سردار مینگل کی علیحدگی کے بلوچستان پر اثرات
سردار صاحب بلوچستان کے لوگوں کے لئے وفاق سے صرف اور صرف مایوسی لے کر جائیں گے۔ سردار صاحب کی علیحدگی سے حکومت کو کچھ فرق نہ بھی پڑے، مگر بلوچستان کی سیاست اور عوامی سوچ میں ایک ہلچل ضرور مچنے والی ہے۔
تمام تر اختلافات کے باوجود، سردار مینگل بلوچستان کے لوگوں کے لئے ایک امید ضرور تھے۔ اب یہ مینگل صاحب پر منحصر ہے کہ وہ عام بلوچ کی سوچ کو کیسے درست سمت لے جا سکتے ہیں۔ عام بلوچ سردار صاحب کے ناکام لوٹنے پر کم از کم یہ ضرور کہے گا کہ وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ وفاق سے پہلے خیر نہیں پہنچا، تو اب کس امید پر وفاق سے خیر کی توقع رکھ کر آپ چلے گئے۔
بے روزگاری، نوجوانوں کے لئے تعلیمی مسائل، کورونا کی وبا، برمش اور کلثوم کا سانحہ، عام بلوچ میں تیزی سے پھیلتی مایوسی یہ سب وہ وجوہ ہیں، جس سے نتائج کچھ بھی نکل سکتے ہیں۔
ایک مرتبہ اپنی تحریر میں یہی تجویز کیا تھا کہ جیسے پاکستان کا یورپ کے ساتھ موازنہ درست نہیں۔ ایسے ہی بلوچستان کا دیگر صوبوں کے ساتھ موازنہ کسی صورت درست نہیں۔ بلوچستان خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ بلوچستان وہ زخمی مریض ہے، جسے عام مریضوں کے ساتھ لائن میں کھڑا کرنے کے بجائے، ایمرجنسی بنیادوں پر پہلی خوراک دینا ہو گی۔ اور اس کے لئے حقوق سے نکل کر خصوصی امداد کے پیکجز کی ضرورت ہے تا کہ صورتحال کو بہتر سے بہترین بنایا جا سکے۔
مگر ہوا کیا؟ حالیہ بجٹ میں گرانٹ کی مد میں بلوچستان کو صرف 10 ارب ہاتھ لگے، بجٹ کی کٹوتی الگ، انٹرنیٹ کے مسائل الگ، ترقی نہ ہونے کے برابر ایسے میں بے بسی و مایوسی ہی جنم لے گی۔ وفاق کو قربانی دینی چاہیے تھی۔ اپنے حصے کے پیزا سے بھی اگر کچھ دینا پڑتا تو بلوچستان کو ضرور دیا جاتا۔ مگر افسوس کہ وفاق ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے باسیوں کو خاطر میں نہ لایا اور وہی کچھ ہوا جس کا ڈر تھا۔ اب اختر مینگل کی علیحدگی اور راضی نہ ہونے کا مطلب ہر بلوچ اچھی طرح سمجھ جائے گا، جس کے بعد کسی دلیل کسی عذر کی حاجت نہیں رہتی۔


