کچھ طارق عزیز کی سیاست کے بارے میں
ھم وہ سیاہ نصیب ہیں طارق کہ شہر میں
کھولیں دکان کفن تو سب مرنا چھوڑ دیں
پہلا منظر : 28 مئی 1998 میں سوا تین بجے سہ پہر لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کے کورٹ روم میں معمول کے مطابق داخل ہوا ہی تھا کہ پیچھے سے صحافی چوہدری غلام حسین تیزی سے داخل ہوئے، ریڈر مولوی ایوب سے اشارے سے پوچھا کہ جج صاحب چیمبر ہی میں موجود ہیں اور اثبات میں جواب پا کر ان کے چیمبر کی طرف بڑھنے ہی لگے تھے کہ روسٹرم کے آگے سے گزرتے وقت ان کے موبائل پر آجانے والی ایک فون کال نے ان کے قدم چند لمحوں کے لئے روک لیے۔ یہ کسی خاتون ( ’اہلکار‘ ) کی کال تھی جو بلا تاخیر چوہدری صاحب کو آگاہ کر رہی تھی کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا ہے۔ روٹین میں بلند آواز میں بولنے والے چوہدری غلام حسین قدرے پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ ۔
دوسرا منظر : غالباً اسی روز شام ڈھلے میں لاہور کی مال روڈ پر پینوراما سنٹر کے سامنے کھڑا وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی زیر قیادت گاڑیوں کی طویل قطار کی صورت گزرتے اس کارواں کو دیکھ رہا تھا جو اسلام آباد سے بائی روڈ طویل سفر کر کے لاہور میں بالآخر داخل ہوچکا تھا، تیسری دنیا کے ایک غریب ملک کا چیف ایگزیکٹو انسانوں کی تباہی اور عبرت ناک ہلاکت کا سامان بنا لینے کا جشن مناتے ہوئے فاتحانہ انداز میں اپنے آبائی شہر کی مرکزی شاہراہ سے گزر رہا تھا۔ اس کارواں میں شامل گاڑیوں میں سے سب سے زیادہ چیخ و پکار ایک ٹرک پر لگے بھونپو ( لاؤڈ سپیکر ) سے سنائی دے رہی تھی جس پر کھڑا وہ براڈ کاسٹر نہایت جذباتی انداز میں نان سٹاپ وزیراعظم نواز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ ( نون ) کے گن گا رہا تھا جو کبھی گورنمنٹ کالج ساہیوال میں لیفٹ کے ایک ہونہار جوشیلے کامریڈ کے طور پر ابھرا تھا۔ یہ طارق عزیز تھا، پاکستان ٹیلی ویژن کا پہلا نیوز کاسٹر، اداکار، کامپیئر اور شاعر طارق عزیز۔
مجھے اس کا گلا پھاڑ پھاڑ کے پاکستانی ’بی جے پی‘ یعنی دائیں بازو کی روایتی پرو اسٹیبلشمنٹ جماعت ”نون لیگ“ اور اس کے قائد کے قصیدے پڑھنے کے ’والہانہ‘ انداز سے پی ٹی وی ہی کے ایک دوسرے نیوز کاسٹر اظہر لودھی یاد آگئے جو اس ملک کے بدترین فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کی طیارے کے حادثے میں ہلاکت کی خبر پڑھتے ہوئے خود کو سنبھال نہیں پا رہے تھے اور جنہوں نے بطور براڈکاسٹر اپنی منفرد آواز کا دبدبہ، بارعب چہرے کا وقار اور سوبر شخصیت کا بھرم، سب چند منٹوں میں ”امیر المومنین“ کے لئے ’لائیو‘ شردھانجلی پر قربان کر دیا تھا۔
لیکن۔۔۔ طارق عزیز تو اس سے بھی کہیں بڑے ”لیگی جیالے“ ثابت ہوئے تھے جنہیں ایک وڈیو میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس سجاد علی شاہ اور ان کے ساتھی ججوں کے کورٹ رومز کے باہر لگی تختیوں ( name plates ) کو اس وقت حقارت سے اپنے پاؤں تلے روندتے دیکھا گیا تھا جب قائد کے حکم پر حکمران ”نون“ لیگ نے سپریم کورٹ پر ہلہ بول دیا تھا، اور پھر اپنے قائد کی خاطر وہ عوامی عہدے یا دوسرے لفظوں میں الیکشن لڑنے کے نااہل بھی ہوئے اور پی ٹی وی پر ban بھی۔
سینئر صحافی عارف نظامی بتا رہے تھے کہ طارق عزیز کو جو کبھی بھٹو کا سپاہی اور پیپلز پارٹی کا نہایت سرگرم کارکن رہا تھا، دوبارہ سیاست کا شوق چڑھنے پر جب بے نظیر بھٹو نے ”گھاس نہیں ڈالی“ تو وہ نواز شریف کی مسلم لیگ میں چلے گئے، یہ اتفاق سے ایک ایسی ہی صورتحال تھی جس سے گزرنے والے ’پنڈی بوائے‘ شیخ رشید آج تک سٹپٹا رہے ہیں۔ سیلیبرٹی شمار ہونے والی شخصیات، خاص کر شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات کم و بیش کسی عوامی لیڈر جتنی ہی مقبول ہوتی ہیں انہیں سوائے نظریاتی حوالے سے کسی بھی طرح خود کو متنازع یا مضحکہ خیز نہیں بنانا چاہیے اور ہر سیاسی ذہن کے ہم وطنوں اور پرستاروں میں اپنی یکساں مقبولیت کو برقرار رکھنا چاہیے۔
طارق عزیز تو اپنی متعدد شخصی خامیوں کے باوجود ملک کے کامیاب ترین ’شو مین‘ ہونے کا اعزاز اور شناخت رکھتے تھے۔
غالباً 1989 میں ایک بار میں پی ٹی وی لاہور سنٹر کے ”نیلام گھر“ کی ریکارڈنگ میں موجود تھا، خصوصی مہمان احمد ندیم قاسمی کو جب سٹیج پر بلا کر شو کے میزبان طارق عزیز نے کچھ کہنے کی درخواست کی تو انہوں نے کہا ”میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے شو کے حاضرین سے کوئی سوال پوچھ کر جواب دینے کے خواہشمند افراد سے جو ہاتھ اٹھواتے ہیں، یہ نہ کیا کیجئے کہ یہ انسانی توقیر اور شرکاء کی عزت نفس کے منافی عمل ہے“ 84 / 1983 کی بات ہے ”آ گیا اور چھا گیا“ کے مصداق مہتاب چنہ کی صورت میں پاکستان ٹیلی ویژن کو ایک نئی پڑھی لکھی میزبان / کامپیئر نصیب ہوچکی تھیں، وہ جب پہلی بار لاہور آئیں تو چیئرنگ کراس پر ’الفلاح‘ بلڈنگ کی ایک بالائی منزل پر واقع نیشنل سنٹر میں ان کے لئے تقریب پذیرائی برپا ہوئی تھی جس میں انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کرنے والے لگ بھگ سبھی مقررین نے موازنہ کرتے ہوئے طارق عزیز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
طارق عزیز ایک بے حد پاپولر اور باصلاحیت فن کار تھے، کاش وہ پی ٹی وی پر توہین عدالت کا مجرم ہونے کی بنا پر ban نہ کیے جاتے بلکہ شجاعت ہاشمی کی طرح ایک نو دولتیے سیاست کار وزیراعظم کے ”ابا جی“ کی ناراضگی کے سزاوار قرار پا کر سرکاری ٹیلی ویژن پر نمودار ہونے سے روکے جاتے کہ۔ ۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے


