ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس: کب کیا ہوا؟


عمران فاروق قتل کیس

ڈاکٹر عمران فاروق (بائیں جانب)، الطاف حسین (دائیں جانب)

18 جون کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے اہم کیس کا فیصلہ سنانے جارہی ہے۔

پانچ سال تک چلنے والا یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم کیس ہے جس میں اگر ملزمان پہ سازش کر کے قتل کرنے کا جرم ثابت بھی ہوجائے اور عدالت انھیں سزائے موت سنا بھی دیتی تب بھی اس کیس میں مدعی کی حیثیت سے ریاست پاکستان کی طرف سے دی گئی تحریری ضمانت کے نتیجے میں ان کی سزائے موت پر عملدرآمد کبھی نہیں ہوسکے گا۔

یہ اس لیے کیونکہ امکان ہے کہ صدر مملکت اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران فاروق قتل کیس کے ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد

الطاف حسین: میرے پاس پیسے نہیں، میں ساری سکیورٹی ہٹا رہا ہوں

عمران فاروق قتل کیس: ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر قتل کا مقدمہ

عمران فاروق قتل کیس کی سماعت اڈیالہ جیل منتقل

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس

ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو شمالی لندن کے علاقے ایجوائر میں ان کے گھر کے پاس شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب اینٹوں اور چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

استغاثہ کے مطابق دو ملزمان محسن علی سید اور محمد کاشف کامران پہ الزام تھا کہ ان دونوں نے مل کر عمران فاروق کو قتل کیا، محسن علی سید نے مقتول کو پیچھے سے پکڑا اور محمد کامران نے ان پراینٹوں اور چھریوں کے وار کیے تھے۔

لندن پولیس کو جمعرات شام 5:30 کو اس واقع کی اطلاع ملی جس کے بعد اس کیس کی تفتیش سکاٹ لینڈ یارڈ کے انسداد دہشت گردی ونگ ایس او15 (SO 15) کے حوالے کردی گئی ۔

اس کیس کی تفتیش کے دوران سکاٹ لینڈ یارڈ نے 4500 سے زائد لوگوں کے انٹرویوز کئے جبکہ 7600 سے زائد کاغذات کی چھان بین بھی کی۔

پاکستان نے عمران فاروق قتل کیس کے سلسلے میں ایک انکوائری جون 2015 میں شروع کی اور ایف آئی اے کے ایک سینئر افسر اور موجودہ اڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب انعام غنی کی سربراہی میں ایک جے آئی ٹی تشکیل دی جس کی تحقیقات کی روشنی میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے انسداد دہشت گردی ونگ نے 5 دسمبر2015 کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 (قتل)، 120B(مجرمانہ سازش)، 34(مشترکہ مقصد کی تائید میں متعدد اشخاص کی طرف سے مرتکب شدہ افعال)، 109 (کسی جرم میں اعانت کرنا) اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 7 کے تحت ایف آئی آر درج کی۔

ایف آئی آر میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین، ایم کیو ایم کے رہنما محمد انور اور افتخار حسین قریشی، محمد کاشف خان کامران ،محسن علی سید، خالد شمیم اور معظم علی سمیت 07ملزمان نامزد کیے گئے۔ اس کیس میں چار ملزمان اشتہاری ہیں جبکہ تین ملزمان کے خلاف ٹرائل مکمل کیا گیا ہے۔

عمران فاروق کون ہیں؟

یہاں یہ بات اہم ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق متحدہ قومی مومنٹ کے پہلے سیکرٹری جنرل اور کنوینر رہے۔

آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے روح رواں بھی یہی تھے اس کے علاوہ مقتول دو مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پارٹی نے دونوں بار انھیں ایوان زیریں میں اپنا پارلیمانی لیڈر بھی نامزد کیا تھا۔

ایم کیو ایم کے خلاف 1992 کے ریاستی آپریشن کے نتیجے میں ان پر مختلف مقدمات درج کیے گئے جن میں قتل اور بھتہ خوری جیسے الزامات بھی شامل تھے لیکن وہ روپوش ہوگئے۔

محکمہ داخلہ سندھ نے لاکھوں روپے کی رقم کے معاملے پر اشتہاری قرار دیے گئے عمران فاروق کے سر کی قیمت مقرر کی تھی۔ عمران فاروق پاکستان سے فرار کے بعد 8 ستمبر 1999 کو اچانک برطانیہ جاپہنچنے جہاں 10ستمبر کو انھوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواست دے دی تھی۔

مقتول نے 2004 میں شمائلہ عمران سے شادی کی جن سے دو بچے ہیں۔ چند سال قبل ان کی بیوہ شمائلہ عمران کو کینسر کی تشخیص ہوئی جس کا علاج، معالجہ چل رہا ہے۔

‘صدر کے آئینی اختیار سے سزائے موت عمر قید بن جائے گی’

سابق اٹارنی جنرل انورمنصور خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ریاست کاایک انڈر ٹرائل کیس میں ملزمان کی سزائے موت پر عمل درآمد نہ کرنے کی تحریری ضمانت کسی دوسرے ملک کو دینا کسی طور پر بھی ٹرائل یا عدالت پر اثر انداز ہونا نہیں تھا۔

’ہم نے برطانیہ کو جو ضمانت دی اس کا اختیار ایگزیکٹو کو ہے۔ اس کا عدالت کی کارروائی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ہم انھیں بنیادی طور پر کہہ رہے تھے کہ اگر ملزمان کو سزائے موت ہوگئی اور ان کی سزاؤں پہ عملدرآمد کے حوالے سے کوئی نیا قانون نہ بھی آیا تو صدر اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیں گے۔‘

انور منصور کے مطابق ریاست پاکستان کی طرف سے وہ تحریری ضمانت انھوں نے بطور اٹارنی جنرل برطانوی حکام کو دی تھی۔

’ہماری سکاٹ لینڈ یارڈ والوں سے کوئی ایک درجن کے قریب ملاقاتیں ہوئیں لیکن وہ تحریری یقین دہانی پہ بھی راضی ہونے کو تیار نہیں تھے بلکہ وہ مسلسل قانون میں ترمیم کرنے پر زور دیتے رہے اور بالآخر جولائی 2019 میں ایک صدارتی آرڈیننس لایا گیا جس میں 1860 کے پاکستان پینل کوڈکے سیکشن 3 میں ایک تبدیلی کردی گئی جس کے مطابق اگر کسی کیس میں شواہد یا ملزم کو حوالگی کے معاہدے کے علاوہ کسی بھی طرح کے معاہدے کے تحت ایسے ممالک سے جہاں سزائے موت کا قانون موجود نہیں پاکستان لائے جائیں اور ٹرائل کیا جائے اس کیس میں اگر جرم ثابت بھی ہوجائے پھر بھی عدالت ملزم کو سزائے موت نہیں دے گی۔‘

عمران فاروق قتل کیس

صدارتی آرڈیننس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسے پارلیمان میں پیش بھی کردیا گیا تھا لیکن کورونا وبا کی وجہ سے جو حالات بن گئے اس کے بعد اس کی تاحال منظوری تو نہیں لی گئی لیکن چونکہ اس کی مدت بار بار بڑھائی گئی اور اسی دوران کیس کا ٹرائل بھی مکمل ہوگیا تو اب وہ منظور نہ بھی ہو تب بھی اس کیس میں وہی لاگو ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر وہ تحریری ضمانت اور آرڈیننس کی طرف نہ جاتے تو برطانیہ سے شواہد نہ ملتے اوران شواہد کی غیر موجودگی میں ہمارے پاس کیا تھا ثابت کرنے کے لیے کیونکہ آلہ قتل، پوسٹ مارٹم رپورٹ، آلہ قتل پہ ملزم کی انگلیوں کے نشانات اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ یہ سب توسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحویل میں تھے۔

یاد رہے کہ معاہدے کے تحت 354 صفحات پہ مشتمل مختلف شواہداور ایک عدد سی ڈی جس میں تصاویر اور ٹرانسکرپٹ تھی وہ سکاٹ لینڈ یارڈ نے پاکستانی حکام کے حوالے کی ۔ اس کے علاوہ 23گواہان کی فہرست بھی پاکستان کے حوالے کی گئی جن میں سے کچھ لوگوں نے پاکستان آکر اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور باقی لوگوں بشمول مقتول کی بیوہ شمائلہ عمران نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

عمران فاروق کی بیوہ سے ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی ضمانت کے حوالے سے کوئی بات ہوئی اس سوال کے جواب میں انور منصور کا کہنا تھا کہ ان سے کوئی بات نہیں ہوئی کیونکہ یہ ایگزیکٹو کے صوابدید ی اختیار کو استعمال کرنے کی بات ہو رہی تھی اور ان کی رائے لینا ضروری نہیں تھا۔

الطاف حسین اور دیگر کے خلاف الزامات ثابت ہوں گے؟

کیا پراسیکیوشن اس کیس میں متحدہ قومی مومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف اس قتل کی سازش تیار کرنے جیسے سنگین الزامات کو ثابت کر پائی ہے اس سوال کے جواب میں سابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ الطاف حسین اس کیس میں اشتہاری ہیں اس لیے ان کا کیس الگ کردیا گیا تھا اور ان کے اس کیس میں براہ راست ملوث ہونے کے حوالے سے شواہد اکھٹے کرنے پر زور نہیں دیا گیا۔

’جب بھی الطاف حسین کے حوالے سے الگ سے کیس چلے گا تو ان کے خلاف پھر شواہد بھی آئیں گے۔‘

الطاف حسین

اس کیس میں الطاف حسین کے ملوث ہونے یا نہ ہونے کے شواہد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انور منصور کا کہنا تھا کہ ’الطاف حسین کے خلاف ہمارے پاس کیا شواہد ہیں یہ سب چیزیں مناسب وقت پہ منظر عام پر لائیں گے۔ الطاف حسین کے حوالے سے مختلف آپشنز زیر غور ہیں ہوسکتا ہے اگر اس کیس میں ملزمان کو سزا ہوجائے تو پاکستان بانی ایم کیو ایم کے کیس کو برطانیہ کے سپرد کردے کہ ہم نے سازش کو انجام دینے والوں کو پکڑ کر سزا دلوا دی ہے اب آپ اس کردار کے متعلق تفتیش کریں جس نے وہ سازش تیار کی تھی۔‘

اس کیس میں مرکزی ملزمان میں سے ایک ملزم محسن علی کے وکیل مہر محمد بخش نے بی بی سی کو بتایا کہ پراسیکیوشن کے پاس محسن کے خلاف اس جرم میں ملوث ہونے کا براہ راست کوئی ثبوت نہیں۔

ان کے مطابق، پراسیکیوشن کے تمام گواہوں کے ملزم کی رنگت اور جسمانی ساخت کے متعلق بیانات آپس میں نہیں ملتے جس سے محسن کے خلاف پراسیکیوشن کا کیس کمزور پڑتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں پراسیکیوشن نے جو کڑیاں جوڑی ہیں وہ بھی بہت کمزور ہیں کیونکہ ان کے بقول پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ محسن باقاعدہ گرفتاری سے چھ ماہ قبل تک رینجرز کی حراست میں تھا لیکن انھوں نے رینجرز کی طرف سے ایسا کوئی ایک گواہ بھی پیش نہیں کیا جو کہہ سکے کہ محسن انکی حراست میں تھا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ جس جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ان کے مؤکل کے خلاف پرچہ درج کیا گیا تھا اس جے آئی ٹی کا کوئی ایک رکن بھی بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوا۔

مہر بخش کے مطابق پراسیکیوشن کا یہ دعویٰ کہ محسن چمن بارڈر پر افغانستان کے راستے پاکستان داخل ہوتے وقت پکڑا گیا تھا یہ بھی بہت کمزور ہے کیونکہ محسن کے بارڈر پہ پکڑے جانے کا بھی کوئی ثبوت یا شہادت نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی گواہ اس سلسلے میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم نے کوئی اقبال جرم نہیں کیا بلکہ اس سے زبردستی انگوٹھے لگائے گئے۔

جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ پراسیکیوشن نے محسن کو ہی اس کیس میں کیوں ملزم بنایا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا مؤکل بے قصور ہے اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کیس میں اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لیے نامزد کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ ملزم محسن ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا اس نے لندن پڑھنے کے لیے اتنے پیسوں کا انتظام کس طرح سے کیا تو وکیل کا کہنا تھا کہ پیسوں کا انتظام رشتہ داروں کی مدد سے کیا گیا۔

ملزم لندن جانے کے بعد پارٹ ٹائم نوکری بھی کرتا تھا تو وہ قتل کے کچھ روز بعد ہی واپس پاکستان کیوں آگیا تھا اس سوال کے جواب میں ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس کی ماں بہت بیمار تھی اور وہ اس کی تیمارداری کے لیے واپس آیا تھا جہاں ایئرپورٹ پر ہی پاکستانی حکام نے اسے گرفتار کر لیا تھا۔

ملزم محسن علی سید کے بھائی افنان (فرضی نام) کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کی اپنے بھائی سے آخری مرتبہ بات 16 ستمبر2010 کو ہوئی تھی اور انھوں نے بیمار والدہ کا حال احوال پوچھا تھا۔

افنان کے مطابق محسن نے انھیں یہ ضرور بتایا تھا کہ وہ جلد پاکستان آئے گا والدہ کی تیمارداری کرنے لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ چند دن بعد ہی واپس آجائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں محسن کے بھائی کا کہنا تھا کہ اس نے جیل میں محسن سے پوچھا تھا کہ وہ کس طرح گرفتار ہوا تھا جس کے جواب میں اس نے بتایا تھا کہ وہ اور کاشف دونوں لندن سے براستہ کراچی پہنچے ہی تھے کہ رن وے پر ہی سادہ کپڑوں میں ملبوس کچھ لوگ جہاز کے اندر داخل ہوگئے اور دونوں کو یہ کہتے ہوئے حراست میں لے لیا کہ کچھ پوچھ گچھ کرنی ہے۔

اس نے مزید کہا کہ محسن نے بتایا تھا کہ کاشف سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کو یہ کہتا رہا کہ محسن کا کوئی قصور نہیں اسے جانے دیں لیکن وہ دونوں کو ساتھ لے کر چلے گئے۔

افنان کے مطابق جب 16 ستمبر 2010 کے بعد محسن سے بات نہ ہو پارہی تھی تو ان کے ایک عزیز نے لندن پولیس کو اس کے غائب ہونے کی شکایت بھی درج کروائی تھی جس پہ لندن پولیس نے اسے بتایا تھا کہ اسے پاکستان ڈیپورٹ کردیا گیا ہے۔

افنان کے مطابق انھیں بھائی کی گرفتاری کی اطلاع 2015 میں ملی۔ اس نے مزید کہا کہ محسن کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں، جیل اور دیگر حکام کا رویہ بہت اچھا رہا اور انھیں کسی سے کوئی گلہ نہیں۔

احسن اقبال

سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں کہ عمران فاروق قتل کیس میرٹ پر شروع کیا گیا

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران فاروق قتل کیس کو عام کرمنل کیسز ہی کی طرح صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ہی شروع کیا گیا۔

’ہم نے 2013 کے کراچی آپریشن کو بھی کرائم کو دیکھتے ہوئے شروع کیا۔ یہ دیکھے بغیر کہ کون ملوث ہے کیونکہ ہمارا مقصد کراچی میں امن لانا تھا۔ ہماری حکومت کی پالیسی ہی یہ تھی کہ کرائم کو میرٹ پہ ڈیل کیا جائے۔‘

عمران فاروق قتل کیس میں شواہد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب وہ وزیر داخلہ تھے تب انھیں یاد ہے کہ کافی مضبوط شواہد تھے۔

اگر نواز لیگ کی حکومت ہوتی تو کیا برطانیہ کو تحریری ضمانت دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نکالا جاسکتا تھا۔ اس کے جواب میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں اندازہ کہ موجودہ حکومت نے کیا کیا ہے لیکن اس کیس کا تقاضا یہی تھا کہ اس کو تمام قانونی تقاضوں کے مطابق حل ہونا چاہیے اور جو بھی قانون ہے اس کی رٹ اسٹیبلش ہونی چاہیے۔

بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کیس ٹرانز نیشنل کرائمز کا ایک یونیق کیس ہے جس میں قتل کاوقوعہ کسی ایک ملک میں جبکہ اسکی منصوبہ بندی کسی دوسرے ملک میں ہوئی ہے۔

ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے مختلف دعووں کے متعلق احمر بلال کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ کیس کے حوالے سے کافی شواہد منظر عام پہ آجائیں تو عام طور پر بین الاقوامی جرائمزکے کیسز میں عدالت ایسی چیزوں کو نظر انداز کردیتی ہے کہ گرفتاری کب ہوئی اور کیسے ہوئی لیکن دوسری طرف اگر یہی جرم پاکستان میں ہوا ہوتا اور اس میں کوئی پاکستانی شہری ملوث پایا جاتا تو پھر ایسی چیزوں کی اہمیت بڑھ جاتی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر صدارتی آرڈیننس کو چیلنج بھی کیا گیا تو عدالتیں ایسے کیسز میں دوسرے ملکوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے نتیجے میں قانون میں کی گئی تبدیلوں کے حق میں ہی فیصلہ دیتی ہیں۔

قتل کے پانچ سال بعد کیس کو شروع کرنے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایسے جرائمز جو کئی ممالک تک پھیلے ہوئے ہوں ان میں شواہد جب بھی منظر عام پہ آجائیں کیس کا ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp