وزیرستان: دہشت گردوں سے جھڑپ میں پاکستانی فوج کے کیپٹن سمیت دو فوجی ہلاک، دو زخمی ہو گئے


پاک افغان

پاکستان میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ضلعوں کی سرحد پر غوریم کے قصبے سے پانچ کلو میٹر جنوب مشرق میں سکیورٹی فورسز کے ایک گشتی دستے پر دہشت گردوں‘ کی فائرنگ سے پاکستانی فوج کے ایک کپتان سمیت دو فوجی ہلاک جبکہ دو جوان زخمی ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ میں ایک تیرہ سالہ بچی ہلاک جبکہ اس کی والدہ اور اس کا بھائی زخمی ہو گئے ہیں۔

ان دونوں واقعات کی تفصیلات پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اتوار کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہیں۔

آئی ایس پی آر کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان ضلعوں کی سرحد پر دہشت گردوں کے حملے کے جواب میں کی جانے والی کارروائی میں ایک دہشت گرد بھی ہلاک ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

شدت پسند پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دوبارہ اکٹھے ہو رہے ہیں؟

پاکستان فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ، دو اہلکار زخمی

وزیرستان اور تربت میں حملے، افسر سمیت دس ہلاک

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد علاقے میں تلاشی کے دوران دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا علم ہوا جسے تباہ کر دیا گیا۔

دہشت گردوں سے ہوئے تصادم میں ہلاک ہونے والے کپتان کی شناخت صبیح اور سپاہی کی شناخت نوید کے نام سے کر دی گئی ہے۔

لائن آف کنٹرول پر پیش آنے والے واقعے کے بارے میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ انڈین فوج نے گزشتہ رات حاجی پیر اور بدوری سیکٹروں میں بلا اشتعمال فائرنگ شروع کر دی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کے بقول بدوری سیکٹر کے مینسر گاؤں میں انڈین فوج کی بے دریغ فائرنگ سے ایک تیرہ سالہ بچی اقرا شبیر ہلاک اور ان کی والدہ اور بارہ برس کا بھائی زخمی ہو گئے۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان فوج نے انڈین فوج کی بلااشتعال فائرنگ کا مؤثر جواب دیا۔

واضح رہے کہ لائن آف کنٹرول پر اس سال جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp