جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس: سپریم کورٹ نے جج کی اہلیہ کو ایف بی آر کی جگہ عدالت کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کی اجازت دے دی
پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے 10 رکنی بینچ نے درخواست گزار یعنی جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کو اپنا بیان عدالت کے سامنے اپنے گھر سے ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کروانے کی اجازت دے دی ہے۔
بینچ کے سربراہ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ درخواست گزار کی اہلیہ عدالت کے لیے قابل احترام ہیں۔
اُنھوں ے کہا کہ درخواست گزار کی اہلیہ اپنا بیان مختصر رکھیں اور اپنے الفاظ کا چناؤ اچھا کریں جس سے کسی کی تضیحک کا پہلو نہ نکلے اور وہ عدالتی ڈیکورم کا خیال رکھیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ان درخواستوں میں فریق نہیں ہیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ بینچ کے ارکان درخواست گزار کی اہلیہ کا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد اس کا جائزہ لیں گے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران درخواست گزار یعنی جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدالت کی طرف سے ان کی اہلیہ کی لندن میں جائیداد کے معاملات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھیجنے کی تجویز کی مخالفت کی تھی اور اُنھوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی اہلیہ ایف بی آر جانے کے بجائے رکنی بینچ کے سامنے اس معاملے کو رکھنا چاہتی ہیں اور اپنا بیان ریکارڈ کروانا چاہتی ہیں۔
وفاق کے وکیل فروغ نسیم نے وزیر اعظم اور صدر مملکت سے مشاورت کے بعد اس معاملے کو ایف بی ار میں بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
جسٹس فائز عیسی کیس کے بارے میں مزید پڑھیے
فائز عیسیٰ کیس: ’غیر متعلقہ باتوں میں قرآن پاک کا حوالہ نہ دیں‘
فائز عیسیٰ کیس: ’ریفرنس بنانے کا برائٹ آئیڈیا کس نے دیا تھا؟‘
’ریفرنس کیسے تیار ہوا اور اس کے لیے مواد کیسے اکٹھا کیا گیا‘: سپریم کورٹ
فائز عیسی کیس: ’بدنیتی نظر آئی تو ریفرینس خارج کر دیا جائے گا‘
دوسری جانب وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسی کیس میں جمعرات کو سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کسی بھی جج کے خلاف آنے والی درخواست یا ریفرنس پر فوجداری اور دیوانی حقوق کا فیصلہ نہیں کرتی بلکہ جوڈیشل کونسل فیکٹ فائینڈنگ فورم ہے جو اپنی سفارشات مرتب کرتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ریفرنس سے متعلق بدنیتی ثابت ہونے ہر اس بارے میں فائینڈنگ دینے پر کونسل کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل بدنیتی کے ساتھ نیک نیتی کا بھی جائزہ لے سکتی ہے کیونکہ کونسل کے سامنے تمام فریق ایک جیسے ہوتے ہیں۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پر چیک موجود ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر کسی جگہ بدنیتی ہو تو عدالت جائزہ لینے کے لیے بااحتیار ہے۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ عدالت اپنے اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا عدالت اور کونسل کے بدنیتی کے تعین کے نتائج ایک جیسے ہوں گے جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ کونسل بدنیتی پر ابزرویشن دے سکتی ہے جبکہ عدالت کو بدنیتی پر فائینڈنگ دینے کا اختیار ہے۔
جسٹس مقبول باقر نے وفاق کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل صدر مملکت کے کنڈکٹ کا جائزہ لے سکتی ہے جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ کونسل کسی کے کنڈکٹ کا بھی جائزہ لے سکتی ہے کیونکہ کونسل کے پاس یہ اختیار ہے۔
بینچ میں شامل ایک اور جج جسٹس سجاد علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا عدالت عظمیٰ کے بدنیتی کے معاملے کا جائزہ لینے میں کوئی رکاوٹ ہے۔ وفاق کے وکیل نے اس کے جواب میں کہا کہ عدالت عظمیٰ کے راستے میں بدنیتی کا جائزہ لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جاری کیے گئے اظہار وجوہ کے نوٹس میں تین نقطے شامل کیے گئے۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ریفرنس کا جائزہ لیکر الزام کے تین نقاط نکالے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ عدلیہ کو شوکاز نوٹس کے مواد کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاق کے وکیل سے استفسار کیا کہ اُنھوں نے اپنے دلائل کے دوران آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق مقدمے کا حوالہ کیوں دیا جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ آرمی چیف کا مقدمہ درخواست واپس لینے کی استدعا کے باوجود بھی چلایا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کا حکم پاس نہیں کیا لیکن آرمی چیف کا مقدمہ چلایا گیا۔
بینچ کے سربراہ نے سوال کیا کہ کیا ریفرنس کالعدم ہو جائے تو پھر بھی شوکاز نوٹس اپنی جگہ زندہ رہے گا۔ وفاق کے وکیل نے جواب دیا کہ ان کی بصیرت کے مطابق یہی دلیل ہے کہ ریفرنس کے بعد بھی شو کاز نوٹس ختم نہیں ہوتا۔
اُنھوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اس شوکاز نوٹس کا تحریری جواب دیکر جج تحریری جواب دیکر جوڈیشل کونسل کے سامنے سرنڈر کردیا۔
عدالت کے سوال پر وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ کسی بھی صدارتی ریفرنس پر صدر مملکت کی رائے کا سپریم جوڈیشل کونسل جائزہ لے سکتی ہے تاہم
صدر مملکت کی رائے کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہوتی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اعتراض یہ ہے کہ ریفرنس میں قانونی نقائص اور بدنیتی ہے۔
وفاق کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ قانون کہتا ہے کہ کم معیار کے ساتھ بھی کام چلایا جا سکتا ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق عدالت عظمیٰ کے جج کے ساتھ کم معیار کے ساتھ کام چلایا جائے۔
اُنھوں نے کہا کہ جج کو ہٹانے کی کارروائی میں شواہد کا معیار دیوانی مقدمات جیسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ جج کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کے لئے ٹھوس شواہد ہونے چاہیے۔
بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو تنبیہ کی کہ وہ ایسی مثال دیتے ہوے احتیاط کریں کیونکہ عدالت یہاں آئینی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے بھی اپنا مائینڈ اپلائی کرکے جج کو شوکاز نوٹس کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ریفرنس کے معاملے پر صدر کے بعد جوڈیشل کونسل اپنا زہین اپلائی کرتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل شوکاز نوٹس جاری کرنے سے پہلے اور بعد میں بھی ریفرنس کا جائزہ لیتی ہے
گذشتہ سماعت میں کیا ہوا؟
17 جون کو وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کی طرف سے عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جائیداد کا معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھجوانے کی تجویز سے اتفاق کیا تھا۔
تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود عدالت میں پیش ہو کر کہا ہے کہ ان کی اہلیہ اپنے اثاثوں سے متعلق ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت عظمیٰ میں اپنا بیان دینا چاہتی ہیں۔
اس حوالے سے طویل بحث کے بعد عدالت نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ تحریری جواب کے ساتھ دستاویزات جمع کروائیں۔
بدھ کی سماعت میں بینچ کے سربراہ نے یہ بھی کہا ہے کہ جوڈیشل کونسل صدر مملکت کے ہاتھوں قید نہیں ہو سکتی اور ان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اس ریفرنس کو بے بنیاد کہہ سکتی ہے اور صدر مملکت سے جج کیخلاف کارروائی کیلئے مزید شواہد مانگ سکتی ہے۔
بدھ کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جب ان درخواستوں کی سماعت شروع کی تو وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ سماعت کے دوران عدالت نے جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کی جائیداد کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کی جو تجویز دی تھی اس بارے میں وزیراعظم اور صدر مملکت سے مشاورت کی گئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اُنھیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر اس ضمن میں سپریم کورٹ کے جج اور ان کی اہلیہ کو بلائے اور عدالت اُن دونوں کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں اور ایف بی آر دو ماہ کے اندر اس بارے میں فیصلہ کرے۔
وفاق کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزار یعنی قاضی فائز عیسیٰ نے منگل کو ایک جواب عدالت میں جمع کروایا ہے جس میں وزیراعظم عمران خان سمیت حکومت کی دیگر شخصیات کی لندن میں جائیدادوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر ان کی ایک جائیداد بھی بیرون ملک ہو تو اسے نیلام کر کے پیسے قومی خزانے میں جمع کروائے جائیں۔
مزید پڑھیے
فائز عیسی کیس: ’بدنیتی نظر آئی تو ریفرینس خارج کر دیا جائے گا‘
فائز عیسیٰ کیس: ’غیر متعلقہ باتوں میں قرآن پاک کا حوالہ نہ دیں‘
فائز عیسیٰ کیس: ’ریفرنس بنانے کا برائٹ آئیڈیا کس نے دیا تھا؟‘
’ماضی میں ایک جمہوری حکومت ججوں کی جاسوسی پر جا چکی ہے‘
اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججوں نے ابھی اس جواب کا جائزہ نہیں لیا۔ وفاق کے وکیل اپنے دلائل دے ہی رہے تھے کہ اس دوران خود جسٹس قاضی فائز عیسی کمرۂ عدالت میں آئے اور انھوں نے عدالت سے کچھ کہنے کی استدعا کی جو منظور کرلی گئی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے خلاف بھیجے گئے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں میں سے ایک میں درخواست دہندہ ہیں اور اس معاملے کی سماعت کے دوران پہلا موقع ہے کہ وہ کمرہ عدالت میں آئے جبکہ ان کی درخواست کی پیروی وکیل رہنما منیر اے ملک کر رہے ہیں۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالت سے کہا کہ ’یہ قاضی فائز عیسٰی کا مقدمہ نہیں ہم سب کا مقدمہ ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق اٹارنی جنرل کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا ہے کہ جج انھیں بچانا چاہتے ہیں۔
’اہلیہ کہتی ہیں کہ وہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی‘
قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ’اس عرصے کے دوران میرے اور میرے خاندان کے ساتھ کیا ہوا میں اس کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا‘۔
درخواست گزار کے مطابق ریفرنس سے پہلے ان کے خلاف خبریں چلائی گئیں اور ان کا کہنا تھا کہ اگر اُنھوں نے کچھ غلط کہا ہے تو بےشک عدالت ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حکومت نے عدالتی تجویز سے اتفاق کیا ہے یعنی اس معاملے کو ایف بی آر میں بھجوا دیا جائے لیکن اُنھیں اس پر جواب دینا ہے۔
جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں موقف پیش کرنا چاہتی ہیں اور ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ وہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی۔
جب جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنی اہلیہ کے بارے میں وفاق کے وکیل کے ریمارکس کی بات کی تو بینچ کے سربراہ نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ہمارے لیے آپ آپ محترم ہیں۔ آپ جج ہونے کے ساتھ ساتھ درخواست گزار بھی ہیں۔‘ اس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’مائی لارڈ، میں اس وقت درخواست گزار کی حیثیت سے ہی پیش ہوا ہوں‘۔
’آپ جذباتی ہو رہے ہیں‘
درخواست گزار نے کہا کہ حکومتی وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کی اہلیہ کو بلا سکتی ہے جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل نے تو خود انھیں ایک بار بھی بلا کر ان کا موقف نہیں سنا۔ جسٹس عیسیٰ نے یہ گلہ بھی کیا کہ اُنھیں تو ریفرنس کی نقل بھی فراہم نہیں کی گئی تھی۔
بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ وہ جذباتی ہو رہے ہیں تاہم قاضی فائز عیسیٰ نے اس بات سے انکار کیا۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے درخواست گزار کے بیان پر غور کیا ہے اور یہ بیان درخواست گزار نے اپنی اہلیہ کی جانب سے دیا ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست گزار کی اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہوگا تاہم درخواست گزار سے کہا گیا ہے کہ وہ تحریری جواب داخل کر کے اپنا موقف دیں۔
اُنھوں نے کہا کہ تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدالت کو بتایا کہ ان کی اہلیہ تحریری جواب جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ ان (اہلیہ) کے والد کو کینسر کا عارضہ لاحق ہے اور وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا موقف دینا چاہتی ہیں، اس لیے عدالت اُنھیں یہ موقع فراہم کرے۔
اُنھوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ کا موقف سننے کے بعد بینچ میں شامل معزز جج صاحبان جتنے مرضی سوال کریں۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر نے ان کی تذلیل کی ہے اور اُنھیں خطرہ ہے کہ ’ایف بی آر کو اکاؤنٹ بتانے پر حکومت اس میں پیسہ ڈال کر کوئی نیا ریفرنس نہ بنا دے۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اس ریفرنس کی وجہ سے ان کی اہلیہ کو بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے اور وہ اپنی اہلیہ کے موقف کے باوجود میں اپنی درخواست پر مقدمہ لڑیں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ وفاق کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ ایف بی آر والے جج صاحب سے ڈرتے ہیں اور اگر ایف بی آر نے فیصلہ ان کے حق میں دیا تو پھر بھی یہی کہا جائے گا۔
’اگر آپ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے تو بہتر ہوتا‘
سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ اُنھوں نے منھ بند کر کے اس ریفرنس کو برداشت کیا لیکن ہر روز اس معاملے پر ٹی وی چینلز پر بحث کی گئی یہاں تک کہ صدر نے ایوان صدر میں بیٹھ کر اس معاملے پر تین انٹریوز دیے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شہزاد اکبر، فروغ نسیم اور سابق اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان نے ایک دوسرے کے خلاف پریس کانفرنسز بھی کیں۔
اس پر بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ اگر وہ اپنے دلائل اپنے وکیل کے ذریعے دیتے تو بہتر ہوتا۔
بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عوام میں سے کوئی بھی شخص جوڈیشل کونسل میں رائے قائم کیے بغیر درخواست بھیج سکتا ہے تاہم اس کے برعکس صدر مملکت کو ریفرنس کونسل کو بھیجنے سے پہلے اپنی رائے قائم کرنا ہوگی۔
جسٹس منیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ کونسل کو ریفرنس بھیجنے سے قبل صدر مملکت کو اس چیز کا تعین کرنا ہوگا کہ ان کہ نظر میں ’مِس کنڈکٹ‘ ہوا ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ رائے قائم کرنے سے قبل صدر کے سامنے کیا مواد موجود تھا۔
جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ جج کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا آئین میں تعین نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر صدر مملکت کہہ دے کہ ان کی نظر میں جج کا مِس کنڈکٹ ہے تو یہ دلیل بڑی خطرناک ہے۔
وفاق کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم جوڈیش کونسل کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دیے گیے شوکاز میں جن الزامات کا ذکر ہے وہ ہی ریفرنس میں درج ہیں۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ ریفرنس غیر ملکی جائیدادوں کی ملکیت اور خریداری کے ذرائع کا ہے اور عدالت سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہر جج قابل احتساب ہے اور ججز اپنی نجی اور پبلک لائف پر جوابدہ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عدلیہ کی ساکھ کو ایک جج کے باعث متاثر نہیں ہونے دیں گے۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بنیادی سوال مالی امور کا ہے، اس سوال کا جواب لیا جائے گا۔
کیا صدر مملکت ریفرنس واپس لے سکتے ہیں؟
وفاق کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر ایک مرتبہ جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کر دے تو آئین کے آرٹیکل 211 کے تحت اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں کہا کہ درخواست گزار نے کونسل کے شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا نہیں کی۔
فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت کونسل کے پاس مواد آنے پر ازخود کارروائی کا اختیار بھی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل مواد ملنے پر جج کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز ہے۔
اس دلیل پر بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے استفسار کیا کہ اگر کونسل کے پاس ازخود کارروائی کا اختیار ہے تو کیا افتخار چوھدری کیس کا فیصلہ ختم ہو گیا۔ اُنھوں نے وفاق کے وکیل کو محاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ دلیل بڑی خطرناک ہے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس افتخار چوھدری کیس میں شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا بلکہ اس وقت کے آرمی چیف اور فوجی صدر پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بلا کر بٹھایا اور تذلیل کی۔ اُنھوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوھدری کے خلاف کیس میں بد نیتی عیاں تھی۔
واضح رہے کہ فروغ نسیم سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف مختلف مقدمات میں ان کی طرف سے پیش ہوتے رہے ہیں۔
وفاق کے وکیل نے پوچھا کہ اس مقدمے میں بد نیتی کہاں ہے اور کہا کہ ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ غیر جمہوری شخص ہیں۔
فروغ نسیم نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین منتخب نہ ہوتے۔
وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے دو ججز کے خلاف ریفرنس غلط تھا یا درست اس پر کونسل ایکشن لے چکی ہے۔
بینچ کے سربراہ نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا موقف یہ ہے کہ اگر ریفرنس فارغ بھی کر دیا جائے تب بھی شوکاز نوٹس اپنی جگہ رہے گا۔
بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ شوکاز نوٹس کے بعد کیا صدر مملکت ریفرنس واپس لے سکتے ہیں؟
وفاق کے وکیل نے جواب دیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر درخواست گزار کی استدعا کے باوجود مقدمہ واپس نہیں لینے دیا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ صدر مملکت ریفرنس دائر ہونے کے بعد واپس نہیں لے سکتے۔
کیا کونسل صدارتی ریفرنس پر انکوائری کیے بغیر اس کو ختم کر سکتی ہے؟
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ریفرنس بنانے میں بدنیتی شامل ہے اور کونسل بدنیتی کا جائزہ نہیں لے سکتی۔
وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے موقع گنوا دیا ہے, اُنھیں سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری ہونے سے پہلے کارروائی کو چیلنج کرنا چاہیے تھا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ آئین صدارتی ریفرنس اور عمومی ریفرنس میں امتیاز کرتا ہے۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کیا کونسل کہہ سکتی کہ وہ صدر مملکت کی بات نہیں مانتی۔
پھر جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال اٹھایا کہ کیا کونسل صدارتی ریفرنس پر انکوائری کیے بغیر اس کو ختم کر سکتی ہے؟
اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت کے ہاتھوں جوڈیشل کونسل قیدی نہیں بن سکتی، اُنھوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک آئینی باڈی ہے اور وہ کہہ سکتی ہے کہ ریفرنس بے بنیاد ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کونسل صدر مملکت سے جج کیخلاف کاروائی کیلئے مزید شواہد مانگ سکتی ہے۔
وفاق کے وکیل نے کہا کہ کونسل صدر مملکت کو بھی ریفرنس کے حوالے سے سمن کرسکتی ہے۔
ان درخواستوں کی سماعت مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بھی کونسل نے نوٹس جاری کر کے طلب کیا تھا۔
اُنھوں نے وفاق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ کیا ان کا مقدمہ یہی ہے کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل نوٹس جاری کر دے تو آرٹیکل 211 کی رکاوٹ آ جاتی ہے جس پر فروع نسیم نے کہا کہ شو کاز نوٹس کے بعد کونسل کی کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔
’اس مقدمے میں بھی کچھ چیزیں سنگین ہیں‘
بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ عدالت ایگزیکٹو کو شتر بےمہار کی طرح نہیں چھوڑ سکتی اور ایگزیکٹو کے اختیارات کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی فیصلوں میں کچھ چیزوں کا تعین کیا گیا ہے۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ملک کی تاریخ اچھی نہیں رہی اور انتظامیہ کی جانب سے عدلیہ میں مداخلت ہوتی رہی ہے۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ وہ کسی شخص یا ادارے کے خلاف نہیں ہیں جس پر وفاق کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر آپ آئین اور قانون کے ساتھ ہیں تو میں آپ کے ساتھ ہوں۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل نوٹس جاری کرے تو پھر اس کے بعد ایگزیکیو کے اختیارات ختم ہو جاتے ہیں۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ریفرنس میں کونسل کی بات بھی کی گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کی تشکیل مکمل نہ تھی اور ججز کو جہازوں پر لایا گیا تھا۔
جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ افتخار چوہدری کے کیس میں کچھ چیزیں سنگین تھیں اور اس مقدمے میں بھی کچھ چیزیں سنگین ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں کچھ طے ہونا ہے اس میں اگر ہماری قربانی ہو جاتی ہے تو کوئی بات نہیں۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی چیز کی بنیاد غلط ہو تو کوئی ڈھانچہ کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اس پر وفاق کے وکیل نے کہا کہ ڈسپلنری باڈی صدر مملکت نہیں بلکہ جوڈیشل کونسل ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر جوڈیشل کونسل کے سامنے ایک مواد آگیا ہے تو پھر ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی کہ مواد اکھٹا کرنے میں کونسے ذرائع استعمال کیے گئے۔ بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا کونسل کے پاس بدنیتی کا جائزہ لینے کا اختیار ہے۔
وفاق کے وکیل نے کہا کہ کونسل اپنی بصیرت کے مطابق جائزہ لیکر کارروائی کرتی ہے۔
’میرٹ پر فیصلہ چاہتے ہیں‘
جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے اپنے موکل کی اہلیہ کی جائیداد کا معاملہ ایف بی آر میں بھیجنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میرٹ پر مقدمے کا فیصلہ کرے۔
منیر اے ملک نے کہا کہ اُنھوں نے یہ مقدمہ اس لیے نہیں لیا تھا کہ یہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا مقدمہ ہے بلکہ اُنھوں نے یہ مقدمہ عدلیہ کی آزادی کے لیے لیا۔
منیر اے ملک نے کہا کہ جس قسم کی مہم ان کے موکل کیخلاف چلائی گئی اس کے بعد وہ میرٹ پر فیصلہ چاہتے ہیں۔
بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ تحریری جواب کے ساتھ دستاویزات دے دیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ کو ویڈیو لنک پر بیان دینے کا موقع دینا یا نہیں فیصلہ 18جون کو ہوگا۔
ان درخواستوں کی سماعت 18 جون تک ملتوی کردی گئی۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز عدالت عظمیٰ کے 10رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر اس صدارتی ریفرنس میں بدنیتی نظر آئی تو اسے خارج کر دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ کے مطابق اس ریفرنس میں نقائص موجود ہیں اور اگر یہ کوئی عام معاملہ ہوتا تو کیس کب کا خارج کیا جا چکا ہوتا۔

