یاسمین راشد نے ایسا بھی کیا کہہ دیا


ہمیں شروع سے ہی اس امر کا ادراک تھا اگر کرونا وائرس نے پاکستان کی دہلیز پار کی تو اس کے کیسے ہوش ربا نتائج سامنے آئیں گے۔ ہمیں نا صرف صحت کے ابتر نظام کا علم تھا ساتھ ہی میں عوام کی لاپرواہی اور ہر شے کو سازش اور مذاق میں اڑا دینے کی معمول کی ملی روش کا مکمل اندازہ تھا۔ انہی وجوہات کی بنا پر چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کو وطن واپس نہ لایا گیا۔ کرونا وائرس جب آگ کی طرح پھیل رہا تھا، ہمارے کانوں پر جوں رینگی نہ ہی اس کی سنگینی کو اس قابل تصور کیا کہ ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دنیا کے ہر اس ملک میں نا صرف ہمارے شہریوں نے سفر کیا بلکہ وہاں سے کرونا کو سامان میں کہ۔ طرح بھر بھر واپس بھی لائے۔ یہ بات ترش ہے، انتہائی ہے مگر سچ بھی ہے۔

نا اہلی الگ سے قومی اثاثہ ہے جس کا پہلو محبوبہ کے پہلو کی طرح چھوڑے ہم سے چھوٹتا نہیں۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے گڑے مردے اکھاڑنے کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔ دنیا میں ہر مثبت دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور روک تھام میں ناکامی کے باعث دنیا میں آگے سے آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جب کرونا نحیف اور معدوم تھا، تب جو علاج کا منجن بیچا گیا اس کو کوئی جواب نہیں ملتا، ہم نے ہر اس شے کو حق سچ مانا جس میں کچھ مصالحہ تھا۔ ماسوائے ڈاکٹر اور وائرولوجسٹ کے، ٹی وی شوز پر ہر اس شخص کی بات میں وزن ثابت کیا گیا جس کا وبائی امراض سے کوئی تعلق تھا نہ طب سے۔ طب اور سائنس کے علاوہ ہر طرح کے انڈے کرونا وائرس کے سر پر پھوڑ دیے مگر کوئی خاص فرق واضح نہیں ہوا۔ ہم یہ بات ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ فطرت ہماری روشوں کی مانند امتیازی نہیں ہوا کرتی۔

اب جو ہم نے کرونا کی دوڑ میں فاتح ہونے کے لئے ہر طرح سے کمر باندھ لی ہے اور تہیہ کر بیٹھے ہیں کہ طب کے مسیحاؤں کی تائید کرنا ہے نا ہی حفاظتی تدابیر کو عزت بخشنی ہے۔

تقریباً ڈیڑھ لاکھ مریض ابھی بھی اسپتالوں میں بستر علالت پر پڑے ہیں تو تین ہزار کے لگ بھگ افراد جان سے جا چکے ہیں۔ ان اعداد میں برکت تو آہستگی سے ہو ہی رہی تھی مگر نجمہ کی عید کی چوڑیاں اور عبدالباری کے عید کا کرتا اس قدر معنی رکھتا تھا جب سے آج تک کرونا کے مریضوں کی تعداد کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، اس سارے کھیل میں عوام بھی برابر کے حصص رکھتی ہے۔

اب پنجاب کی وزیر صحت سے سب ایسے نالاں ہیں کہ کسی پوشیدہ تجربہ گاہ میں وائرس ان ہی نے بنایا ہو۔ لاہور، جو ایشیا میں کرونا وائرس کے متاثرین کی آماجگاہ بنتا دکھائی دے رہا ہے تو ہم سوکس کی اس بحث میں الجھ پڑے ہیں کہ ہمیں کچھ کہا تو کہا ہی کیوں؟ دوسرے شہروں کی بنسبت لاہور میں متاثرہ مریضوں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ لاہور کی آبادی بھی کم و بیش ڈیڑھ کروڑ ہے۔ صرف یہی نہیں عوام نے بھی ایسا کوئی سوکس کے اصولوں سے مطابقت رکھتا مظاہرہ نہیں کیا۔

ہم سب ہی جانتے ہیں میل ملاپ کے جو سلسلے پچھلے تین ماہ سے جاری ہیں ان کی نوعیت کیا ہے۔ یقین رکھئے کہ ابھی بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اس وائرس کو ایک سازش ہی سمجھتے ہیں۔ ہمیں ایک موقع پر آکر لگا تھا کہ یہ تفریقی جاسوسی رسالوں جیسی باتیں اپنی موت مر چکی ہوں گی تاہم ایسا ہوتا تو دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ جن علاقوں کو مکمل بند کرنے کے سرکاری حکم نامے صادر کیے گئے ہیں ان میں بیشتر پوش علاقے ہیں تو جہالت کا سر چشمہ غریب نہیں بہت سے پڑھے لکھے امراء بھی ہوئے۔

ضروری نہیں ہر بحث کو ہی معاشرتی دلیل میں تبدیل کر دیا جائے۔ اگر حکومت نے نا اہلی کا شاندار کرتب پیش کیا ہے تو عوام نے بھی غیر سنجیدگی کی تھاپ پر خوب ہی محفل جمائی ہے۔

آپ پلازما بیچیں اور یاسمین راشد یہ کہہ بھی نہیں سکتی کہ آپ الگ جد کے انسان ہیں؟ جو ڈاکٹر مریض کی جاں نا بچا پائیں آپ ان پر تشدد کریں اور غلط یاسمین راشد ہی ہے؟ آپ وارڈ پر ہلہ بول دیں، حفاظتی کٹ پہنے بنا ڈاکٹر کو زبردستی کرونا کے وارڈ میں دھکیل دیں اور بات یاسمین راشد غلط کہتی ہیں؟ آپ آن لائن آگاہی دیتی خاتون ڈاکٹر کے کردار کی دھجیاں بکھیر دیں اور یاسمین راشد بری ہوئی؟ شادیاں، عقیقے، تکے کبابوں کی شب آپ منعقد کریں اور غلط بات یاسمین راشد نے کی ہے؟ ہر روز بیش بہا ہونے والی نا انصافیوں پر چپ کا روزہ رکھے ہوئے عوام کو اس بات سے ایذا پہنچی ہے کہ ہمیں غلط کہا ہی کیوں؟

لاہور میں بیس ہزار سے زائد کرونا کے مریض سامنے آچکے ہیں۔ اگر ہمارا صحت کا نظام بہت حد تک غیر مرئی یا دیو مالائی بھی ہو جائے، ہر طرح کی سہولت میسر آ جائے، جدید ہو جائے، وینٹیلیٹرز اور حفاظتی سامان سے لیس ہو جائے تب بھی کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر تب تک قابو نہیں پایا جاسکتا جب تک عوام عقل و دانش کا استعمال نہیں کریں گے۔ جب تک معمول کا میل جول ختم نہیں کر پائیں گے، احتیاطی تدابیر جس میں بار بار صابن سے اچھے سے ہاتھ دھونا، منہ ڈھانپنا، چھہ فٹ کا فاصلہ رکھنا، لوگوں سے دور رہنا شامل ہیں معمول کے مطابق نہیں اپنائیں گے مریضوں کی بڑھتی تعداد کم نہیں ہوگی۔ یہ سب فرائض سب پر لاگو ہوتے ہیں جو ایک آدمی خود کر سکتا ہے۔ اب یاسمین راشد گھر گھر آکر نہ ہاتھ دھلوا سکتی ہیں نا منہ۔ کرونا وائرس کا واحد علاج احتیاط ہی ہے جو ہم خود نا کرنے پر بضد ہیں۔

Facebook Comments HS