تبلیغ پر جزوی پابندی – ایک اچھا اقدام


\"wisi

دہشت گرد ہماری اقدار پر حملہ آور ہیں۔ ہمارے معاشرے میں قبائلی اور ذاتی دشمنیوں کی ایک قدیم روایت موجود رہی ہے۔ بدترین حالات میں بھی جب بات قتل و غارت تک پہنچ جایا کرتی تھی تب بھی جنون کی کیفیت میں کچھ باتوں کا خیال رہا کرتا تھا۔ عورتوں بچوں پر ہاتھ اٹھانے سے انہیں نقصان پہنچانے سے گریز ہی کیا جاتا تھا۔

اس دھرتی پر مختلف الخیال لوگ جن کے مذہب مسلک مختلف تھے آپس میں رواداری سے رہتے آئے ہیں۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری شدت پسندی کی لہر نے ہمارے تمام روایتی اداروں جو امن کی علامت ہوا کرتے تھے ان کو مسمار کر کے رکھ دیا ہے۔ قبائلی علاقے کے ملک امن کی ضمانت ہوا کرتے تھے، وہ سینکڑوں کی تعداد میں مارے گئے۔ بازاروں سکولوں میں بچوں عورتوں کو بے دریغ نشانہ بنایا گیا۔

عدالتوں کے اندر باہر دھماکے ہوئے، شدت پسندی کی راہ میں کھڑے ہونے والے علما کو چن چن کر مارا گیا۔ سیاسی قیادت ٹارگٹ ہوئی۔ منتخب نمائندوں کو مارا گیا۔ سکولوں کو اڑایا گیا مساجد میں دھماکے ہوئے۔ اقلیتی مذہبی فرقوں کو لگاتار اس طرح ٹارگٹ کیا گیا کہ ان کا اعتبار اکثریتی آبادی پر، معاشرے پر، ریاست پر، متزلزل ہو گیا۔

تیراہ خیبر ایجنسی میں رہنے والے سکھ جو اتنے محفوظ تھے کہ علاقائی رواج مطابق اسلحہ تک نہیں پھراتے تھے۔ ان کی حفاظت کا زمہ دار ان کا میزبان قبیلہ ہوتا تھا۔ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ کسی اقلیتی فرد کو نقصان پہنچا کر بچ نکلا جائے۔ اقلیتی آبادی کے فرد کو نقصان پہنچانا بے غیرتی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن یہ سب قصہ ماضی ہوا وہ سب علاقہ چھوڑ کر دربدر ہوئے بیٹھے ہیں۔

پاکستان کے ایک کونے سے دوسرے تک روایات کو، جو ہماری پہچان تھیں، نقصان پہنچا ہے۔ آج جو سیکیورٹی وارننگ جاری کی جا رہی ہیں اس میں رنگ نسل فرقہ بتا کر کہا جا رہا کہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں، انہیں ملازم نہ رکھیں، یہ آس پاس رہنے آئیں تو محتاط رہیں۔ لوگوں کو پوری بات بتائی نہیں جا رہی جس کی وجہ سے حالات بارے عوامی جانکاری مناسب معیار پر نہیں ہے۔

تبلیغی جماعت شروع کرنے والے بزرگوں نے اپنا لائحہ عمل اتنا سوچ سمجھ کر ترتیب دیا تھا، اتنا بے ضرر رکھا تھا، کہ نہ انگریز کو ان سے کبھی کوئی مسئلہ ہوا، نہ قیام پاکستان کے بعد یہ کبھی بھی کہیں بھی کسی شر کا حصہ بنے محسوس ہوئے۔ آج صورتحال بدل چکی ہے کئی واقعات ہیں جب تبلیغیوں کا بھیس بنائے دہشت گردوں نے کاروائیاں کیں، پکڑے بھی گئے کامیاب بھی رہے۔

ہماری ریاست جنگی حالات پیدا کئے بغیر نارمل حالات برقرار رکھتے ہوئے ایک تھکا دینے والی جنگ لڑ رہی ہے۔ ملک میں ہنگامی حالات کا نفاذ نہیں کیا گیا۔ بنیادی حقوق بحال ہیں۔ میڈیا آزاد اور عدالتیں پوری طرح سرگرم ہیں۔ جمہوری حکومت کی وجہ سے فیصلے تاخیر سے ہوتے ہیں ان پر عملدرامد میں سستی بھی ہوتی ہے۔ لوگ جو پوری بات نہیں جاتے وہ اپنا ردعمل دیتے ہیں اکثر یہ ردعمل سیکیورٹی اقدامات کو ہی غیر موثر کر دیتا ہے۔

مسئلہ تبلغی جماعت ہرگز نہیں ہے، نہ ہی وہ ٹارگٹ ہیں۔ مسئلہ ہم سب ہیں جن کی آڑ لے کر دہشت گرد اپنا کام کر گزرتے ہیں۔ ہم تب یہ سب سمجھنے میں ناکام رہے جب آغاز ہوا تھا۔ اب ہمیں اپنی آزادیوں پر سمجھوتے برداشت کرنے ہیں اور خود کو حالات مطابق ڈھالنا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 404 posts and counting.See all posts by wisi

Subscribe
Notify of
guest
5 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments