کنفیوژن راہ نجات نہیں۔ ۔ ۔
غلط فیصلے اتنے نقصان دہ نہیں ہوتے جتنی کنفیوژن۔ یہ انسان کو مایوسی کے سپرد کر دیتی ہے۔
کبھی ’ہاں‘ کی پکار اور کبھی ’نہیں‘ کی لپک ایک معاملے کو پیچیدہ بناتی ہے چنداں آسان فہم نہیں۔
وادی ابہام سے نکلنے کے لیے غصے کی پگڈنڈیوں پر پاؤں جمانے سے احتراز برتنا چاہیے۔ بے ساختہ شاعر اکبر معصوم نے ایک یہ منظر پیش کیا تھا
دن نکلتے ہی، میرے خواب بکھر جاتے ہیں
روز گرتا ہے اسی فرش پر، گلدان میرا
یہ دور خطوط نویسی کا نہیں۔ بیس تیس برس سے یہ رسم دنیا جو کہ ہمارا تہذیبی و ثقافتی ورثہ تھی، خاموشی سے معدوم ہو چکی ہے۔ ظاہر ہے جہاں اہمیت کم ہو جائے یا ”قدر کھو دے ہر روز کا آنا جانا“ تو بہتر ہے وہاں سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے۔ خط کی برادری نے بھی ہو سکتا ہے یہی سوچا ہو اور کہانی سے اپنا کردار نفی کر دیا ہو۔ اس سے زیادہ ہاتھ ملنے والا واقعہ یہ ہے کہ قاصد بھی روپوش ہو چکے ہیں۔ جو جوابی چٹھی کے انتظار کا حسن تھا قاصد اسے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
خطوط کا تبادلہ جو کہ چارہ گری کا درجہ رکھتا تھا اور الفاظ کو زبان سے نواز دیتا تھا اب محدود پیمانے پر سرکاری و سفارتی سطح پر استعمال ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک خط کرونائی وبا کے ان دنوں میں عالمی ادارہ صحت نے پنجاب حکومت کو ارسال کیا ہے۔ اس صوبے کی حکومت کو بزدار حکومت کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ یہ یار رہے کہ سفارتی سطح پر اپیل کرنے سے زیادہ کسی مخصوص معاملے کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ اور پھر ”وہ کیا لکھے گے جواب میں“ کا انتظار کیا جاتا ہے۔ اب چونکہ حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں تو اپیل کی گئی ہے کہ شاید کسی سخنور کے دل میں عالمی ادارہ صحت کی یہ بات اتر جائے۔
ایک شاعر نے یہ منظر کشید کیا تھا
نامہ بر، تو ہی بتا، تو نے تو دیکھے ہوں گے
کیسے ہوتے ہیں وہ خط، جن کے جواب آتے ہیں
جو خط عالمی ادارہ صحت نے لکھا ہے، اس کا تو ”جواب“ آنے سے رہا۔ اس میں یہ لکھا گیا ہے کہ کرونا کو کنٹرول کرنے میں ہماری کوششیں ناکافی ہیں۔ پاکستان کا شمار تیزی سے پھیلنے والے دس کرونائی ممالک میں کیا جا رہا ہے۔ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت اور ان کی تعداد بھی تسلی بخش نہیں۔ ہماری لیبارٹریاں چوبیس گھنٹوں میں پچیس سے ستائیس ہزار نمونوں کو پرکھ رہی ہیں۔ گزرے ہوئے مارچ کے اختتام تک ہمارا عزم یہ تھا کہ یہ صلاحیت نصف لاکھ تک ہو جائے گی۔ یہ کیوں نہیں ہو سکا اس کا جواب شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے وفاق اور پنجاب کے نمائندے نہیں دیں گے۔ جبکہ آبادی کے حساب سے کم از کم ایک لاکھ نمونوں کو روزانہ پرکھنا چاہیے۔
”وبائی سازش“ پر ہمارا یقین زیادہ ہے مگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے اور کرانے میں جابجا کمزوریاں ہیں۔ نیوزی لینڈ کا ماڈل ہمارے سامنے ہیں۔ ہم چاہیں تو جنوبی کوریا کی حکمت عملی سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔ امریکہ اور برازیل کے حکمرانوں نے بھی اس وبا کو سنجیدہ نہیں لیا تھا اور اس کا خمیازہ سینکڑوں جانوں کے ضیاع کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکی صدر نے تو دو سال پہلے وبائی امراض کی روک تھام والے شعبہ طب کے پینل کو بھی برخاست کر دیا تھا۔ ریاستوں کے سربراہان کا متحرک ہونا عوام کی بہتری کے لیے نیک شگون سمجھا جاتا ہے مگر ضرورت سے زیادہ کا عمل دخل ریاست کے بقایا شعبوں میں عدم توازن کا باعث بنتا ہے۔
خط میں واضح طور پر دو ہفتوں کے مکمل لاک ڈاؤن کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ کرونا کے تیزی سے پھیلنے کے خلاف اس سے بہتر تیر بہدف نسخہ کوئی اور ہو نہیں سکتا۔ ہمارے ترجیح اب ”سمارٹ لاک“ ڈاؤن ہے۔ جسے محدود پیمانے کا لاک ڈاؤن کہا جاتا ہے یعنی بازار اور کاروبار ایک طے کیے گے وقت تک جاری رہیں گے۔ کبھی دھوپ کبھی چھاؤں والا معاملہ۔ وزیراعظم بارہا اس بات کو دہرا چکے ہیں کہ مکمل لاک ڈاؤن کے ہم متحمل نہیں۔ عوام کرونا سے تو بچ جائیں گے مگر بھوک سے مر سکتے ہیں۔ یہ حکومتی سطح سے آنی والی ایک تجویز ہے۔ ظاہری سا بات ہے اگر لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جانا تو اس تجویز کا متبادل کیا ہے۔ کیونکہ کرونا کے کیسز تو قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ اور بقول وزیر صحت پنجاب اس شرح کے بڑھنے کی وجہ عوام کا احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنا ہے۔
ان نادان دوستوں کو کون سمجھائے کہ قوانین پر عمل کرانا ریاست اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس رویے کو اچھال کر کوئی بھی حکومت خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ یہ بھی سچ کہ عوام نے اس سطح کی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی کس بھی باشعور قوم سے توقع کی جا سکتی ہے۔
حکومتی سطح سے ہر روز بدلنے والی ”حکمت عملی“ سے حالات بے قابو ہو چکے ہیں۔ کنفیوژن ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اپنی صفوں سے کنفیوژن کو نکالنا پڑے گا ورنہ عوام پر احمد ندیم قاسمی والے ”زندگی کے دروازے“ بند ہوتے جائیں گے۔


