علامہ طالب جوہری بھی رخصت ہوئے


2020 ایک ایسا سال جس کی ابتداء ہی مایوس کن تھی اور ان گزرے چھ ماہ میں یہ سال جانے کتنے روشن چراغ گل کر گیا۔
کرونا نامی عالمی وبا سے شروع ہونے والا یہ سال ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا درد اور دکھ متعارف کروا رہا ہے۔ ایک ایسا زخم روز دے رہا ہے جس کا مداوا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا آہ کہ ہمارے آس پاس روشن کئی چراغ رفتہ رفتہ بجھ رہے ہیں اور ہم خاموش تماشائی قدرت کا یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

یہ کس قدر افسوسناک ہے کہ ہماری نم آنکھیں خشک نہیں ہوتیں کہ جدائی کا ایک نیا داغ دل کو رلا دیتا ہے۔ خاص طور پر ماہ جون کی ابتدا ہی ان تند آندھیوں سے ہوئی جو روز ایک روشن چراغ گل کر رہی ہیں جس سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں۔

ماہ جون میں اس آندھی کی زد میں آنے والا پہلا نام ہماری معروف اداکارہ صبیحہ بیگم کا تھا جو پاکستانی فلم انڈسٹری کی ایک تاریخ تھیں جن کے خاتمہ نے پاکستانی فلم انڈسٹری کو ایک عظیم ستارے سے محروم کر دیا۔

17 جون کی صبح کا سورج ایک اور داغ مفارقت دے گیا اور طارق عزیز جیسی عظیم ہستی ہم سے جدا ہوئی، طارق عزیز جو ایک دور تھے۔ ایک ہمہ جہت شخصیت، کمپئیر، اداکار اور صداکار، جن کے پروگرام نیلام گھر کو ایشیا کا طویل ترین کوئز پروگرام ہونے کا اعزاز حاصل تھا جسے دیکھ کر ہماری دو نسلیں جوان ہوئیں، اس نیلام گھر کے میزبان طارق عزیز کی وفات نے کئی آنکھوں کو اشکبار کیا اور ملک ایک عظیم اور علم دوست شخصیت سے محروم ہوگیا۔

20 جون 2020 معروف شاعر اور ماہر تعلیم منظر ایوبی سے جدائی کا دن ثابت ہوا، منظر ایوبی جو سندھ کی ایک عظیم تعلیمی شخصیت تھے۔ اپنے سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔
20 جون 2020 ہی شیخ الحدیث مفتی نعیم کو ہم سے جدا کر گیا۔ مفتی نعیم ایک عالم دین اور مدرسہ بنوریہ ٹاؤن کے منتظم اعلی تھے جن کی وفات یقیناً اہل دین کے لئے ایک عظیم نقصان ہے۔

ہمارے بچپن سے جڑی ایک اور علمی شخصیت علامہ طالب جوہری بھی 22 جون 2020 کو ہم سے جدا ہوئے جن کی مجالس پی ٹی وی سے نشر ہوا کرتی تھیں اور کسی بھی فرقہ سے بالاتر ہر شخص ان مجالس کو سنا کرتا تھا اور ہر دل میں مولانا صاحب کا احترام ہمیشہ موجود رہا۔

دعا ہے کہ اب یہ سال ہمیں مزید کوئی دکھ دیے بنا گزر جائے، وہ چراغ جو بجھ گئے ان کا مداوا ممکن نہیں، اور جو سرمایہ ہمارے پاس ہے۔ اس کے لئے اپنے رب سے دعاگو ہیں۔
اوڑھ کر مٹی کی چادر، بے نشان ہو جائیں گے۔
ایک دن آئے گا۔ ہم بھی داستان ہو جائیں گے۔

Facebook Comments HS