فیضی کا فیض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”کچھ دن ہمیں اور دے دو فاروق! “۔
یہ دوست محمد فیضی تھے۔ وہ خزاں کا موسم تھا اور پتوں کے جھڑنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ سردی کیا اور گرمی کیا، کراچی کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا مگر وہ انسانوں کے گرنے کا موسم تھا، خزاں کی ایسی بہار جس نے گلی کوچوں کو لہو میں رنگ دیا۔ شہر میں لاشیں اس رفتار سے گریں کہ زبان اور اصطلاحیں تک بدل گئیں۔ تھانوں اور اسپتالوں سے شام و سحر لرزا دینے والی خبریں آتیں اور ستم ظریف کہا کرتے، آج کا اسکور بیس ہو گیا، پچیس رہا یا تیس۔ حد سے بڑھی ہوئی اذیت میں طنز کے نشتروں کا اسلوب اسی طرح بدل جاتا ہے۔ اُن دنوں یہ دلچسپ جملہ بھی زباں زد عام تھا:” نیپا سے گئے اور چھیپا سے آئے“ یعنی نیپا کے مقام سے جوں ہی گزرے اجل نے آ لیا اور لاش چھیپا کی ایمبولینس نے گھر پہنچائی۔ شہر کی زندگی اُن دنوں اس ڈگر پر تھی۔لوگ باگ گھر سے وضو کر کے نکلتے۔

سبب یہ تھا کہ ایم کیو ایم حکومت میں نہ تھی اور پیپلز پارٹی حکومت میں ہوتے ہوئے بھی بے بس تھی۔ اب کسے رہنما کرے کوئی؟ میں ان دنوں کراچی کی ڈائری لکھا کرتا تھا۔ اپنی تحریروں میں؛میں نے حزب اختلاف یعنی مسلم لیگ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ یہ جماعت مرکز میں تو ایک بڑی پارلیمانی طاقت تھی ہی، کراچی میں بھی قومی اسمبلی کی چھ نشستوں کے ساتھ بڑا وزن رکھتی تھی۔ میرا استدلال یہ تھا کہ اگر حکومت اور حزب اختلاف (ایم کیو ایم) متحارب فریقوں کی حیثیت سے باہم دست و گریباں ہیں تو حزب اختلاف کیوں منہ میں گھگھنیاں ڈالے بیٹھی ہے، وہ کیوں اس پر آواز بلند نہیں کرتی؟ وہ اچھے زمانے تھے، لوگ لکھے کا اثر قبول کرتے، اختلاف ہوتا تو مکالمہ کرتے اور اتفاق کی صورت میں کوئی عملی قدم اٹھانے سے ہرگز نہ ہچکچاتے۔ بدترین خون ریزی کے اس ماحول میں ہر کوئی پریشان تھا، کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی خواہش ہر درد مند کے دل میں کروٹیں لیا کرتی تھی،۔ان تحریروں نے مہمیز کا کام کیا اور دوست محمد فیضی متحرک ہو گئے۔

ایک شام جب میں ابھی گھر پہنچا ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجی: “فاروق! گھر ہی رہنا ،میں پہنچ رہا ہوں۔ شہر غیر محفوظ تھا اور وہ قومی اسمبلی کے رکن تھے، اس کے باوجود میرے یہاں وہ حفاظتی دستے کے بغیر آئے اور کچھ روز قبل لیاقت آباد کی فرنیچر مارکیٹ سے دو ہزار روپے میں خریدے ہوئے معمولی سے صوفے پر بے تکلفی سے پسر کر بیٹھ گئے۔ وہ دیر تک میرے یہاں رہے اور شہر کی صورت حال کے بارے میں تفصیلی گفت گو کی۔ رات پچھلے پہر جب سحر خیز اٹھ کر مصروف مناجات ہو جاتے ہیں، فیضی صاحب نے ہمیشہ سیاہ رہنے والے اپنے گھنے بالوں کی پشت کو سہلایا اور کہا، کچھ دن صبر کرو فاروق! اللہ نے چاہا تو قومی اسمبلی کا اجلاس کراچی میں ہو گا اورہم قاتلوں کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں گے۔

سیاست داں اس قسم کے دعوے کیا ہی کرتے ہیں اور صحافی بھی ان کے خوب عادی ہوتے ہیں۔ اس دعوے کو بھی صحافی نے روایت جانا لیکن اُن کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھی۔ کچھ دنوں کے بعد وہ اسلام آباد تھے جہاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں انھوں نے دھواں دھار تقریر کی، یہاں تک کہ میاں نواز شریف بھی جذباتی ہو گئے۔ اس کہانی کے پس منظر میں میاں صاحب کی تقریر ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ قائد حزب اختلاف نے اس ایوان میں وہی بات کہی جس کا وعدہ دوست محمد فیضی نے میرے غریب خانے پر کیا تھا، یعنی کراچی میں خوں ریزی پر غور کے لیے اسی شہر میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ۔ ایک سیاسی کارکن کے اخلاص اور وعدے پر مجھے اعتبار آ گیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس اپنے مقررہ مقام پر نہ ہو، کہیں اور منعقد ہو جائے، یہ کوئی آسان بات نہیں۔ ویسے بھی ہمارے ہاں حکومت اور حزب اختلاف کے رشتے میں اتنا لحاظ نہیںہوتا کہ کسی معقول تجویز کو اسی جذبے سے قبول کر لیا جائے جس جذبے کے ساتھ وہ کہی جاتی ہے۔اس لیے قومی اسمبلی کا اجلاس تو کراچی میں نہ ہوسکالیکن دوست محمد فیضی اور ان کی جماعت کی کوششوں سے ایک کام ہو گیا۔

4 دسمبر1994ءکا دن کراچی کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔طارق عزیز مرحوم کا نیلام گھر اس زمانے میں کراچی سے رخصت ہو کر لاہور میں شہرت کے جھنڈے گاڑ چکا تھالیکن اُس زمانے کے معروف تاج محل ہوٹل کے وسیع ہال کی شہرت ابھی تک ان ہی دو ناموں سے وابستہ تھی۔اُس روز یہ تاریخی ہال شہر کے نمایاں شہریوں،صحافیوں نیز اراکین قومی اسمبلی سے بھرا ہوا تھا۔مسلم لیگ صرف حزب اختلاف ہی نہیں بلکہ ایوان میں حکومت کی حمایت کرنے والی بعض جماعتوں کے ارکان کو کراچی لانے میں کامیاب ہو چکی تھی۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک منفرد اجتماع تھا جس میں اراکین پارلیمنٹ اور ارباب فکر و نظر نے مل کر ایک ایسے مسئلے پر غور کیا جس سے قوم کے اعصاب شل ہو رہے تھے۔یہ اجتماع محض ایک سیاسی سرگرمی نہ تھی، لہٰذااس کے اثرات شہر بھر میں محسوس کیے گئے ۔ یہی سبب تھا کہ اسی روز شہری، سیاسی ۔صحافتی اور فن کاروں کے ایک غیر اعلانیہ اتحاد نے بہت بڑی واک کا اہتمام کیا جس میں عام شہری از خود شریک ہو گئے۔ یوں، اس روز پورے کا پورا شہر سڑکوں پر نکل آیا اور لوگوں نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں خون ریزی کے خاتمے کے لیے یک جان ہو نے کا اعلان کیا۔

کراچی کی بدامنی کے خاتمے کے ضمن میں ڈاکٹر شعیب سڈل کی قیادت میں ہونے والے آپریشن کی بہت شہرت ہے ۔ یہی آپریشن ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حوصلے کے کم سے کم درجے سے بھی نیچے پہنچے ہوئے پولیس کے اعتماد میں زندگی کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی اور پولیس نے محض اپنے بل بوتے پر شہر کی شاہراہوں اور گلی کوچوں میں کھلے عام دندناتے ہوئے دہشت گردوں کو نکیل ڈال دی۔اس کامیابی کا سہرا جنرل نصیراللہ بابر کے سر باندھا جاتا ہے ،ڈاکٹر شعیب سڈل کو اس کا کریڈٹ دیا جاتا ہے یا اس جرا¿ت مندانہ فیصلے کے لیے محترمہ بے نظیر بھٹو کی تعریف کی جاتی ہے۔ یہ سب لوگ تعریف کے مستحق ہیں لیکن یہ سب کیسے ممکن ہو گیا؟ اس کے لیے دوست محمد فیضی نے، اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، کسی تمغے یا کریڈٹ کی خواہش کے بغیر پس منظر میں رہ کر جو کام کیا، کم لوگ ہی اس سے واقف ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply