عوام "جاہل” نہیں "مجبور” ہیں



گزشتہ دنوں پنجاب کی صوبائی ہیلتھ منسٹر محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران انتہائی غیر ذمے دارانہ بیان دیا جس میں وہ لاہور کے عوام کو کورونا وائرس سے بچنے کی احتیاط نہ کرنے پر جارحانہ انداز میں جاہل اور بیوقوف قرار دے گئیں۔ ایک منتخب وزیر اگر اپنی ہی قوم کو ”جاہل“ کے خطاب سے نوازے تو پھر اس قوم کے لیے باقی کیا بچتا ہے؟ کیا واقعی یہ قوم جاہل ہے جو ایسے حکمرانوں کو منتخب کر بیٹھی جو مشکل حالات میں عوام کے لیے مشعل راہ بننے، ان کا ساتھ دینے کے بجائے عوام کی جانوں پر زبردستی اپنی معاشی ناکامی کا بوجھ ڈال کر اسے وبا کے آگے تر نوالے کے طور پر پیش کر رہے ہیں؟

محترمہ ڈاکٹر یاسمین صاحبہ عوام پر الزام دھرنے سے پہلے اور ماسک پہننے کے فوائد بتانے سے پہلے آپ ذرا ایک چکر کسی لوکل میڈیکل اسٹور کا لگا لیتیں تو آپ کو پتا چلتا کہ عوام جاہل نہیں مجبور ہیں۔ کیا آپ کے علم میں ہے کہ ماسک کی موجودہ قیمت وبا سے پہلے کی قیمت سے کم از کم چار گنا زیادہ ہو چکی ہے؟ دکاندار اپنی منہ مانگی قیمتوں پر ماسک بیچ رہے ہیں کہیں پندرہ سو کہیں سترہ سو البتہ کم سے کم عدد رکھنے والا ڈبا بھی ہزار سے کم میں دستیاب نہیں۔ یہ قیمتیں ادا کرنا حکومتی عہدیداران کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا مگر یقین مانیے ایک عام نوکری پیشہ شخص جو بھلے اچھی تنخواہ پر ملازم ہو، وہ بھی ماسک خریدنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور اس اہم اور بنیادی مسئلے ہر وفاق میں بیٹھی آپ کی ہی جماعت نہ کسی قسم کی منصوبہ سازی کرتی نظر آئی ہے نہ ہی وائرس سے بچنے والی بنیادی اشیاء جیسے ہینڈ سینیٹائزر، ہینڈواش گلوز اور ماسک وغیرہ کی قیمتوں کے حوالے سے منافع خوروں کو کسی قسم کی تاکید کرتی نظر آئی ہے ایسی صورتحال میں غریب عوام کو الزام دینا اور ان کے لیے سخت الفاظ استعمال کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے۔

صورتحال کچھ یوں ہے کہ اب اگر ماسک کے ساتھ انسان باہر چلا جائے تو بغیر ماسک کے جان ہتھیلی پر رکھ کر گھومتی عوام کو دیکھ کر دل شرمندگی کے احساس سے بھر جاتا ہے۔ ایسے کتنے ہی لوگ نظر سے گزرتے ہیں جو ماسک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے مگر اپنی جان بچانے کے لئے بے بس ہو کر کوئی رومال ہی ناک پر رکھ لیتے ہیں کیا آپ کو اس عوام کی غربت اور بے بسی کا کوئی احساس نہیں یا آپ کو عوام کی دل آزاری کرنا ہی مقصود تھا جو آپ نے ایسے سنگ دلانہ الفاظ اپنے ہی عوام کے لیے استعمال کیے؟

ایک طرف تو آپ کی حکومت شروع سے اب تک لاک ڈاؤن نہ کرنے کی بے تکی ضد پر اڑی رہی، اپنی ناقص کارکردگی سے معیشت (جو وبا سے پہلے بھی زبوں حالی سے دوچار تھی) کا سارا بوجھ لاک ڈاؤن نہ کر کے عوام کی جانوں پر ڈال کر ان کو رسک پر رکھا گیا، صوبائی حکومتوں کی بروقت لاک ڈاؤن کی حکمت عملی پر وفاقی حکومت نے عید سے پہلے مارکیٹ کھولنے کا احمقانہ فیصلہ کر کے پانی پھیر دیا۔ وہ وبا جو کسی حد تک قابو میں تھی، وفاقی حکومت کے عاقبت نااندیش فیصلوں کی وجہ سے اب گھر گھر میں موجود ہے۔

وہ ٹائیگر فورس جس کے یونیفارم میں ہی جانے کتنی رقم خرچ کی گئی آج تک سوائے سوشل میڈیا پرحکومت پر تنقید کرنے والوں پر گالیوں کی بوچھاڑ کرنے کے علاوہ عملی طور پر کسی کام نہ آسکی، ان سب میں آپ کا عوام پر تنقید کرنا کسی طور بھی جچتا نہیں ہے۔ اس تمام صورتحال میں جب کہ لاک ڈاؤن نہیں ہے غریب کو چاروناچار ملازمت کے لیے گھر سے نکلنا ہی ہے، باہر کے کام نمٹانے ہی ہیں کیونکہ آپ کی پارٹی نے معاشی اور سماجی مسائل کا بوجھ لاد کر غریبوں کو زبردستی گھر کے باہر کھڑا کر دیا ہے، کیا آپ کے الفاظ غریب عوام کے زخموں پر نمک کا کام نہیں کریں گے؟

شاید آپ کو علم نہیں ہے کہ حکومت کا کام عوام کو کوسنا نہیں ہوتا بلکہ بروقت لائحہ عمل ترتیب دینا اور عوام کو اس پر عمل کروانا حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے۔ اگر عوام اہنے مسائل خود حل کریں تو حکومت کس کام کی؟ دنیا بھر میں حکومتیں اہنے ملک کے عوام کے ساتھ کھڑی ہیں، عوام کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ پوری ذمے داری سے قوانین پر عمل بھی کروا رہی ہیں۔ محترمہ اپنے رتبے کا خیال کریں اور اس عوام کی عزت کرنا سیکھیں جس کی وجہ سے آپ کو کرسی نصیب ہوئی ہے۔ ان کے مسائل کا احساس کریں اور اگر اتنا بھی آپ کے بس میں نہیں تو کم سے کم اپنی زبان ہی میٹھی کر لیں جو غریب بے بس شہریوں کے دلوں میں چھید کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی اور آپ کی جماعت کی جگ ہنسائی کا سبب بن رہی ہے۔

Facebook Comments HS