پی آئی اے کی المناک داستان


پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز (Pakistan International Airlines) پی آئی اے، پاکستان کی سب سے بڑی اور قومی ائر لائن ہے جو تقریباً 23 اندرون ملک اور 30 سے زائد بیرون ممالک پروازیں چلاتی ہے۔ یہ پروازیں ایشیا، یورپ اورجنوبی امریکا تک جاتی ہیں۔ پی آئی اے تیس ( 30 ) سے زائد جہازوں کے ساتھ پاکستان کی سب سے بڑی اور قومی ائر لائن ہے جس کے عروج و زوال کی ایک دلچسپ لیکن عبرت سے بھرپور تاریخ ہے۔ پی آئی اے ایشیاء کی پہلی ائر لائن ہے جس نے جیٹ انجن والے بوئنگ 737 جہاز چلائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دنیا کی پہلی ائر لائن ہے جس نے بوئنگ 777۔ 200 ایل آر جہاز حاصل کیے اور چلائے۔

پی آئی اے کی بنیاد 29 اکتوبر 1946 کو (Orient Airways) اورینٹ ائرویز کے طور پر رکھی گئی تھی۔ اس کی بنیاد کلکتہ (برٹش انڈیا) میں پڑی۔ اورینٹ ایئرویز نے 1947 میں اپنی ائر لائن کو نئی خودمختار ریاست پاکستان میں منتقل کر دیا۔ 11 مارچ 1955 ءکو حکومت پاکستان کی جانب سے اورینٹ ائرویز کوپاکستان انٹرنیشنل ائرلائن (PIA) کی حیثیت سے از سر نو تشکیل دیا گیا۔

اکیسویں صدیں کے ان بیس برسوں میں پاکستان میں کل 8 فضائی حادثات ہوچکے ہیں جن میں سے تین طیارے پی آئی اے کے تھے۔ پی آئی اے کے طیارے کو تازہ ترین حادثہ 22 مئی 2020 ء کو پیش آیا جب پی آئی اے کا طیارہ (PK 8303 ) جو لاہور سے کراچی آ رہا تھا کراچی میں ائرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے میں گر کے تباہ ہوا جس میں سے مسافر و عملہ سمیت 99 افراد سوار تھے جن میں سے 97 لقہ اجمل بن گئے اور 2 خوش قسمت زندہ بچ گئے

اسی طرح 7 دسمبر 2016 کو پی آئی اے کے حکام کے مطابق پی آئی اے کا طیارہ (PK 661 ) صوبہ چترال سے اسلام آباد آنے والا مسافر طیارہ حویلیاں کے قریب پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا اور اس فلائٹ میں سوار تمام 48 مسافر ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں معروف شیخصت جنید جمشید اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں

اگر آپ پی آئی اے کے سال 2016 ء والے طیارے حادثے اور مئی 2020 ء والے طیارے حادثے کا موازنہ کریں تو آ پ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ یہ بالکل ویسا ہی رویہ ہے جیسا کہ پی آئی اے کے 2016 ء والے حادثے کے بعد تھا۔ لاہور سے کراچی آنے والی پرواز کے حادثہ کی تہہ میں بھی بالکل ویسی ہی نا اہلی اور کوتاہیاں برتی گئیں تھی *جیسا کہ چترال سے اسلام آباد آنے والی 2016 ء کی پرواز میں نیز انجینئرنگ سٹاف پر بھروسا کرنے کی بجائے رن وے پر کالے بکرے ذبح کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ بکرا ہماری جانیں بچا لے گا، اور اس بڑی بے ہسی کی مثال اور کیا ملے گی؟

22 مئی 2020 ء کے طیارہ حادثے کا ایک اور المناک پہلو ہمارے میڈیا کی غیر حساسیت بھی ہے۔ کیا اس دردناک حادثے کے شکار ورثا کے گھر مائک اور کیمرہ لے کر پہنچ جانا اور بچوں کے آگے مائک رکھ دینا اور پوچھنا کہ ابو امی کی یاد آ رہی ہے کسی صورت بھی ذمہ دارانہ صحافت قرار دیا جاسکتا ہے؟

ایک طرف تو اس حادثے میں جان بحق ہونے والوں کے لواحقین شدت غم سے نڈھال رہے تو دوسری طرف میڈیا ایسے سوالات کر کے مرحومین کے لواحقین کے جذبات کو مزید ٹھیس پہنچاتا رہا۔ ہمارا میڈیا ایسی خبروں کو بڑے چٹ پٹے انداز میں نشر یوں کرتا ہے کہ ”ہمارے چینل نے اپنی روایات کو برقرار رکھا اور ہمارا چینل آپ کو سب سے پہلے ان جان بحق ہونے والوں کی تفصیل دکھا رہا ہے“

ہمارے ہاں پاکستان میں 1 گھنٹے میں ابتدائی رپورٹ آجاتی ہے اور میڈیا چینلز پر ٹاک شوز شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک تو ہماری یہ نا اہلی ہے کہ ہم تحقیقات کے دروازہ کھولنا چاہتے ہی نہیں کہ کن نااہلیوں کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا؟ کون ذمہ دار ہے؟

اگر ہم دنیا کی باقی ایئرلائنز کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ Qatar Airways کا کوئی جہاز حادثے کا شکار نہیں ہوا ایسی ہی Qantas Airways کوئی جہاز حادثے کا شکار نہیں ہوا Hawaiian Airlines کا 1929 سے آج تک ایک بھی جہاز حادثے کا شکا ر نہیں ہوا وجہ یہ ہے کہ لوگ وہاں میرٹ پر آتے ہیں ایسی بات نہیں ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی ہو۔ پاکستان نے دنیا کی ایئرلانز کو کھڑا کیا ہے Emirates کو پاکستان نے پہلے جہاز دیے تھے۔ اور Emirates کا جو کوڈ ہے ”EK“ تو اس میں ”K“ کراچی کا ہے کیوں کہ پہلی فلائٹ کراچی آئی تھی۔

میں یہاں پی آئی اے یا کسی اور کو ذمہ دار نہیں ٹھہررہا مگر ہمارا قصور یہ ہے کہ اہم احتساب پر یقین ہی نہیں رکھتے نہ ہم احتساب کرنے کی کوشش کرتے ہم بس اللہ کی مرضی کہہ کر اگے نکل جاتے ہیں۔ ایسی بات نہیں ہے کہ ہم لوگ قابل نہیں بات صرف یہ ہے کہ ہم لوگوں نے احتسابی عمل پر یقین ختم کر دیا ہے ہم لوگوں میں قانون نام کا احترام رفتہ درفتہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور قانون کا خوف بھی دل سے نکلتا جا رہا ہے۔

اگر یہی سب چلتا رہا تو طیارے بھی گریں گے ٹرنیوں میں آگ بھی لگی گی سڑکوں پر حادثات بھی ہوں گے لوگ بھی مرے گے مگر کسی کو کوئی فرق نہیں پرے گا۔ ہم خود اپنی نا اہلیوں کی وجہ سے قوم کی قیمتی جانوں کو مار کر ان کو تسلی دیتے ہیں یا کچھ رقم دے کر ان کو خاموش کر وا دیتے ہیں۔ اور یہ ہی بحیثیت ہماری قوم کا المیہ ہے۔ آخر میں نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کی مرضی کہہ کر آگے نکل جاؤاور بکرے کے صدقہ دے کر اپنی نا اہلی چھپا لو۔

Facebook Comments HS