پی ٹی وی یتیم ہوگیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیکھتی آنکھو اور سنتے کانو! طارق عزیز ہم میں نہیں رہے۔ ایک دوست کی پوسٹ پر لگی یہ خبر میرے لیے قیامت سے کم نہ تھی۔ میری آنکھوں کے سامنے نوے کی دہائی کے اواخر کا وہ منظر گھوم گیا جب رنگین ٹی وی محلے کے بس ایک گھر میں ہوتا تھا اور جمعرات کی رات اس گھر میں رونق ہی رونق ہوتی تھی۔ شام سے ہی انٹینے کی سمت درست کرکے چینل کو ٹھیک سے ٹیون کر لیا جاتا تھا۔ بچے بوڑھے سب جوق در جوق ٹی وی کے آگے تماشائیوں کی طرح بیٹھ رہے ہوتے تھے۔ 9 بجے کا خبر نامہ بمشکل گزرتا تھا اور دس بج کر دو منٹ پر پی ٹی وی ہوم کی سکرین پر ایک زندگی سے بھرپور چہرہ ابھرتا تھا اور 14 انچ کے کلر ٹیلی وژن کے سپیکر سے ایک آواز آتی تھی

”دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے، آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید“
اور پھر اس رعب دار آواز والے طرحدار شخص کا ابتدائیہ گونجتا تھا
”ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے“

یہ وہ وقت تھا جب ہماری نسل ابھی بچپن میں تھی۔ بزم طارق عزیز پی ٹی وی کا ایسا پروگرام تھا جس کو نوے سال کے بوڑھوں سے لے کر ناسمجھ بچے تک، سب دیکھتے تھے۔ اس میں ہر شخص کی تفریح اور تربیت کے لیے مواد موجود تھا۔ ۔ ۔ طارق عزیز کی گرجدار آواز میں ہر جملہ پراثر ہوتا تھا۔ ان کے شعر پڑھنے کے انداز نے ہم جیسوں کے ادبی ذوق کی ابتدا کی۔ ان کے کیے گئے سوالات نے ہمارے جنرل نالج کو مضبوط کیا اور ان کی متانت اور شگفتگی بھری شخصیت نے ہمیں کامیاب انسان کی تعریف مرتب کرنے میں مدد کی۔ ۔ ۔

غرض یہ کہ طارق عزیز ایک دبستان تھے۔ وہ بیک وقت ایک بلا کے مقرر اور خطیب، اعلی پائے کے اینکر، قادرالکلام شاعر، بہترین سیاستدان، اولی العزم دانشور اور مفکر اور شاندار معلم تھے۔ انہوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر وہ مقام حاصل کیا جو پاکستان میں بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا ہے۔ وہ پاکستان ٹیلی وژن پر نظر آنے والے پہلے شخص تھے اور تادم آخر وہ پی ٹی وی سے ہی وابستہ رہے۔ بطور سیاستدان وہ لاہور سے عمران خان کو ہرا کر ایم این اے بھی منتخب ہوئے اور ہمیشہ انقلاب پسندوں کی اگلی صف میں رہے۔ وہ ہر شعبہ زندگی کے لوگوں کے لیے ایک مثال رہے۔ المختصر یہ کہ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی بھر نہیں پائے گا اور زمانہ ہمیشہ ان کی مثالیں دے گا۔

یہ عظیم شخص 17 جون 2020 کو 84 سال کی عمر میں اس دنیا سے چلا گیا مگر پاکستان میں ٹیلی وژن کی تاریخ کا ایک سنہری باب مرتب کر گیا جس کو کوئی فراموش نہیں کرپائے گا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply