موہنی کی بے بسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج موہنی بہت زیادہ بے چین ہو اٹھی تھی، سیٹھ کی بات سن کر وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی، کسی پل اس کو قرار نہیں آ رہا تھا، بس رہ رہ کر اس کا من کر رہا تھا، کہ وہ خود کو آگ کے حوالے کر لے، یا اپنے جسم کو ناخنوں سے نوچ کر اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے، حتی کہ اس نے شدت غیظ کی تاب نا کر اپنے گالوں پر تیز طمانچے جڑ کر لال کر دیے تھے، اس کے سرخی مائل سفید رخسار شدت تکلیف سے شعلہ خیز انگاروں کے مثل دہک رہے تھے، اس کا بدن ذہنی اذیتوں کی تپش سے جل بھن کر خاکستر ہوا جا رہا تھا، سیٹھ کی بات نے آج اسے اٹھارہ سال قبل زندگی کی بھولی بسری یادیں تازہ کرا دیں تھی۔

جب 2002 میں پورا صوبہ فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جل اٹھا تھا، پوری فضا عداوت و دشمنی کے کالے کالے دھوئیں سے تاریک ہو چلی تھی، ہر طرف لاشوں کی بدبو اور خون کی سڑن سے سارا ماحول پراگندہ ہو چکا تھا، کہ اسی اثنا 22 مارچ 2002 کی درمیانی شب کو نفرت کے سوداگروں نے موہنی کے گھر کو آگ لگا دی تھی، اس کے بابا کو اس کی نگاہوں کے سامنے قتل کر دیا تھا، بیچاری ماں نے اپنی ناموس کی حفاظت کی خاطر خود کو نذر آتش کر لیا تھا، اور چھوٹے بھائیوں کو بھی جلتی آگ میں کود جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا، موہنی نے کسی طرح آگ سے بھاگ کر اپنے جان بچانے کی کوشش کی، مگر ازل نے بدنصیبی اس کی بھی تقدیر میں لکھ دی تھی، تو وہ پڑوسی کے مکان میں چھپنے کے باوجود ظالموں کی گرفت سے نا بچ سکی۔

اس وقت اس کی عمر صرف بارہ سال کی تھی، مگر کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق کی وجہ سے جسمانی طور پر پندرہ سال سے کم نا دکھتی تھی، گوشت سے پر جسم و جسامت پر سفیدی مائل سرخ کتابی چہرہ کسی پری کے حسن و جمال سے کم نا تھا، پانچ فٹ سے زائد مضبوط کٹھیلا جسم دیکھنے والوں کی نظروں کو فوراً خیرہ کر دیتا تھا، کہ کبھی کبھی وہ اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں سے لڑائی کے وقت بڑی تیز انہیں پٹخنی دے دیتی تھی۔

مگر اس شہر آشوب شب کو ظالموں کی گرفت میں آکر وہ سب کچھ بھول بیٹھی تھی، بس اس کے سامنے بابا کے پیٹ سے فوارے مارتا خون اور ماں کے بدن کو کھاتی آگ کا منظر تھا، جس کو دیکھ کر وہ بہت زیادہ سہم گئی تھی، بے بسی کی اذیتوں نے اس ننھی پری کے چہرے کی ساری حسین رنگت اڑا کر رکھ دی تھی، عاجزی کی کلفت و مصیبت نے اس کی دلکشی و رعنائی پر خاک مل دی تھی۔

چنانچہ ان ظالموں نے اسے دہلی لا کر گلشن بائی کے کوٹھے پر محض دہائی ہزار روپے میں فروخت کر دیا، آج سے اٹھارہ سال قبل ڈھائی ہزار کی قیمت بہت معنی رکھتی تھی، ویسے گر مفت میں ایک پیسہ بھی ہاتھ لگ جائے، تو وہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا ہے۔

گلشن بائی کے یہاں آکر موہنی نے ایک ہفتہ تک کچھ بھی نہیں کھایا پیا، ایک ہفتہ بعد گلشن اسے بہت منا دھنا کر کچھ کھلانے پر بڑی محنت سے کامیاب ہوئی، مگر اس کو وہاں کا ماحول دیکھ کر اتنی گھن آتی تھی، کہ کچھ کھاتے ہی فوراً قے ہو جاتی، اور پھر طبیعت بگڑ جاتی، اس نے کئی بار وہاں سے بھاگنے کی بھرپور کوششیں کی، مگر کوٹھے کا پہرہ اتنا سخت تھا، کہ وہ ہر بار پکڑ لی جاتی تھی، آخری بار جب وہ پکڑی گئی تھی، تو گلشن نے اس کو زنجیروں میں باندھ کر کمرے میں مہینوں کے لئے قید کر دیا تھا، کیوں کہ گلشن جیسی چھیالیس سالہ نہایت تجربہ کار عورت نے اس کو دیکھتے ہی اندازہ لگا لیا تھا، کہ یہ لڑکی میرے بہت کام کی ہے، اس کا حسن و جمال اور دلفریب ادائیں منہ مانگے دام دلوائے گیں، تو گر اس کو ڈھائی ہزار کے بجائے پانچ ہزار روپے دینے پڑتے تو بھی وہ فوراً چکا دیتی۔

آخر کار تمام تر بندشوں سے مجبور ہو کر موہنی نے اپنی زندگی کو گلشن کے حوالے کر دیا، گلشن نے اس کو سال بھر میں مردوں کو قابو میں کرنے والے بہت سے داؤ پیچ سکھا دیے، ہر ایک کو خوش کرنے سارے ہنر بھی بتلا دیے، اور سب کچھ سکھا پڑھا کر دو سال بعد اس کو نواب زادوں کے سامنے کے پیش کرنے لگی، ہر رات کا نیا مسافر موہنی کو پہلی نظر دیکھتے ہی خود کو اس کے قدموں میں ڈال دیتا تھا، اولین مرحلے میں ہی ہر ایک گاہک اپنا دل اس کی طرف پھینک دیا کرتا تھا، اور ہر رئیس خوب انعام و اکرام سے نواز کر ہی جاتا تھا، جس کا سیدھا فائدہ گلشن کو ہوتا تھا، پھر چند ہی سالوں میں موہنی کی شہرت دور تک پھیل گئی، جسم کے پجاری دور دور سے دہلی کا سفر کرنے لگے، مگر ساتھ ہی اس کو سخت ہدایت تھی، کہ وہ سودے کے علاوہ کسی بھی مرد سے اپنا کوئی ذاتی تعلق بنانے کی بالکل بھی نا کوشش کرے، اس کے ذہن میں یہ بات پیوست کر دی گئی تھی، کہ یہاں آنے والے کسی بھی مرد کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کوئی ذرا بھی بھروسا کے لائق نہیں ہوتا ہے، سو اس نے بھی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی کو بھی جسم کے علاوہ دل تک آنے نہیں دیا۔

موہنی نے گلشن بائی کی نگرانی نہیں تقریباً بارہ سال گزارے تھے، اس نے مردوں کو اچھے سے جان پہچان اور راضی کرنا سیکھ لیا تھا، اس کو زندگی کے ہر نشیب و فراز سے اچھی واقفیت ہو گئی تھی، ہر رات نئے مرد کی ملاقات نے اس کو معصوم لڑکی سے چوبیس سالہ تجربہ کار عورت بنا دیا تھا، ان بارہ سال کے تجربات نے اس کو پچھلے بارہ سال والی زندگی مکمل بھلا دی تھی، کہ وہ کون تھی؟ اور کہاں سے لائی گئی؟ اور کیونکر اس نے اس زندگی کا انتخاب کیا؟ وہ سب کچھ بھول بیٹھی تھی۔

بارہ سال تک وہ مسلسل گلشن کی زیادتیوں کا شکار رہی، وہاں کچھ ایسے بھیڑیے نما انسان آتے تھے، کہ گویا انہوں نے ہوس پوری کرنے کی نہیں، جسم کی نوچنے کی قیمت دی ہو، پیسے دینے میں تو خوب بخالت کرتے مگر بدن نوچنے کے لئے انہیں پوری رات چاہیے ہوتی، اور انکار کی صورت میں ظالم چند لمحوں میں پوری رات کی کسر نکالنے کی بھرپور کوشش کرتے، اور کچھ عاشق قسم کے گاہک اس کی دل پھینک اداؤں پر منہ مانگے دام دے کر جایا کرتے تھے، مگر گلشن اس کے بہت سارے پیسے غبن کر لیتی تھی، آخرکار اس نے زیادتیوں سے عاجز آ کر خود کو گلشن کے کوٹھے سے الگ کر لیا، اور وہیں سے کچھ دور ہٹ کر ایک معمولی مکان کرایہ پر لے لیا، پھر اس نے اپنا الگ ٹھکانہ بنا لیا، اور وہیں گاہکوں کو اپنے نئے پتہ پر بلانے لگی۔

نئی جگہ آنے پر اس کے پچھلے گاہکوں کے ساتھ نئے گاہکوں میں اضافہ ہوا، اور اس کی خوب کمائی ہونے لگی، گلشن کے یہاں رہنے کے مقابلے میں اب اسے یہ ذاتی زندگی بڑی پر سکون سی لگنے لگی، اس نے اب اپنے حسن کی صحیح قیمت جانی تھی، اب اس کو اپنی خوبصورتی و رعنائی کے پورے پورے دام ملے تھے، اور پھر روز بروز اس کی آمدنی میں اضافہ ہی ہوتا گیا، موہنی اپنے پیشہ کے اصول و ضوابط میں جو بھی سخت ہو، مگر وہ اخلاقی و عملی زندگی میں بڑی نرم خو اور کشادہ دل واقع ہوئی تھی، اپنے طور پر دل کھول کر ضرورت مندوں کی حاجتیں پوری کیا کرتی تھی، ایک دفعہ بارش کی شب ٹھنڈ سے کپکپاتے ہوئے ایک بوڑھے نے اس کے دروازے پر دستک دی، اور مدد کی دہائی دی، اس نے ایک ہی آواز پر اپنا کام چھوڑ دروازہ کو دوڑ پڑی، بوڑھے کی حالت دیکھ اس نے اپنا نیا کمبل فوراً اڑھا دیا، اور اپنی وہ خوبصورت چھتری دے دی، جو ابھی کل اس کو خان صاحب تحفہ میں دے گئے تھے، مزید اس نے اپنے سینہ بند سے دو ہزار کی نوٹ نکال کر چپکے سے اس کی مٹھی میں تھما دی، یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اس کی کمائی کا اکثر حصہ اسی طرح کے کاموں میں صرف ہو جاتا تھا، اور اس کو اس کی کوئی فکر بھی نہیں ہوتی تھی۔

مگر اس بار وبا کی وجہ سے ساری چیزیں بند ہو گئیں، لاک ڈاؤن نے تمام تر آمد و رفت پر مکمل پابندی لگا دی، حکومت کے آرڈر پر انتظامیہ نے ہر جگہ سخت پہرے بٹھا دیے، تو پھر ادھر تین مہینہ سے کوئی بھی شخص اس کے یہاں بھٹکا بھی نہیں، اب اس کی زندگی ایک ایک پیسہ کی محتاج ہو گئی تھی، گرانی کی وجہ سارا سرمایہ دو مہینے میں ختم ہو گیا تھا، ایک مہینہ سے وہ جیسے تیسے اپنا گزارا کر رہی تھی، کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اس بنا کچھ کھائے خالی شکم یونہی رات بسر کی، بھوک کی شدت کی وجہ سے جسم نڈھال ہو گیا تھا، رخسار کی ہڈیاں ابھر آئیں تھی، چہرہ کا رنگ بھی کافی اتر گیا تھا، اس پر سیاہ دھبہ سے پڑ گئے تھے، مالی پریشانیوں نے اس کے نازنیں بدن کی تراش کو ہڈیوں کے ڈھانچہ بدل دیا تھا، وہ تیس سالہ جوان عورت کے بجائے ایک عمر دراز خاتون لگنے لگی تھی۔

آج رات جب راجو دلال کے ذریعے ایک سیٹھ کے آمد کی خبر اس تک پہنچی تھی، تو وہ بہت پر امید ہو چلی تھی، اس نے پہلے سے ہی نہا دھو کر خود کو سنوار کر رکھا تھا، کہ وہ سیٹھ کو خوش کر کے چند پیسہ کما کر اپنی بقاء کا کچھ سامان میسر کر سکے۔

مگر ادھر سیٹھ نے اس کو دیکھتے ہی راجو دلال کو دوچار گالیاں دیتے ہوئے کہا، ”کہ سالے راجو کلموہے کا ستیا ناس ہو، اس نے کون سی ہڈی کی دکان پر بھیج دیا“ اور پھر موہنی سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فوراً چلتا بنا، ان دگرگوں حالات میں سیٹھ کا یہ نفرت آمیز لہجہ آج موہنی کو کھائے جا رہا تھا، وہ مسلسل رو رہی تھی، اور اپنی موت کی دہائی دیے جا رہی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زید مشکور، ریسرچ اسکالر، لکھنو یونیورسٹی، انڈیا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply