آہ! میری لاڈلی بہن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کس قدر بے اعتبار شے ہے، اس کا اندازہ کرونائی عہد میں زیادہ شدت سے ہوا۔ صبح سے شام تک موت کی خبریں سنتے ہوئے اس قدر خوف زدہ اور ڈپریشن کا شکار ہو چکا ہوں کہ اب تو معمولی سے طبیعت کی خرابی پہ بھی یہی گماں ہونے لگتا ہے کہ بس اب جانے کا وقت آ پہنچا۔ اس عجیب و غریب کیفیت میں انسان نہ تو کوئی خوشی ٹھیک سے انجوائے کر پا رہا ہے اور نہ ہی غم کا ماتم۔ جون کا آغاز ہوا اور شروع کے پندرہ دنوں میں پچیس کے قریب اموات دیکھی اور سنی اور ان میں زیادہ تر لوگ جاننے والے تھے یا کہ عزیز و اقارب۔

اسی دوران ایک اہم ترین حادثہ میری بڑی ہمشیرہ کی وفات کا بھی ہوا جو گزشتہ ایک برس سے دل کے عارضے میں مبتلا تھیں اور یہ عارضہ جان لیوا ثابت ہوا۔ پندرہ جون کی صبح گیارہ بجے ان کی حالت خراب ہوئی، جس پر ہسپتال لے جایا گیا مگر شاید وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی داعی اجل کی آواز پر دائمی منزل کا سفر اختیار کر چکی تھی۔ کتنی تکلیف اور اذیت بھرا وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ اپنے کسی بھائی یا بہن یا کسی بھی ایسے عزیز کو منوں مٹی میں رکھ کر آرہے ہوتے ہیں جس کے ساتھ آپ نے زندگی کے پچیس سے تیس سال گزارے ہوں۔

ایسا ہی لمحہ تھا جب میں اپنی بہن کے جنازے کو کندھا دے رہا تھا، اسے اپنے ہی ہاتھوں سے قبر میں اتار کر اسے ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ رہا تھا، یقین جانیے وہ لمحہ شاید زندگی کا سب سے بھاری لمحہ تھا۔ کیا کہا جائے، خدا کے فیصلوں کے سامنے سرنڈر کرنا ہی مسلمان کا شیوہ ہے اور میں اور میرے اہل خانہ نے خدا کے اتنے بڑے اور سخت ترین فیصلے پر سر تسلیم خم کر لیا لیکن دل ہے کہ اس بات کو ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ہماری وہ بہن جو سب سے زیادہ بہادر اور ذہین تھیں، اس دنیا سے کوچ کر چکی۔

کہتے ہیں اچھے لوگوں کی اوپر بھی ضرورت ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ پینتیس سال کی عمر جو یقیناً کوئی زیادہ عمر نہیں، ہارٹ اٹیک سے وہ چل بسی اور اپنے پیچھے تین بیٹیاں اپنی نشانی کے طور پر چھوڑ گئیں۔ زندگی کتنی طویل اور کٹھن ہوتی ہے اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ جن تین بیٹیوں کو وہ ظالم دنیا کے حوالے کر کے چل بسی، کیا وہ اس دنیا میں ماں جیسی عظیم ترین ہستی کے بغیر زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہو سکیں گی یا کیا وہ تکلیف دہ مراحل میں ماں کی کمی کے دکھ کو برداشت کر سکیں گی، یقیناً بالکل نہیں۔

میں آج ایک ہفتے بعد سنبھل سکا ہوں، تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ دنیا بھر سے سوشل میڈیا اور کالز کے ذریعے تعزیتی پیغامات موصول ہوتے رہے مگر میں اپنی تکلیف کی وجہ سے کسی بھی دوست کو جواب نہ دے سکا لیکن میں سب کا شکر گزار ہوں کہ مجھے اس مصیبت کی گھڑی میں آپ دوستوں نے اکیلا نہیں ہونے دیا اور مسلسل رابطے میں رہے۔ یہ نقصان ایسا حادثہ ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا کیونکہ بیٹیوں کو نہ دوبارہ ماں مل سکتی ہے اور ہمیں نہ بہن۔

اگرچہ کسی بھی رشتے کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا لیکن ماں اور بہن کا تعلق ہی ایسا ہوتا ہے کہ جس کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے اور جن کی کمی ہمیں ادھ موا کر دیتی ہے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ زندگی میں کئی ایسے مقامات آئے جب میرے ساتھ کوئی کھڑا ہونے والا نہیں تھا، مگر میری اسی مرحومہ بہن نے میرا ساتھ دیا۔ ایک سال بیماری سے لڑتی رہی لیکن کبھی چہرے پر مایوسی نہ آئی، کبھی دوسروں کو مایوس نہ کیا بلکہ ہمیشہ یہی تاثر دیا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں اور موت میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ آخری روز بھی حسب معمول ناشتہ کیا، عیادت کرنے والوں سے باتیں کیں، انہیں زندگی کی رعنائیوں کا درس دیا اور طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال روانہ ہوتے ہوئے بھی سب سے سورۃ یٰسین پڑھنے کا درس دیتی ہوئے رخصت ہوئی اور واپس صرف اس کا جسد خاکی پہنچا۔

آج جب میں یہ کالم لکھنے بیٹھا تو زندگی کے پچیس سال میری نظروں کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ایک ایک واقعہ، ایک ایک لمحہ مجھے آنکھیں دکھا رہا ہے کہ مجھے بھی لکھو، میرا بھی ذکر کرو لیکن میری ہمت جواب دیتی جا رہی ہے۔ میں کسی بھی واقعے یا گزشتہ لمحے کو نہیں لکھنا چاہتا یا شاید میں لکھ نہیں سکتا کیونکہ میں یہ کالم نم آنکھوں سے لکھ رہے ہیں، لفظ میرے سامنے مختلف شکلیں اختیار کرتے جا رہے اور انگلیاں لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر چلنے کی بجائے میرے دل پر چل رہی ہیں۔

میں نے پہلے ذکر کیا کہ بہنوں کا نعم البدل نہیں ہوتا۔ جیسے بھائی بہنوں کا تاج ہوتے ہیں ایسے ہی بہنیں بھی بھائیوں کا مان ہوتی ہیں اور اگر ایسے اچانک عین جوانی میں وہ مان آپ سے رخصت ہو جائے تو زندگی واقعی تکلیف دہ ہوتی ہے۔ آج جب اس ہمشیرہ کی بیٹیاں آپس میں لڑائی جھگڑا کرتی ہوئی یہ کہتی ہیں کہ میں ماما کو شکایت کرنے جا رہی ہوں تو وہاں بیٹھے لوگ دھاڑیں مار کے رونے لگتے ہیں، ان ننھی پریوں کو کیا پتا کہ ماں تو اس دیس جا چکی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ہے۔

اس ایک ہفتے میں دلاسے اور صبر جیسے الفاظ اس قدر میری سماعتوں سے ٹکرائے کہ اب تو مجھے یہ الفاظ بے معنی سے لگنے لگے ہیں۔ صبر کہاں آتا ہے؟ حوصلہ کہاں ملتا ہے؟ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ورنہ دکھ تو نسلوں ساتھ چلتے ہیں، دکھ تو آپ کا پیچھا کرتے ہیں اور تب تک آپ کو نہیں چھوڑتے جب تک آپ کو بھی مار نہ دیں۔ اپنوں کی وفات پر صبر کا درس دینے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ دکھ لفظ ہی ایسا ہے جس نے مرتے دم تک آپ کے ساتھ چلنا ہے۔

یہ سچ ہے کہ وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے لیکن موت ایک ایسا زخم ہے جو وقت کی گرد میں دب تو جاتا ہے مگر کبھی بھرتا نہیں ہے۔ جب لوگ عین جوانی میں جائیں تو زخم بھرنے کا جواز ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں گزشتہ ایک ہفتے سے ایک ہی دعا کر رہا ہوں کہ خدا اس کی تین چھوٹی چھوٹی بیٹیوں کو تنہا نہ چھوڑے، ان کی کفالت ایسے لوگ کریں جو انہیں ماں کی کمی کم سے کم محسوس ہونے دیں۔ ان کی پڑھائی سے لے کر زندگی کے تمام معاملات اچھے طریقے سے طے ہوں اور وہ اپنی ماں کا نام ملک و قوم کی ترقی میں حصہ ڈال کر روشن کریں۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا:

ابھی جام عمر بھرا نہ تھا، کف دست ساقی چھلک پڑا
رہی دل کی دل ہی میں حسرتیں کہ نشاں قضا نے مٹا دیا
یا احمد مشتاق کا شعر دیکھیں :
رفتہ رفتہ تھم گیا مانوس آوازوں کا شور
دل میں یادیں، ڈائری میں فون نمبر رہ گئے
۔ ۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply