدین پر جس طرح تشدد کی ویڈیوز سامنے آئیں کوئی بتا سکتا ہے کہ پنجاب سمیت پاکستان بھر سے ایک شخص بھی اس وحشیانہ تشدد اور صلاح الدین کی موت پر باہر نکلا ہو، ذرا ذرا سی بات پر سڑکیں اور دھرنے دینے والی مذہبی جماعتوں نے بھی خاموشی سادھ لی، صلاح الدین کی موت پر حکومتی، سیاسی اور سماجی سطح پر بیان بازی ہوتی رہی اور پولیس کی مذمت کے سوا کچھ نہیں، پولیس کا مذمت سے کیا واسطہ، جس پولیس میں ہر کام پیسہ ہوتا ہو اس میں کوئی انسانی ہمدردی رکھنے والا کوئی ملازم ہو سکتا ہے، خیر پولیس کا کیا رونا، اس کے خمیر میں ہی شاید حرام شامل ککر دیا گیا ہے۔

امریکہ کے صدر نے عوام کے تیور دیکھ کر پولیس ریفارمز کے احکامات دے دیے، ہماری تبدیلی سرکار نے بھی حکومت سنبھالتے ہی پولیس ریفارمز کا نعرہ لگایا تھا اور پنجاب میں اس کام کے لئے سابق آئی جی ناصر درانی کو تعینات کیا، پھر نجانے کیا ہوا، ناصر درانی مستعفی ہو گئے اور ریفارمز کا اب تبدیلی سرکار نام بھی نہیں لیتی، شاید وہ جان چکے ہیں کہ ہم نے حکومت کرنا ہے تو ایسی ہی پولیس چاہیے۔

افسوس تو یہ ہے کہ میرا جسم میری مرضی کے نعروں میں صرف جسم کی نمائش کرنے والیوں نے بھی صلاح الدین کے قتل کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی، جس طرح امریکہ میں ایک شخص کی موت پر شہریوں نے امریکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، ایسی انسانیت ہم میں کیوں نہیں، ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ کسی کو قتل کیا جا رہا ہو اور دیکھتے ہوئے بھی خاموشی سے گزر جاتے ہیں کہ میں تو محفوظ ہوں، ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں جس کی تعلیمات ہیں کہ ظلم دیکھ کر خاموش رہنا، ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے، افسوس ہم یہ بات نہ سمجھ سکے اور امریکہ کے غیر مسلم شہری یہ بات سمجھ گئے اور جارج فلائیڈ کی موت پر بھرپور احتجاج کر کے امریکہ کی نئی تاریخ رقم کردی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply