کیا تبدیلی کے سمندر میں پہلا پتھر پھینکا جا چکا؟
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل ) کے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان اس گریٹ لندن پلان کا حصہ ہے جس کے تحت واشنگٹن پاکستانی سیاست میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو روکنے کی غرض سے پہلے مرحلے میں پاکستان میں سیاسی قیادت کی تبدیلی چاہتا ہے، اس اہم سیاسی پیش رفت کو سنجیدہ سیاسی حلقے ٹھہرے ہوئے پانیوں میں پھینکا جانے والا پہلا پتھر قرار دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں ملک کے سیاسی سمندر میں اٹھنے والی لہریں بہت کچھ بہا کر لے جاسکتی ہیں۔ ذرائع کا اصرار ہے کہ بی این پی ( مینگل ) کے سربراہ سردار اختر مینگل کے دھماکہ خیز اعلان کے بعد آنے والے دنوں میں وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت وفاق میں قائم پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت سے مزید حلیفوں کی طرف سے علیحدگی کا اعلان خارج از امکان نہیں۔
مبصرین کے مطابق مرکز میں قائم حکومتی الائنس سے ایم کیو ایم اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) بھی الگ ہوجانے کا اعلان کر سکتے ہیں تاہم ’چوہدری برادران‘ کی ”قاف لیگ“ سب سے آخر میں حکومتی اتحاد سے نکلنے کا اعلان کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’گریٹ لندن پلان‘ تشکیل دینے میں برسر اقتدار پی ٹی آئی کے ”گھر کے بھیدی“ جہانگیر ترین اور نامور صحافی نجم سیٹھی کا اہم کردار ہے جو اس وقت لندن میں بھرپور طور پر متحرک بتائے جاتے ہیں جبکہ ملک کے سیاسی منظر نامے پر بڑی مجوزہ تبدیلی کو امریکی حکام کی اشیرواد بھی بتائی جاتی ہے۔
دوسری طرف ”کپتان“ ملک کے واحد صوبے میں جہاں پی ٹی آئی یا اس کے اتحادیوں کی بجائے اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اپنے اتحادیوں کو مطمئن کرنے کی غرض سے وہاں گورنر راج لگانے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم کا حالیہ دورہ سندھ دراصل اسی حوالے سے حالات کی نبض کا اندازہ لگانے کی کوشش تھا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم عمران خان سندھ کے معاملات کو آئین کے آرٹیکل 149 کے تحت وفاق اور نتیجتاً پی ٹی آئی حکومت کے کنٹرول میں لے لینے کے حوالے سے کسی فیصلے پر پہنچ چکے ہیں۔


