بی این پی کے تحریک انصاف کی حکومت سے الگ ہونے کی اندرونی کہانی


بلوچستان نیشنل پارٹی کی وفاقی حکومت سے علیحدگی کے بعد صوبہ میں سیاسی جوڑ توڑ شروع ہوگیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر جدوجہد کے لئے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس تناظر میں اسلام آباد میں جے یو آئی سربراہ نے بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے ملاقات کی ہے دیگر جماعتوں اور قوم پرستوں، رہنماؤں میں ملاقاتیں متوقع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں پارٹی پوزیشن کچھ اس طرح ہے۔

برسراقتدار پارٹی باپ کے 24 ارکان صوبائی اسمبلی ہیں جبکہ دوسری پارٹی جے یو آئی ہے جس کے ایم پی ایز کی تعداد 11 ہے۔ بی این پی مینگل کے پاس بھی 11 ایم پی اے ہیں۔ نواب اسلم رئیسانی بھی مینگل گروپ کے ساتھ ہیں اسی طرح جے یو آئی اور مینگل گروپ دونوں کے پاس گیارہ گیارہ ارکان اسمبلی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے اکلوتے ایم پی اے سابق وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری ہیں، حکومتی اتحادی ہزارہ ڈیموکریٹک الائنس اور اے این پی کے پاس چار، چار ارکان صوبائی اسمبلی ہیں۔

دونوں اتحادی بلوچستان حکومت بارے شدید تحفظات رکھتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے۔ دونوں جماعتیں کسی متوقع تبدیلی کی صورت میں اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ دینے کے لئے اس شرط پر تیار ہیں۔ موجودہ وزیراعلیٰ نے جو وعدے پورے نہیں کیے نئے سیٹ اپ میں انہیں پسند کی وزارتیں مل جائیں تو موجودہ حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحادی جماعت تحریک انصاف کے 7 ایم پی ایز میں سے 3 بغاوت کے لئے تیار ہیں۔

علاوہ ازیں بلوچستان عوامی پارٹی کے 24 ارکان میں چھے سات ارکان نے اپنا گروپ بنایا ہوا ہے۔ یہ ارکان وزیراعلیٰ سے ناراض ہیں، کسی تبدیلی کی صورت میں باپ میں ناراض گروپ کا کردار اہم ہوگا۔ بلوچستان میں حکومت سازی کے لئے 33 ارکان درکار ہوتے ہیں۔ اس وقت جے یو آئی 11، مینگل گروپ 11، ن لیگ ایک، مجموعی طور پر تعداد 23 بنتی ہے۔ اپوزیشن کو مزید دس ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ جس کے لئے حکومتی اتحادی جماعتوں میں نقب لگانا پڑے گی۔ جس کے لئے ناراض ارکان تیار ہیں۔ بہرحال فوری طور پر 10 ارکان کی حمایت اپوزیشن کے لئے مشکل ہوگی۔

بلوچستان میں تبدیلی مقتدر حلقوں کے سگنل کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر گرین سگنل مل گیا تو پھر 10 ارکان کی اپوزیشن کو حمایت حاصل ہونے کے لئے چند گھنٹے ہی کافی ہوں گے۔ اس وقت کی صورت حال میں وزیر اعلیٰ جام کمال مضبوط پوزیشن پر ہیں تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی فوری تبدیلی کے امکانات نہیں ہیں۔

بی این پی کے جنرل سیکرٹری سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے راقم الحروف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال قومی اسمبلی میں آزاد بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن کوئی اچھا کام کرے گی تو نہ صرف خیرمقدم کریں گے بلکہ حمایت کریں گے، بین ہی حکومت کوئی اچھا کام کرتی ہے تو اسے سپورٹ کریں گے۔ وفاقی حکومت سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی یا بلوچستان حکومت کی تبدیلی کے لئے جدوجہد فی الحال ہمارے ایجنڈے میں نہیں ہے۔ حکومت سے علیحدگی کا مقصد ہرگز حکومت گرانے کی کسی کوشش کا حصہ بننا نہیں ہے اپنے مطالبات بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر جان مینگل نے تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی کا اعلان اپنے والد قوم پرست رہنما سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عطا اللہ مینگل کے دباؤ اور اصرار پر کیا ہے، اختر مینگل علیحدگی کا اعلان نہ کرتے تو ممکن ہے پارٹی میں بغاوت ہو جاتی۔ بی این پی میں حتمی فیصلوں کا اختیار عطا اللہ مینگل اور پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے پاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق عطا اللہ مینگل جن کی عمر لگ بھگ 91 برس ہے، کچھ مدت قبل کراچی کے ایک ہسپتال میں طویل عرصہ زیرعلاج رہے اور آج کل دبئی میں مقیم ہیں۔ وہ پہلے دن سے ہی تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان کا ساتھ دینے کے فیصلے کے خلاف تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے اختر جان مینگل کو مقتدر حلقوں کے دباؤ پر وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی حمایت سے منع کیا لیکن مرکزی مجلس عاملہ کی اکثریت نے حکومت کا اتحادی بننے کے حق میں فیصلہ دیدیا جس پر عطا اللہ مینگل نے بادل نخواستہ خاموشی اختیار کرلی اور ساتھ ہی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے وعدے پورے نہ کرنے کے بارے میں انتباہ بھی کیا۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کرنے والے عطا اللہ مینگل واضح طور پر کہتے ہیں کہ دوسری طرف سے کبھی وعدے پورے نہیں کیے گئے اور بوقت ضرورت ہمیں استعمال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی میں دو قسم کے لوگ شامل ہیں، اول نظریاتی جو تمام اچھے برے وقتوں میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، دوسرے وہ لوگ جو پارٹیاں اور وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں جن کا مطمح نظر ڈویلپمنٹ فنڈز، ٹرانسفر پوسٹنگ اور جائز، ناجائز کام ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پارٹی کے چند رہنما، عہدیدار، ارکان اسمبلی عطا اللہ مینگل کی عیادت کرنے گئے تو انہوں نے اختر مینگل کے رویے اور فیصلوں بارے گلہ کیا۔ تحریک انصاف کا ساتھ دینے کے فیصلے سے پہلے سے ناخوش سردار عطا اللہ مینگل نے ناراض رہنماؤں کے موقف کی تائید کی اور اپنے بیٹے سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

اب صورتحال یہ بن چکی تھی کہ پارٹی میں موجود نظریاتی اور وقتی دونوں گروپس تقریباً بغاوت پر اتر آئے تھے، نظریاتی گروپ کا موقف تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت 6 نکاتی معاہدے کے کسی شق پر عمل نہیں کیا گیا، مثال کے طور پر پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کے خاندان کے 20 سے زائد نوجوان عرصہ سے لاپتہ ہیں جن میں ان کے بھانجے اور بھتیجے بھی شامل ہیں، اس طرح شاید ہی کوئی رہنما اور رکن اسمبلی ہو جس کے خاندان کے افراد لاپتہ کی فہرست میں شامل نہ ہوں۔

دوسرا گروپ جو مفادات کی سیاست کرتا ہے، وزیراعلیٰ جام کمال کی طرف سے عدم تعاون من پسند ٹرانسفر پوسٹنگ، جائز ناجائز کام بند کرنے پر صوبائی حکومت سے سخت ناراض ہے اوپر سے مرکزی حکومت سے ڈویلپمنٹ فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے ان کا کام بالکل ٹھپ ہو کر رہ گیا تھا، اس طرح دونوں گروپ متفق تھے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی جائے۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے قبل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس کراچی میں بلایا گیا جس میں سردار عطا اللہ مینگل علالت کی وجہ سے خود تو شریک نہیں ہوئے تاہم ان کی مشاورت ضرور شامل تھی جس کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ منظوری میں بی این پی حکومت کو ووٹ نہیں دے گی اور اس کا اعلان پارٹی سربراہ اختر جان مینگل قومی اسمبلی کے فلور پر کریں گے۔

پارٹی کے ایک ذمہ دار نے نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ہمارا فیصلہ حتمی ہے کیونکہ اب وزیراعظم عمران خان کا ساتھ دینے کا دباؤ ہمارے اوپر سے ہٹ گیا ہے اور ہم اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں، اس لئے پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کی متفقہ رائے کا احترام کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا گیا ہے۔

Facebook Comments HS