خفیف مخفی کی خواب بیتی


میرے اہلِ خانہ میں اہلیہ کے بعد فیصل میرا سب سے بڑا نقاد ہے بلکہ کبھی کبھی تو مجھے شک ہونے لگتا ہے کہ مجھے باقاعدہ ناپسند کرتا ہے۔ گھنا ہے، ماں کا اندھا طرف دار ہے اور کہیں مجسٹریٹ لگا ہوا ہے۔ اس کے خیال کے مطابق میں خاندان کی تباہی کا ذمہ دار ہوں، حالانکہ میں نے کہاں خاندان کو تباہ کیا ہے، میری سمجھ سے باہر ہے۔ اور پھر خاندان تباہ کہاں ہوا ہے۔ وہ خود مجسٹریٹ درجہ اول لگا ہوا ہے حالانکہ میرا بیٹا ہونے کی وجہ سے اسے کہیں درجہ سوم یا چہارم میں ہونا چاہیے تھا بلکہ سرے سے مجسٹریٹ ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ منجھلی بیٹی عذرا اچھی خاصی لیکچرار ہے انگریزی زبان کی۔ چھوٹا مناف طب کی اعلی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ پھول نگر کے اِس نیم پہاڑی قصبے میں مرکزی رہایش گاہ کے علاوہ ہمارے ملکیتی کئی مکانات ہیں۔ دوکانیں کرائے پر چڑھی ہوئی ہیں۔ قصبے کے اطراف میں کافی مناسب زرعی اراضی بھی ہے جہاں مونگ پھلی، دالوں، سرسوں اور تِل کی کاشت ہوتی ہے۔ یہ اگرکسی خاندان کی تباہی کی نشانیاں ہیں تو خوشحالی خدا جانے کیا ہو گی۔

لیکن میں فیصل سے زیادہ بحث نہیں کرتا۔ ڈرتا ہوں مجھے تو کچھ کہے گا نہیں لیکن آخر مجسٹریٹ ہے کل کلاں کہیں مجھ سے ملتی جلتی شکل والے کسی بدنصیب پر ظلم کے پہاڑ نہ توڑ دے۔ چھوٹے دونوں البتہ مجھ سے خوب لڑتے جھگڑتے ہیں، بحث کرتے ہیں۔ عذرا تو میرے کام میں بھی دور دور سے بقول اس کے ’محفوظ فاصلے‘ سے دلچسپی لیتی ہے۔ کبھی کبھار جب مخفی علوم پر پیرس سے چھپنے والے مجلے La occulte میں مسلسل لکھنے والے ماورائے حقیقی علوم کے ماہر موسیو لا فاں میرے کسی کام کی رپورٹ پر جذباتی ہو کر فرانسیسی میں ہی خط لکھ ڈالتے ہیں تو عذرا اپنی یونیورسٹی کے فرانسیسی ڈپارٹمنٹ سے میرے لیے اس کا ترجمہ کروا کے لاتی ہے۔ اور بقول اس کے اسے میرے سائیکک ایڈوینچرز کا بلواسطہ علم ہو جاتا ہے۔ چھوٹا مناف تو بہت ہی کھلا ہوا ہے۔ کبھی کبھی آنکھ دبا کربدمعاشی سے سر ہلا کر کہتا ہے ”ابا آپ ویسے ہیں بڑی شے۔ “ یا پھر بڑی سنجیدگی سے پوچھے گا ”ابا کیا بھوتوں کے گردے فیل ہو سکتے ہیں؟ “

یہ دونوں محکم دین سے چھیڑ چھاڑ بھی کر لیتے ہیں اور اسے ’انکل بینڈا‘ کہتے ہیں۔ یہ نام برسوں پہلے اہلیہ نے اسے دیا تھا۔ میرے استفسار پر اِس توہین آمیز سی آواز والے لفظ کی تشریح اس نے یہ کی تھی کہ یہ بھینسے اور گینڈے کے غیر فطری ملاپ کا نتیجہ ہے۔ میں نے کہا پھر تو گھینسا بھی ہو سکتا ہے۔ اچانک مجھے فیصل کی آواز آئی ”نہیں۔ بینڈا ہی ہے انکل بینڈا ہی ہے۔ ہم یہی کہیں گے۔ “ وہ ادھر ہی کہیں چھپا بیٹھا شاید ہوم ورک کر رہا تھا۔ میں سخت پریشان ہو گیا کیونکہ اِس موضوع کے کچھ پہلو بہر حال ایسے نہیں تھے کہ بچوں کے سامنے زیربحث لائے جاتے۔ میں خاموش ہی رہا اور محکم دین بینڈا ہی رہا بلکہ ثریا بیگم نے مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک دفعہ یہ فیصلہ بھی دیا ”یہی شخص آپ کو تباہ کرنے والا ہے۔ “ حالانکہ محکم دین اور مجھے تباہ کرے گا۔ حد ہے۔

وہ بے چارہ تو خود ہر وقت شاکی رہتا ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی میری روحانی، ماورائے طبعی تحقیقی سرگرمیوں کو ممکن بنانے کے لیے تباہ کر چکا ہے۔ اگرچہ میں مکمل طور پر اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ خیر یہ بھی ایک نازک موضوع ہے جس کی جھلکیاں یادداشتوں میں اکثر دیکھنے میں آئیں گی۔ بہرحال ویسے اِس بے چارے کی حالت یہ ہے کہ میرے خاندان کے کِسی بھی فرد کو دیکھتے ہی انتہائی مدافعت کی حالت میں آ جاتا ہے۔ گتھلے کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے اور خاموش ہو کر سکڑنے اور سمٹنے لگتا ہے یعنی جس حد تک بھی اس کے لیے ممکن ہو۔

تیسری علیحدگی غالباً چوتھی صلح پر ختم ہوئی تھی لیکن افسوس وہ صلح بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی تھی۔ اہلیہ کے نزدیک اس بار قضیے کی اصل وجہ ’وہی حرافہ‘ تھی۔ یقینا اس کا اشارہ مہ جبین کی طرف تھا جیسے کہ اس سے پہلے ’اس چڑیل‘ سے اس کی مراد غزالہ فیروز تھی اور اس سے بھی پہلے ’وہ کلموہی‘ اصل میں مشہور شاعرہ فریدہ لازاری تھی اور خیر چھوڑیں یہ معاملات بھی شاید ان یادداشتوں میں کوئی نہ کوئی مقام حاصل کر ہی لیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس دفعہ چوتھی علیحدگی پر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ غیر ازدواجی سکون کے ان لمحات کو بھر پور تخلیقی انداز میں صرف کروں اور مدتوں سے التوا میں پڑے اپنی ماورائے حقیقی ’یادداشتیں‘ مرتب کرنے کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا دوں تاکہ اہلیہ کو بھی معلوم ہو کہ مونگ پھلی کی کاشت اور تجارت میری بھرپور توجہ کے بغیر بھی ٹھیک ٹھاک چل سکتی ہے او ر عمر بھر چلتی رہی ہے لیکن ’بھوتوں سے کھلواڑ‘ ، ’بدروحوں سے گٹھ جوڑ‘ یا ’آسیبی یارانے‘ (کچھ تحقیر آمیز الفاظ جو ثریا بیگم ماورائے حقیقی معاملات پر میری تحقیقی سرگرمیوں کے حوالے سے استعمال کرتی ہے ) بہرحال میری مکمل توجہ چاہتے ہیں اور انہی کی بدولت اور موسیو لافاں کی مردم شناسی کی بدولت میرے شعبے میں اب میرے کام کو عالمی سطح پر اہمیت دی جاتی ہے۔ اور اسی لیے مخفی علوم پر مبنی مقامی مجلے ’اسرار‘ کے ایڈیٹر اور میرے دوست نجف جبلی صاحب بھی اب مصر ہیں کہ ”اب تو جناب آپ کی یہ حیرت انگیز یادداشتیں چھپ ہی جانی چاہیں کیونکہ اب مخفی علوم میں سائنسی دلچسپی ہمارے ہاں بھی بڑھ رہی ہے۔ “ اس کہ وجہ وہ بعض ہارر فلموں اور مغربی مصنفین کی لکھی چند کتابوں کی مقبولیت بتاتے ہیں۔

مختصر یہ کہ میں اب یہ سب کر گزرنے کے مصمم ارادے کے ساتھ اِس چوبارے میں ہوں اور محکم دین بہت خوش ہے کیونکہ میرے اِس مسکن میں اسے میرے کسی بیٹے بیٹی اور خاص طور پر اہلیہ کی اچانک آمد کا کوئی خطر ہ نہیں۔ فیصل کو تو علم بھی نہیں کہ میں اِس دفعہ گھر سے اپنا ضروری سازوسامان اٹھا کر یہاں اٹھ آیا ہوں، عذرا اور مناف البتہ جانتے ہیں لیکن دوسرے شہروں میں اپنی اپنی درسگاہوں میں ہیں باقی رہی اہلیہ تو وہ بھلا یہاں کیوں آئے گی۔ علیحدگی خواہ چوتھی دفعہ ہی کیوں نہ ہو کوئی مذاق تو نہیں کہ الگ بھی ہو گئے اور ملتے بھی رہے۔ تو خیر محکم دین مزے میں ہے اور اس دفعہ ادھر جو نیا فرنیچر میں نے ڈلوایا ہے اسے بے دریغ استعمال کررہا ہے۔ ایک پاوں چھوٹے صوفے کے بازو پر ہے دوسرا درمیانی میز پر، ٹانگیں بیچ میں ترازو ہیں اور دھڑ لمبے صوفے پرگتھلے سمیت تمام گدیوں کے ڈھیر میں آڑا ترچھا پڑا ہے۔ سگریٹ کا ٹوٹا ایش ٹرے میں ہے مگر راکھ سارے کمرے میں بکھرائی ہوئی ہے اور اِسے ٹوٹا کہنا بھی زیادتی ہو گی کیونکہ محکم سگریٹ اس وقت تک پیتا رہتا ہے جب تک کہ فلٹر کو آگ نہیں لگ جاتی اور انگلیاں جلنے کی حدود شروع نہیں ہو جاتیں۔ میں سوچتا ہوں اسے تھوڑا تمیز سے بیٹھنا چاہے۔ آخر نیا فرنیچر ہے اور اب اِس نے ادھر آتے ہی رہنا ہے کم ازکم جب تک میری یہ occultبلکہ paranormal یادداشتیں مکمل نہیں ہو جاتیں۔ مگر کیسے اسے کہا جائے محکم کو کہ یار ذرا ڈھنگ سے بیٹھو؟ اچانک مجھے باہر صحن سے کوئی آہٹ سنائی دیتی ہے۔ میرے ذہن میں ترکیب آتی ہے اور میں یکدم کہتا ہوں۔

”ثریا بیگم ہے شاید۔ “

محکم دین پر شدید ہڑبڑاہٹ اور بوکھلاہٹ کا دورہ پڑتا ہے۔ اک دم سے اٹھنے، سمٹنے، سیدھے ہو کر بیٹھنے اور افراتفری کے عالم میں پتہ نہیں کیا کچھ کر گزرنے کے چکر میں وہ میز اور صوفے کی درمیانی خلا میں لڑھک جاتا ہے فرش تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے تو میز اس کی مدد کو آتی ہے اور لمبائی کے رخ میز کی دونوں ٹانگیں ہوا میں اٹھ جاتی ہیں اور محکم دین ایش ٹرے، چائے کے برتنوں، جگ، گلاس اور پھول نگر کی مشہورِ زمانہ بادامی برفی سمیت فرش پر جا گر تا ہے۔

”ستیاناس۔ ستیاناس۔ بیڑا غرق۔ “ میں اچھل کر کھڑا ہو جاتا ہوں۔ دھماکہ اتنا شدید ہے کہ کمرے کے باہر صحن کی دیوار پر بیٹھے کوئے اور شارکیں کائیں چائیں کرتے ہوا میں اڑ جاتے ہیں کہ یہ کیا آفت آئی ہے۔ آفت کے نتیجے میں میز کے نیچے دبے محکم دین کی کوئی حرکت مجھے نظر نہیں آتی۔ لگتا ہے اس کا اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں صرف اس کی پھنسی پھنسی آواز سنائی دیتی ہے۔

”آ گئی ہیں؟ “

”نہیں یار مجھے غلط فہمی ہوئی تھی۔ لا ادھر مجھے ہاتھ پکڑا۔ “ میں دل ہی دل میں اپنی ترکیب کی ایسی ناکامی پر اپنے آپ پر لعنت بھیجتے ہوئے کہتا ہوں لیکن وہ میرا ہاتھ پکڑنے کی بجائے خود ہی میز اور کراکری کو پر شور آواز میں ہر طرف گراتا اور خود بھی گرتا پڑتا اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ کچھ دیر پھولی ہوئی سانس اور خشمگیں نظروں سے میری طرف دیکھتا رہتا ہے پھر انتہائی غصیلے لیکن میں سمجھتا ہوں قابلِ معافی لہجے میں کہتا ہے۔

”دیکھ مخفی تو سوچ سمجھ کر بات کیا کر۔ کبھی بندا کِس حال میں ہوتا ہے کبھی کِس حال میں“

اور وہ خود کافی بدحال نظر آ رہا ہے۔ اس کی چارخانہ بش شرٹ پانی سے بھیگ چکی ہے اور ماچس کی ڈبیہ کے سائز کے ہر خانے میں چائے کی ابلی پتی کے ذرے چپک کر انو کھے ڈئزاین بنا رہے ہیں۔ وہ گری ہوئی چیزوں کو واپس رکھنے میں میری کوئی مدد نہیں کرتا اور سیدھا غسل خانے کا رخ کرتا ہے اور گتھلے کو بھی سمیٹ کر ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔ میں حیران رہ جاتا ہوں۔

”اِس کا وہاں کیا کرے گا؟ خدا کے بندے! “

”بنڈی بھی بدلنی پڑے گی۔ “ وہ کراہتا ہے اور اس کی بات مجھے سمجھ آ جاتی ہے۔ پھر وہ کچھ سوچ کرگتھلے کو غسل خانے میں ہمراہ لے جانے کا ارادہ ترک کردیتا ہے اور اسے وہیں صوفے پر رکھ کر اس میں سے بنڈی برآمد کرنے کے عمل کا آغاز کرتا ہے۔ اور میں ٹوٹے ہوئے کپ، بادامی برفی کی بکھری ڈلیوں اور الٹی ہوئی میز کو بھول کر اس کے اس نئے مظاہرے میں دلچسپی لینے لگتا ہوں اور اپنی دلچسپی پر شرمندہ سا حیران بھی ہوتا ہوں۔ وہ گتھلے کے عین درمیان لمبی زپ اتنی آہستگی اور صفائی سے کھولتا ہے جیسے قصائی الٹے لٹکے بکرے کا پیٹ چاک کرتا ہے۔ خدا معاف کرے مجھے اور بھی کئی برے برے خیال آتے ہیں اور پھر سوچتا ہوں کہ بس اب وہ ہاتھ ڈال کر اپنی بنڈی نکال لے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ وہ ہاتھ ڈالتا ضرورہے لیکن جو چیز باہر نکالتا ہے وہ کم از کم بنڈی ہرگز نہیں ہو سکتی۔

یہ ایک بکسوا ہے جسے وہ بڑی احتیاط سے ایک طرف رکھ دیتا ہے پھر ایک پلاس باہر آتا ہے پھر کھجور کی تین گٹھلیاں۔ دو کیل۔ چاندی کا خلال۔ سوئی دھاگہ۔ پھر سوئی دھاگہ۔ ایک اخروٹ۔ فیسرین کریم کی خالی شیشی۔ فیسرین کریم کی بھری ہوئی شیشی۔ سوڈے کی بوتلوں کے ڈھکن۔ ٹنکچرآیوڈین۔ روئی کے پھائے۔ اگر بتی۔ موم بتی۔ ادھ کھایا بھنا مکی کا بھٹا۔ ایک پیکٹ چوئے مار گولیاں۔ دو ریوڑیاں۔ کنگھا۔ کنگھی۔ موچنا۔ دستی آئینہ۔ ایک ہتھوڑا۔ پھر چار کیل۔ اسپرو کی گولیاں۔ بہت سے بٹن۔ چھ انچ ضرب چار انچ کی ایک بلیک اینڈ وائٹ فوٹو جس میں محکم دین ایک بھس بھرے شیر کی کمر پر تھپکی دے رہا ہے اور پیچھے پردے پر ایک تصویری حسینہ فلک بوس برف پوش پہاڑوں کے درمیان کھڑی محکم دین کی طرف دلربائی سے دیکھ رہی ہے۔ اس کا ایک گال زیادہ پھولا ہوا ہے غالباً وہ پان کھا رہی ہے محکم تیزی سے فوٹو کو الٹ کر میری طرف کنکھیوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن میں پہلے ہی ’کچھ نہ دیکھتا‘ بن چکا ہوں، میز سیدھا کرتا ہوں اورلاپروائی سے پوچھتا ہوں۔

”ہاں ملی بنڈی؟ “

”بس آنے ہی والی ہے“ وہ کہتا ہے اور ایک کتاب ’رہنمائے چٹنیاں مربے اچار‘ جیسی کوئی چیز نکال کر ایک طرف رکھتا ہے۔ اور پھر مجھے کاغذوں کی کھڑکھڑاہٹ سی سنائی دیتی ہے دیکھتا ہوں اب وہ اخبار میں لپٹا ہوا ایک پیکٹ سا باہر نکال رہا ہے۔

”ایک فالتو ساتھ رکھتا ہوں۔ “ وہ رازدارانہ لہجے میں کہتا ہے۔ یقینا وہ بنڈی کے بارے میں مجھے اعتماد میں لے رہا ہے۔

”اچھی بات ہے۔ “ میں اس کی دوراندیشی کی تعریف کرتا ہوں اور پھر یک دم کمرے میں صدیوں پرانے کپڑوں کی بو پھیل جاتی ہے۔ دیکھتا ہوں تو بنڈی اس کے ہاتھ میں ہے۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2