آن لائن تعلیم اور زمینی حقائق
کرونا وائرس نے جہاں دنیا کو اپنے لپیٹ میں لے لیا، وہاں پاکستان میں دیگر شعبہ جات کی طرح شعبہ تعلیم بھی متاثر ہوا۔ دو ماہ لاک ڈاؤن کر کے سالانہ تعطیلات قبل از وقت کر دیا گیا، مگر اب حالات کے پیش نظر پورا نظام متاثر ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آن لائن تعلیمی سسٹم فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مگر زمینی حقائق کے پیش نظر یہ فیصلہ بہت سے سوالات کا باعث ہے۔ ایک طرف طلبہ کا پورا سیشن متاثر ہونے کا خدشہ ہے، تو دوسری طرف انٹرنیٹ، بجلی اور غربت کے مسائل نے طلباء کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کر دیا ہے۔
آن لائن صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ ہرشعبہ اب آن لائن ہورہا ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد اب یہ ورچوئل انقلاب یعنی ہر چیز کی انٹرنیٹ پر منتقلی کا رجحان اس وقت عملاً قائم ہورہا ہے۔ اس صورتحال میں ہمیں یقیناً ٹیکنالاجی سے فائدہ اٹھا کر مستقبل بچانا چاہیے لیکن جس طرح سے حکومت آن لائن کلاسز اور امتحانات شروع کر رہی ہے، کیا اسے مستقبل بچے گا یا مزید پسماندہ ہوگا؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں :
پاکستان کا چونسٹھ فیصد رقبہ اب بھی دیہات (رورل ایریا) میں شمار کیا جاتا ہے جہاں بجلی کی یا تو باقاعدہ فراہمی نھیں۔ اگر بجلی ہے تو لوڈشیڈنگ سمیت مختلف مسائل کے سبب بہت کم ہی میسر ہے۔ اس وقت جبکہ دنیا انٹرنیٹ کی ففتھ جنریشن میں چل رہی ہے۔ پاکستان کی دیہات میں ابھی بھی اکثر تھری جی بھی مشکل سے چلتی ہے۔ پھر پاکستان کی بڑی آبادی جوکہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے، لاک ڈاؤن سے پہلے ہی کافی متاثر بے۔ کیا وہ آن لائن کلاسز کے لیے نیٹورک اور ٹیکنالاجی کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟
اس ساری صورتحال میں کیا آن لائن کلاسز موثر رہیں گے؟ کیا طلباء کا آدھے سے زیادہ طبقہ اس سسٹم میں تعلیم سے محرومی کا سامنا نہیں کرے گا؟
وزات تعلیم اور دیگر حکام کو ان مسائل و مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ان کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں :
چھوٹے بچوں کے لیے ہمارے ہاں آن لائن تعلیم تقریباً ناممکن ہے۔ نہ وہ سمجھ سکتے ہیں، نہ والدین ٹیکنالاجی افورڈ کر سکتے ہیں۔ پھر پرائمری اسکولز تقریباً ہر محلے، گاؤں میں موجود ہیں، اس لیے ٹرانسپورٹ کا بھی زیادہ مسئلہ نھیں۔ ان حالات میں بہتر یہ ہے کہ پرائمری، ایلیمینٹری لیول تک کے اسکولز ایس او پیز بنا کر کھول دیے جائیں۔ ہر تعلقہ ایجوکیشن افسر کو اختیار دینا چاہیے کہ وہ اپنے تعلقہ میں وبا کی صورتحال کو سامنے رکھ کر ڈاکٹرز کی مشاورت سے ایس او پیز طے کریں۔ اسکول کی مقامی کمیونٹی میمبرز مل کر محلے کی ایک، دو دیگر عمارتوں میں کلاسز تقسیم کر لیں تاکہ سماجی مفاصلہ کے ساتھ تعلیم جاری رہ سکے۔
نویں سے انٹر تک کی تعلیم کے لیے ہر اسکول، کالج انتظامیہ کی طرف سے بذریعہ واٹس اپ گروپس یا ملکی لیول پر ٹیلیویزن کے ذریعے تعلیم دی جاسکتی ہے، اور اس طرح بذریعہ فون یا وائس میسیج آن لائن امتحان بھی لیا جاسکتا ہے۔
یونیورسٹی لیول کے لیے آن لائن تعلیم موثر ہے، لیکن اس کے لیے مکمل سہولیات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو پہلے مرحلے میں فری اسٹوڈنٹ بنڈل کا اجراء کرنا ہوگا، تاکہ طلبہ مہنگے پیکیجز سے بچ سکیں۔ دوسرے نمبر پر نیٹورک کمپنیز سے معاملہ طے کرکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر علاقہ میں انٹرنیٹ کنیکشن بلاطعطل آن رہے۔ سگنلز کے مسائل کے سبب نہ کسی کی کلاس مس ہو، نہ کسی کو دھوپ میں میدانوں کے چکر لگانے پڑیں۔ تیسر نمبر پر آئی ٹی کے ماہرین کی مشاورت سے ایسی اپلیکیشن متعارف کرائی جائے کہ طلباء بغیر کسی مشکل کے مواد حاصل کرسکیں، زوم ایپ کی کلاسز پر طلبہ مطمئن نھیں۔
امتحانات کا مسئلہ بھی سنجیدہ اور حل طلب ہے۔ آٹھویں کلاس تک کے بچوں کو پروموٹ کیا جاسکتا ہے یا ایس او پیز کے تحت امتحان بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم نویں سے بارہویں تک تعلیم کا وہ موڑ ہے، جہاں ذراسی غفلت اعلیٰ تعلیم میں رکاوٹ کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے اس بارے میں خصوصی طور پر سنجیدگی کی ضرورت ہے۔
بہتر ہے کہ ان طلباء کو اگلے سال مشترکہ امتحان میں شریک کر لیا جائے، تاکہ ان کی مارکس وغیرہ بھی متاثر نہ ہوں اور وہ وقت ضائع کیے بغیر انٹر پاس کرجائیں۔ جو بچے امپروو کرنا چاہتے ہیں، ان کی تعداد تھوڑی ہوگی اور ان کے لیے اسپیشل امتحان یا آن لائن امتحان کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔
یونیورسٹیز کے طلباء کی آن لائن اسائنمینٹ کے ذریعے مارکنگ و گریڈنگ مناسب رہے گی۔ بہتر ہے کہ ان کو سبجیکٹس کے پی ڈی ایف فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ آسانی سے سیلف اسٹڈی کر سکیں۔
یہ کچھ تجاویز شعبہ تعلیم کے طالب علم کی حیثیت سے پیش کی ہیں، مزید اس پہ منسٹری آف ایجوکیشن کے میمران اور سینیئر اساتذہ و دیگر تعلیمی افسر ز غور و خوض کر کے بہتری لاسکتے ہیں۔
آخر میں اتنی گزارش ہوگی کہ خدارا تعلیم کا مسئلہ ملک کے مستقبل کا مسئلہ ہے، اس میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی کا یہ ملک متحمل نھیں۔ اس پہ پلاننگ سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔


