خیریت پوچھو، کبھی تو کیفیت پوچھو۔ ۔ ۔



ہم اپنے آس پاس کئی لوگوں کو یہ کہہ کر نظرانداز کردیتے ہیں اسے چھوڑو! اسے تو رونے کی عادت ہے

”ہمارے ہاں ذہنی مسائل پر بات کرنا نہ صرف معیوب سمجھا جا تا ہے بلکہ ان کے بارے میں عجیب غلط فہمیاں بھی جاتی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے فیس بک پر کسی نے پوسٹ لگائی،“ ڈپریشن کو ایک لفظ میں بیان کریں ”نیچے کمنٹس میں سیکڑوں لوگوں نے اسے ناشکرے پن سے جوڑا، حقیقت میں بھی ایسا ہی ہو تا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں مذہب سے دوری، اعمال کی خرابی ذہنی تناؤ کا باعث بن رہی ہے، اس مریض کو مشورہ دیا جاتا ہے کوئی بات نہیں، خوش رہنے کی کوشش کیاکرو۔“ مجھے بتائیے کیا جب کوئی شخص بلڈ پریشر یا شوگر میں مبتلا ہو تا ہے تو اس کی وجہ ناشکراپن ہو تا ہے؟ کیا اس مریض کا دوائیوں سے علاج نہیں کیا جا تا تو پھر ڈپریشن کا مریض کیسے محض خوش رہنے کی کوشش کرنے سے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ ”

میرے دفتر میں ایک خاتون تھیں، کافی ہنس مکھ اور خوش باش نظر آتیں۔ لیکن ایک دن میں نے انہیں دفتر کے واش روم میں پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھا۔ انہیں میرے سامنے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے اس لئے میں دروازے ہی سے پلٹ آئی۔ پھر کچھ دن میں نے انہیں ویسے ہی ہنستے مسکراتے دیکھا۔ عموماً دفاتر میں کام کرنے والی خواتین وقت پر دفتر پہنچنے کے لئے گھر سے تیار ہو کر نہیں آتیں بلکہ دفتر کے کامن روم میں تیار ہوتی ہیں اور میری تو تمام دوستیاں صبح کی اس ملاقات کی بنا پر ہی ہوتی ہیں، وہ بھی مجھے وہیں ملتیں، اب ہماری بات چیت ہونے لگی تھی اور ہم دونوں اپنی میک اپ ٹپس ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے لگی تھیں۔ دو دن وہ دفتر نہیں آئیں اور تیسرے دن صبح ہی ان سے ٹکراؤ ہو گیا، چہرہ زرد، بال خستہ، کامن روم میں آئیں، چہرے پر پانی کے چھینٹے مار ے اورچل دیں۔ میں نے انہیں کہا، آج میک اپ نہیں کریں گی؟ منہ سے وہ کچھ نہیں بولیں، لیکن ان کی لال لال آنکھیں دیکھ کر میں چپ ہو گئی۔

ایک دن وہ میرے ڈیپارٹمنٹ میں آئیں انہوں نے مجھے بتا یا کس طرح ان کی پہلی شادی ناکام ہو ئی، اور اب انہوں نے دوسری شادی ایسے مرد سے کی ہے جو پہلے سے بیوی بچوں والا ہے۔ وہ بھی ویک اینڈ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ گزارتا ہے، کچھ عرصے سے ا سکے ساتھ بھی ان بن رہنے لگی ہے۔ دفتر میں تو کسی طرح وقت گزر جا تا ہے لیکن تنہا گھر میں انہیں ڈپریشن ہونے لگتا ہے۔ پھر آس پاس کے لوگوں کی باتیں بھی جلتی پر تیل کا کام کر تی ہیں کہ میں نے شادی کر کے کسی کا ہنستا بستا گھر خراب کر دیا ہے۔

وہ بے چاری مکمل ڈپریشن کی مریضہ بن چکی تھیں، حتیٰ کہ انہیں ڈپریشن کی گولیاں کھانی پڑتی تھیں۔ دفتر میں ان کے بارے چہ مگوئیاں بھی سننے کو ملتیں کہ اسے تو ہر تیسرے دن ڈرامہ کرکے رونے دھونے کی عادت ہے۔ لیکن ایک تنہا عورت کیسی یاسیت میں زندگی گزار رہی تھی یہ کبھی کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ خیر جب انہوں نے مجھے اپنی کہانی سنائی تو میں بھی سمجھ نہیں پائی کہ انہیں کیا مشورہ دوں یا ان کی تسلی کے لئے کیا کہوں!

البتہ میں نے خاموشی سے ان کی پوری بات سنی، اٹھتے ہوئے انہوں نے کہا میں نے کبھی کسی سے اپنے دل کی بات نہیں کی لیکن آج آپ سے بات کرکے میں قدرے ہلکا پھلکا محسوس کررہی ہوں۔ میں نے ان کا ہاتھ تھام کر کہا کسی بھی وقت آپ کو لگے کسی سے بات کرنی چاہیے تو میں حاضر ہوں، دفتر میں نہ سہی آپ چاہیں تو گھر جا کر کال بھی کر سکتی ہیں۔

بعض اوقات یہ کیفیت مجھ پر بھی چھا جا تی ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ زندگی کس ڈگر پر چل رہی ہے، ہرراستہ بند دکھا ئی دیتا ہے، بے بسی، مایوسی، غصہ، خوف، بے چینی، تاسف اور اداسی سب کچھ آپس میں گڈ مڈ ہونے لگتا ہے، سانس رکنے لگتا ہے اور دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔ مجھے پتہ ہے یہ سب محسوس کرنا کسی بھی انسان کے لئے عام سی بات ہے۔ لیکن جب یہ سب معمول سے زیادہ ہونے لگے تونہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ آس پاس خصوصاً آپ کے قریبی لوگ بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم کسی کو ذہنی تناؤ میں دیکھ کر یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کسی بھی وقت اپنے دل کی بات کہنا چاہوتو میں حاضر ہوں، لیکن وہ سننے کے لئے ہمیں کیسا طرز عمل اپنانا چاہیے، یہ جاننا اہم ہے۔

تو اگر آپ بھی اپنے کسی عزیز کو ذہنی تناؤ میں گھرا ہوا دیکھ کر کڑھتے ہیں اور نہیں جانتے کہ بات کا آغاز کیسے کیا جا ئے تو یہ ذہن نشین کر لیجیے کہ ایسے دکھی انسان کو مشورے کی بجائے اپنی سنانے کے لئے محض کسی دوسرے انسان کی ضرورت ہو تی ہے۔ آپ کو ان کا مسئلہ حل نہیں کرنا، بلکہ صرف انہیں سننا ہے۔ آپ وجوہات کو کریدنے کی بجائے، اس سے کہیں کہ وہ اپنی کیفیت بیان کرتا رہے۔ عموماً جو لوگ ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں وہ نہ صرف تنہائی محسوس کرتے ہیں بلکہ خود کو دوسروں سے الگ تھلگ سمجھنے بھی لگتے ہیں، انہیں تنہامت چھوڑیں بلکہ وقتاً فوقتاً ان سے رابطہ رکھنے کی کوشش کرتے رہیں۔

میری ایک بہت قریبی دوست کو معلوم ہے جب میری یہ کیفیت ہوتی ہے، تو وہ میرے ساتھ مسلسل رابطہ بنا ئے رکھتی ہے، یوں مجھے بھی تسلی رہتی ہے کہ میں تنہا نہیں ہوں بلکہ میری فکر کے لئے کوئی نہ کوئی موجود ہے۔ البتہ میری اپنی بہن میری حالت دیکھ کر کچھ ایسے مشورے دیتی ہے

سب پر مشکل وقت آتا ہے، جانے بھی دو
ارے کبھی اچھا بھی سوچ لیا کرو
تمہاری زندگی میں اتنا سب کچھ تو اچھا چل رہا ہے، لیکن تمہیں ایک ہی بات کا رونا ہے
بس کرو، نکل آؤ اب اس سے
ناشکراپن مت کیا کرو۔

Facebook Comments HS