بنا ہے شہ کا مصاحب
ہم سب خود غرض ہیں، انسانی حقوق کے نام پر بھی کیے جانے والے کام میں پیسہ بھی حاصل ہوتا ہے اور خدا کی رضا حاصل کرنے کا مقصد بھی پورا ہوجاتا ہے۔ حتی کہ والدین بھی بچوں کی پرورش اور ان کے مستقبل کو روشن کرنے میں جو جتن کرتے ہیں اس کے پیچھے بھی اپنا بڑھاپا اچھا گزارنے کی غرض چھپی ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ان بچوں کو برا بھلا کیوں کہا جاتا ہے جو بڑھاپے میں والدین کی بہتر دیکھ بھال نہیں کرتے۔ چلیں اسے حقوق اور فرائض کا نام دے لیجیے، کچھ بھی کہہ لیں، یہی دنیا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔
ہو سکتا ہے کہ کہیں کوئی فرشتے موجود ہوں جو یہ دعوی کریں کہ ہم یہ سب کچھ کسی غرض کے بغیر کر رہے ہیں۔ انسان پیدائشی طور پر ایک جیسے پید ا ہوتے ہیں، جنس، رنگت، ثقافت، مذہب یا مختلف خطوں میں پیداہونے کے باوجود بھی ان کی صلاحیت ایک جیسی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے معاشرے میں سیکھنے اور موجود مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کے یکساں مواقع حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں اور پھر معاشرے میں ترقی اور تخلیق میں اپنا حصہ ڈالنے کا بھی برابری کا حق حاصل ہے۔
تقسیم ہند سے پہلے ہمارے معاشرے میں ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم موجود تھی اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اس تقسیم کی بنیاد پر انسانوں نے دوسرے انسانوں پر ظلم کیے۔ پیدائش کی شناخت کی بنیاد پر انسانوں کی درجہ بندی کی گئی او ر یوں مراعات اور حقوق اور فرائض کی ادائیگی میں امتیاز ی سلوک کیا گیا۔ تقسیم کے بعد جو لوگ اختیارات پر قبضہ کرچکے تھے انہیں وسائل کی تقسیم گوارا نہ تھی لہذا مذہبی عقیدے کی بنیاد پر خود کو منتخب گروہ قرار دیتے ہوئے وسائل پر قابض ہو گئے۔
یہاں تک کہ اکثریت یا اختیارات کی بنیاد پر اقلیتی دستیاب وسائل کو بھی قومی تحویل میں لے لیا گیا۔ جنس، رنگ ونسل اور عقیدے کی بنیاد پر امتیاز، استحصال، تشدد، عصمت دری اور جبری تبدیلی مذہب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال مزید تشویش ناک ہوتی چلی گئی۔ ملکی اعلی عہدوں پر مذہب یا فرقے کی بنیاد پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سے لے کر فیصلہ سازی میں شمولیت محدود کردی گئی۔ ستم تو یہ ہوا کہ اقلیتوں میں موجود چند مفاد پرستوں وقتی مفاد کی خاطر انہی فیصلوں پر آمین کہا اور یوں اپنے ہی لوگوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر آنکھیں بند کر لیں۔
اقلیتی اداروں کو قومیائے جانے کے بعد جو کچھ بچ گیا تھا اسے نوسربازوں کے ٹولے نے یکے بعد دیگرے بیچنا شروع کر دیا اور دستیاب وسائل پر چند خاندان قابض ہو گئے۔ مشنری اداروں میں خدا کے خادموں کی شکل میں قبضہ مافیا اور مفاد پرستوں گروہوں نے قبضہ کر لیا اور ”ارشاد اعظم“ کی تکمیل کی بجائے مشنریوں نے ہر جائز ناجائز طریقے سے پیسے کے پیچھے دوڑ شروع کردی۔ صحت اور تعلیم کے اداروں کے اہدا ف خدمت اور غریب پرور کی بجائے لالچ بن گیا۔
خادمین دین، خدمت کرنے کی بجائے، باس بن کر بیٹھ گئے اور ہم خیال / مفاد پرست خاندانوں کو ساتھ ملا کر وسائل پر قبضہ کر لیا گیا۔ سیاست میں عام آدمی کے معیار زندگی میں بہتری کے لئے کوشش کرنے کی بجائے اپنی کرسی بچانے کے لئے ہرطرح کے حربے استعمال کیے گئے اور وقت اور تسکین پوری ہونے کے بعد بیرون ملک پناہ لینے میں غنیمت جانی۔ نتیجہ گاؤں کا غریب ہاری اور کچی بستیوں میں رہنے والوں کے بچوں کی زندگیاں اجیرن ہو گئی اور ایک اچھے مستقبل کے خواب محض خواب بن کر رہ گئے۔
آج جہاں ہم اکثریت کو اقلیتوں کی محرومیوں کا دوشی ٹھہراتے ہیں وہیں اقلیتوں کے مذہبی، سیاسی اور سماجی ادارے بھی اتنے ہی گناہ گار ہیں جتنا کوئی دوسرا۔ 2020 کے اوائل سے لے کر اب تک کرونا جیسی مہلک وبا انسانی جانوں کے درپے ہے۔ دنیاکی طرح پاکستان میں کاروبار سکڑرہے ہیں، کروڑوں پرائیویٹ ملازمین نوکریوں سے فارغ ہو کر گھروں میں بیٹھے ہیں، سرکاری ملازمین کے لیے کم از کم یہ تسلی تو ہے کہ ہرماہ تنخواہ مل جائے گا اور یہی حال پنشنرز کا بھی ہے۔
کیا ہوا اگر اس بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا، زندہ رہے تو آئندہ تنخواہ بھی بڑھ جائے گی۔ اب سوچتا ہوں کہ ہمارے ہاں سرکاری نوکری کو کیوں اتنی اہمیت دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا غریب کا یونہی استحصال ہوتا رہے گا؟ کیا مشنری تعلیمی اداروں میں عام مسیحی کے بچوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے؟ کیا چند مخصوص خاندان اور گروہ مشنری اداروں پر قابض رہیں گے؟ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جہاں عام آدمی کے ہاتھ میں جدید ڈیوائس ہے جس پر پوری دنیا سمٹ کر عام آدمی کے ہاتھ میں موجود ہے۔
ایسے میں کیا مشکل ہے کہ ایسے ناپسندیدہ عناصر کے خلاف ایک کیمپین شروع کی جائے اور جہاں ملک بھر میں احتساب کی فضا قائم ہے تو ایسے تما م بشپ، پادری صاحبان، سیاستدان اور سماجی کارکنان جنہوں نے غریب کے نام کو بیچ کر ان کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے، انہیں بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ لیکن شاید ایسا نہیں ہوگا، کیونکہ ہم سب خو د غرض ہیں اور اپنے چھوٹے اور ذاتی مفاد کے لئے ہم ایسا نہیں کریں گے اور اگر کچھ لوگ بولنا شروع بھی کر دیں تو یہ نعرے صرف سوشل میڈیا کی حد تک محدود رہیں گے۔ اور پھر کوئی راہنما کسی پروگرام میں بیٹھ کر ”سب کچھ ٹھیک اور قواعد وضوابط“ کے مطابق ہورہا کے نعرے لگا رہا ہوگا اور دوسرا یہ کہے گا کہ جبری تبدیلی مذہب کی وجہ غربت نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا مذہبی رہنماؤں کے قول و فعل میں تضاد نہیں؟
بنا ہے شہ کا مصاحب کہ پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے


