پاکستان کرکٹ ٹیم کی مشہور بغاوتیں: کبھی کپتانوں کا سخت رویہ، کبھی معاوضوں کا تنازع
وسیم اکرم کے ساتھی ہی ان کے مخالف
سنہ 1993 میں جاوید میانداد ایک بار پھر شہ سرخیوں میں آئے جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں کپتانی سے ہٹا کر ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے وسیم اکرم کو کپتان بنانے کا فیصلہ کیا۔
حالانکہ پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف واحد ٹیسٹ میں ان کی کپتانی میں جیتی تھی جس میں میانداد نے 92 رنز کی اہم اننگز کھیلی تھی۔
یہ وہی ویسٹ انڈیز کا دورہ ہے جس میں وسیم اکرم، وقار یونس، عاقب جاوید اور مشتاق احمد کو گرینیڈا کے ساحل پر منشیات کے ساتھ پولیس نے حراست میں لیا تھا۔
ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد ٹیم کے کھلاڑیوں نے وسیم اکرم کی کپتانی کے خلاف بغاوت کردی جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کا رویہ کھلاڑیوں کے ساتھ ہتک آمیز ہے۔
اس بغاوت کا اہم پہلو یہ ہے کہ دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ وسیم اکرم کی جگہ وقار یونس کپتان بنا دیے جائیں گے لیکن سلیم ملک درمیان میں سے نکل کر آئے اور کپتان بن گئے۔
اس بغاوت میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ، جس کے سربراہ اس وقت جاوید برکی تھے، نے کھلاڑیوں کو یہ پیغام بھیجا کہ اگر وہ نہیں مانتے تو ایک دوسری ٹیم بنالی جائے گی۔
جب یہ کھلاڑی جاوید برکی اور عارف عباسی سے ملنے گئے تو جاوید برکی نے کھلاڑیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ ’ہم نے تو ٹیم بنا لی ہے۔ آپ لوگ کیوں آئے ہیں۔‘
اس پر راشد لطیف نے کہا کہ ’اگر ایسا ہے تو ہم کیوں آئے ہیں۔ ہمیں ہارون رشید کے ذریعے کیوں پیغام بھجوایا گیا کہ آپ لوگ آکر مل لیں۔‘
اس بغاوت کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت کچھ کھلاڑی فارم میں نہیں تھے اور ٹیم سے ڈراپ ہوچکے تھے یا ڈراپ ہونے کے خطرے سے دوچار تھے۔ لہذا انہوں نے اس وقت وقار یونس کا کندھا استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔
ان کھلاڑیوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ وسیم اکرم سخت گیر کپتان ہیں اور وہ ’دوسرا عمران خان‘ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
راشد لطیف کا کہنا ہے کہ جاوید میانداد کو کپتانی سے ہٹائے جانے کا فیصلہ غلط تھا کیونکہ اس کے بعد ٹیم سنبھل نہ سکی اور اس میں عدم استحکام پیدا ہوا۔
وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وسیم اکرم کے خلاف ہونے والی بغاوت غلط تھی جس کا وہ بھی حصہ بنے تھے۔
یونس خان کے خلاف قرآن پر حلف
یونس خان کے ورلڈ کلاس بلے باز ہونے پر کوئی دو آرا نہیں ہوسکتیں لیکن ان کی کپتانی کے ادوار ہمیشہ ہنگامہ خیز رہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے یونس خان کی قیادت میں 2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا لیکن اسی سال ٹیم کے کئی کھلاڑی ان کے مبینہ سخت رویے کو بنیاد بنا کر انھیں کپتان کے طور پر مسترد کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔
اطلاعات کے مطابق ان کھلاڑیوں میں محمد یوسف، شعیب ملک، شاہد آفریدی، مصباح الحق، رانا نویدالحسن، کامران اکمل اور سعید اجمل شامل تھے۔
یہ کھلاڑی ٹیم کے منیجر یاور سعید کے توسط سے بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے بھی ملے تھے اور یونس خان کے سخت رویے کی شکایت کی تھی کہ وہ بھی ’وسیم اکرم کی طرح عمران خان بننے کی کوشش‘ کر رہے ہیں۔
یونس خان کے سخت رویے سے ناراض کھلاڑیوں نے جوہانسبرگ میں قرآن پر حلف بھی اٹھایا تھا۔
یونس خان نے اسی سال نیوزی لینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ون ڈے سیریز کے بعد کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دورے کے لیے محمد یوسف کپتان بنے لیکن اس دورے میں ٹیم کی خراب کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں محمد یوسف اور یونس خان پر غیرمعینہ مدت کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔
دونوں پر ٹیم میں انتشار پھیلانے کا الزام تھا تاہم 10 ماہ بعد یونس خان کو دوبارہ پاکستانی ٹیم میں شامل کرلیا گیا تھا۔


