بزدار اور شہباز حکومتوں کا موازنہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بزدار حکومت اگرچہ اپنی کارکردگی کے لحاظ سے اکثر شدید تنقید کی زد پر رہی ہے اور اس کی ایک وجہ وزیر اعلی کا کام کرنے کا دھیما انداز بھی ہے۔ لوگ ان کا موازنہ شہباز شریف کے بلند آہنگ انداز حکمرانی سے کرتے ہیں۔ شہباز شریف اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کے آگے ابریشم کی طرح نرم نظر آتے ہیں، لیکن بطور وزیر اعلی وہ فولاد بن جاتے۔ خاکی سفاری سوٹ پہن کر حبیب جالب کی مظلوموں کے لئے لکھے گئی انقلابی نظمیں اپنی غیر مترنم آواز میں گاتے رہتے، عوامی پذیرائی حاصل کرنے کے لئے بارش کے فوراً بعد گھر سے نکل پڑتے اور ربڑ کے جوتے پہنے سیوریج کی خرابی کی وجہ سے کھڑے پانی میں اتر جاتے تاہم اپنے ساتھ میڈیا لے جانا کبھی نہیں بھولتے۔

اپنی انگلی کو جلالی انداز میں ہلا ہلا کر بیوروکریسی کو ایک پل کے لئے چین نہ لینے دیتے تھے۔ بزدار اپنی وضع داری کی وجہ سے اس طرح کے کام نہیں کر پا رہے ہیں۔ اسی طرح مختلف مسائل سے عہدہ برا ہونے کے لئے پالیسیوں کی تشکیل کی حد تک بھی ان کے ہاتھ بندھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور سب سے بڑے صوبے کو چلانے کے لئے اس طرح کے اختیارات ابھی حاصل نہیں کر پائے جو شہباز شریف اور ان کے ہونہار بیٹے کو حاصل تھے۔ کرونا وبا سے نمٹنے کے لئے بھی ان کو وفاق کی ہدایات پر عمل کرنا پڑ رہا ہے اور ان کی اور کابینہ کی خواہش کے باوجود سخت لاک ڈاؤن نہیں نافذ ہونے دیا جا رہا۔

اگر آزادانہ طور پر ان کی حکومت کو اس آفت سے لڑ نے دیا جاتا تو شاید نتائج مختلف ہوتے۔ اس وقت ملک معاشی گرداب میں بری طرح پھنسا ہے۔ اس طرح کی صورت حال کا سامنا شہباز شریف کو نہیں تھا۔ شہباز شریف نے اپنے من پسند افسروں کی ٹیم بنا کر نہ صرف ان سے مختلف پراجیکٹس ضابطوں کی پروا کیے بغیر شہباز سپیڈ سے مکمل کروائے بلکہ ان کو ہر طرح کا تحفظ بھی دیا۔ اینٹی کرپشن مکمل طور پر افسر شاہی کے آگے سر نگوں تھی اور نیب کے لئے بھی پنجاب نو گو ایریا تھا۔

تاہم اس وقت یہ حالات نہیں ہیں۔ افسروں کو ہر اہم کام دیکھ بھال کر کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے اوپر اینٹی کرپشن اور نیب کی تلوار لٹک رہی ہے۔ افسروں کی اکثریت ان حالات میں کام نہ کرنے کو ہی بہترین حکمت عملی گردانتی ہے۔ یہ پہلی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹرز اس وقت ڈپٹی کمشنروں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اینٹی کرپشن کا ہیڈ اب پولیس سروس سے لگایا جاتا ہے، جب کہ پہلے یہ پوسٹ ڈی ایم جی افسر کے لئے مخصوص تھی۔

تاہم عثمان بزدار کو کئی چیزیں شہباز شریف سے مختلف اور زیادہ قابل قبول ثابت کرتی ہیں۔ ان میں ایک تو تخت لاہور کے خلاف جنوبی پنجاب میں پیدا شدہ ناراضی کا خاتمہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عثمان بزدار کے دور حکومت میں لاہور سے باہر پس ماندہ علاقوں میں فنڈز لگنے شروع ہوئے ہیں۔ شہباز شریف نے سی پیک منصوبے میں سے خراج کے طور پر چین سے اورنج لائن منصوبے کے لئے سرمایہ حاصل کیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پندرہ سو ملین ڈالر کا یہ سرمایہ اگر پنجاب کے پس ماندہ علاقوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا تو اس کی افادیت زیادہ ہوتی۔

اب بالآخر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بننے جا رہا ہے۔ یہ فیڈریشن آف پاکستان کے لئے بہت تقویت والی بات ہے۔ شہباز شریف ان کے بیٹے اور خاندان کے کسی فرد کے حکم سے سرتابی ممکن ہی نہیں تھی اور کوئی افسر ناں کرنے کا اور پھر اس کے نتائج نہ بھگتنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اب وہ حالات نہیں ہیں اب وزیر اعلی کا خاندان شریک اقتدار نہیں ہے۔ اس بات کا عمران خان کو بھی کریڈٹ جاتا ہے۔ شریف دور حکومت میں وزرا کی حالت بھی پتلی تھی۔ موصوف خود سیکرٹریوں کو احکامات دیتے اور وزرا کو اپنے محکمہ کے متعلق فیصلوں کا اخبارات سے پتا چلتا تھا۔

زیادہ تر اہم وزارتیں شہباز شریف نے یا اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں یا اپنے لاہوری دوستوں کو دی ہوئی تھیں۔ تاہم اب حالات بدل چکے ہیں۔ مطلق العنانی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ بزدار حکومت میں وزرا بھرپور اختیارات کے مالک ہیں۔ بزدار کابینہ میں شامل کچھ نوجوان وزرا کی کارکردگی واقعی قابل رشک ہے۔ ان نوجوان وزرا میں کچھ ناموں کا ہم آج ذکر کریں گے جن کی کارکردگی بہت شاندار رہی ہے اور جنہوں نے اپنے محکموں میں زبردست کام کیا ہے۔

ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے نوجوان وزیر حافظ ممتاز احمد اپنے محکمے میں کئی اصلاحات لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے محکمہ میں شفافیت کو یقینی بنایا ہے۔ حافظ ممتاز سوشل میڈیا پر اپنی حکومت پر تنقید کا دفاع بہت بھرپور انداز میں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کو ایک نظریاتی جماعت سمجھتے ہیں۔ حافظ ممتاز ایک معروف کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے خاندان کی سیاست میں آنے سے پہلے سوشل روک کے حوالے سے کافی خدمات ہیں۔

لوکل سطح پر لوگوں کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے اپنے حلقے میں ان کی بھرپور موجودگی ہوتی ہے۔ اپنے علاقے کے چکوک میں سپورٹس گراونڈز کے لئے سرکاری جگہ کی فراہمی اور نوجوانوں کے کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت اور اپنی طرف سے انعامات کی تقسیم کی وجہ سے وہ اپنے حلقہ کے نوجوانوں میں بھی خاصے پاپولر ہیں۔ حافظ ممتاز کے محکمہ میں ان کی متحرک قیادت میں ٹیکسوں کی کولیکشن میں بھرپور اضافہ ہوا ہے، نئے ایکسائز تھانے بنائے گئے ہیں۔ میرٹ پر بھرتیاں کی گئی ہیں۔ روایتی نظام کی جگہ سمارٹ کارڈ وہیکل رجسٹریشن سسٹم کا آغاز کیا گیا۔

کرونا میں ایکسائز آفسز کو عوام کے لئے نہ صرف کھولا گیا بلکہ جدید ایڈوانس اپوائنٹمنٹ مینجمنٹ سسٹم کے تحت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی کہ دفاتر میں آنے والی عوام اور عملہ اس وبا کے ہاتھوں محفوظ رہے۔ اپنی کارکردگی کی وجہ سے حافظ ممتاز اس وقت وزیر اعلی کے با اعتماد ترین رفقا میں شمار ہوتے ہیں۔ بزدار حکومت میں شامل ایک اور وزیر عنصر مجید خان ہیں، جو لیبر اور سوشل سیکورٹی کے وزیر ہیں۔ عنصر مجید خان پی ٹی آئی کے نظریاتی سپاہی ہیں۔ پہلے آئی ایس ایف میں بھی رہے۔

عنصر خان نیازی انتہائی متحرک شخصیت ہیں وہ پنجاب بھر میں پھیلے اپنے ضلعی دفاتر کے ریگولر دورے کرتے رہتے ہیں۔ لیبر ورکرز کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے انہوں نے ان تھک محنت سے کام لیا ہے۔ ڈومیسٹک ورکرز کے حقوق کے لئے وہ قانون سازی کرانے میں کامیاب رہے ہیں اور آج کل اس قانون پر عملدرآمد کے لئے کوشاں ہیں۔ اس طرح سوشل سیکورٹی قوانین پر عمل درآمد کے لئے ضلعی سطح پر افسران کی تعیناتی، سوشل سیکورٹی ہسپتالوں میں کرونا کے دوران سہولیات کی دستیابی، اور ملتان میں قرنطینہ سنٹر کے قیام کے لئے عمارتوں کی دستیابی کا کریڈٹ ان کو جاتا ہے۔

عنصر مجید خان اپنے حلقہ میں بھی ہمہ وقت دستیاب ہوتے ہیں۔ اب آخر میں تعلیم کے نوجوان وزیر مراد راس کا ذکر جن کی وجہ سے محکمہ تعلیم میں نا صرف جدت لائی گئی ہے بلکہ میرٹ کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ مراد راس کی پالیسیوں کی وجہ سے اساتذہ کی شکایات کا بھی ازالہ کیا گیا ہے۔ حال ہی میں پنجاب بھر میں بغیر کسی اضافی خرچ کے بارہ سو سے زیادہ سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں میں کمی کے حوالے سے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس طرح عثمان خان بزدار کی کابینہ صحیح معنوں میں ایک با اختیار اور ذمہ دار فورم ہے جو بتدریج حکومتی کارکردگی بہتر بننے کا سبب بن رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply